ہماری تک بندیاں

ابن سعید — مئی 11، 2012 6:13 شام
you did not ask lala why i am writing in rooman Urdu or English. Hehehehe. Mojan. Ab to mein jaisy marzi likhon:p
ہم کو کیا پتا؟ ہم تو جمعہ کی نماز کے لئے مسجد جا رہے ہیں۔ :) :) :)
ناعمہ عزیز — مئی 11، 2012 6:16 شام
ہم کو کیا پتا؟ ہم تو جمعہ کی نماز کے لئے مسجد جا رہے ہیں۔ :) :) :)
Ok than am also not gonna tell you Bacho g hehehe. Remember me in your prayers lala.
ابن سعید — مئی 11، 2012 7:18 شام
Ok than am also not gonna tell you Bacho g hehehe. Remember me in your prayers lala.
ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہے کہ آپ فون استعمال کر رہی ہیں۔ :) :) :)
فاتح — مئی 11، 2012 7:51 شام
خیر یہ دعوی تو ہم بھی کر سکتے ہیں فاتح لالہ اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال کلبلی مار رہا ہے تو ہم سے پوچھ لیجیے :p
ارے سوال کی جرات ہے کہ کلبلی مار سکے ہمارے دماغ میں
امیداورمحبت — مئی 11، 2012 7:55 شام
توبی کیجئے بچی! ایسے فال منہ سے نہیں نکالتے۔ :) :) :)
پتہ نہیں کیوں باعث حیرت تھا آپ شاعر ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:)
ابن سعید — مئی 11، 2012 7:56 شام
پتہ نہیں کیوں باعث حیرت تھا آپ شاعر ہونا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:)
پگلی، بٹیا رانی! حیران نہ ہوں۔ ہم شاعر نہیں بلکہ تک بند ہیں۔ :) :) :)
فاتح — مئی 11، 2012 7:58 شام
پتہ نہیں کیوں باعث حیرت تھا آپ شاعر ہونا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:)
آپ کی حیرت بجا تھی کیونکہ یہ پیسے دے کر لکھواتے ہیں کسی سے۔۔۔ اور اگر یہ پوچھنا ہو کہ کس سے تو اس کے پیسے لگیں گے۔ :ROFLMAO:
ابن سعید — مئی 11، 2012 7:59 شام
آپ کی حیرت بجا تھی کیونکہ یہ پیسے دے کر لکھواتے ہیں کسی سے۔۔۔ اور اگر یہ پوچھنا ہو کہ کس سے تو اس کے پیسے لگیں گے۔ :ROFLMAO:
کیوں گہار کر رہے ہیں، کیا آپ کو وقت پر ہفتہ نہیں ملا؟ :) :) :)
امیداورمحبت — مئی 11، 2012 8:00 شام
آپ کی حیرت بجا تھی کیونکہ یہ پیسے دے کر لکھواتے ہیں کسی سے۔۔۔ اور اگر یہ پوچھنا ہو کہ کس سے تو اس کے پیسے لگیں گے۔ :ROFLMAO:

یہ اہل اسلام آباد بنا پیسوں کے بھی کبھی کوئی کام کرتے ہیں کیا ؟؟؟:)
فاتح — مئی 11، 2012 11:38 شام
یہ اہل اسلام آباد بنا پیسوں کے بھی کبھی کوئی کام کرتے ہیں کیا ؟؟؟:)
ویسے تو اس سوال کا جواب بھی پیسے لے کر ہی دینا تھا لیکن آپ سے پرانی یاد اللہ ہے لہٰذا مفت میں بتائے دیتے ہیں کہ اہلِ اسلام آباد پر اہلِ سیاست کے خربوزوں کا رنگ چڑھ چکا ہے۔
ویسے اگر اسلام آباد میں چند روز رہ لینے سے ہم کلانچی کے باسی اہلِ اسلام آباد کا لقب پا جاتے ہیں تو اس ہجوم میں تو بے شمار دوست آ جاتے ہیں۔
فاتح — مئی 11، 2012 11:39 شام
کیوں گہار کر رہے ہیں، کیا آپ کو وقت پر ہفتہ نہیں ملا؟ :) :) :)
کام اتوار سے جمعے تک لگاتار کرواتے ہیں اور دیتے صرف ہفتہ ہیں۔۔۔ یہی ہو گا نا۔۔۔
ابن سعید — مئی 11، 2012 11:41 شام
یہ اہل اسلام آباد بنا پیسوں کے بھی کبھی کوئی کام کرتے ہیں کیا ؟؟؟:)
اس کا مخفف "اسلام آبادی" نہیں استعمال کیا جا سکتا؟ :) :) :)
ابن سعید — مئی 11، 2012 11:42 شام
کام اتوار سے جمعے تک لگاتار کرواتے ہیں اور دیتے صرف ہفتہ ہیں۔۔۔ یہی ہو گا نا۔۔۔
تو کیا آپ کے شعبے میں ہفتہ وصولی کی بدعت نہیں پائی جاتی ہے؟ :) :) :)
مقدس — مئی 11، 2012 11:42 شام
فاتح بھیا ہمیں پوچھنا ہے کچھ
عبدالعزيز افضل — مئی 12، 2012 12:14 صبح
بہت خوب ابن سعید صاحب۔ بہت اعلیٰ دونوں غزلیں بہت اعلی ہیں
میرا بهي مشورہ ہے کہ اردو محفل کے اچھے شعراء میں ابنِ سعید تک بند کا نام لکھ لیا جائے۔
ابن سعید — مئی 12، 2012 12:25 صبح
بہت خوب ابن سعید صاحب۔ بہت اعلیٰ دونوں غزلیں بہت اعلی ہیں
میرا بهي مشورہ ہے کہ اردو محفل کے اچھے شعراء میں ابنِ سعید تک بند کا نام لکھ لیا جائے۔
شکریہ محترم!
ویسے دونوں غزلوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ :) :) :)
عبدالعزيز افضل — مئی 12، 2012 12:30 صبح
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
آج قدموں میں ہمارے بھی کنارہ ہوتا
(y) (y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)
دریا میں بہتے آب کے دھاروں میں ہے تپش
ہے موج بیچ میں تو کناروں میں ہے تپش
عبدالعزيز افضل — مئی 12، 2012 12:33 صبح
ميں نے آپ كے اندر ايك چيز نوٹ كي هے ۔۔ ابن سعيد بهائي ۔۔۔ آپ كا هر شخص سے بات كرتے وقت آپ كا لب و لهجه بدل جاتا هے ۔۔۔ سامنے والے شخص كے حساب سے ۔۔ يه ايك اچها هنر هے ميرے نزديك
ابن سعید — مئی 12، 2012 12:40 صبح
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
آج قدموں میں ہمارے بھی کنارہ ہوتا
(y) (y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)(y)
دریا میں بہتے آب کے دھاروں میں ہے تپش
ہے موج بیچ میں تو کناروں میں ہے تپش

خیر ہم انھیں تک بندیاں کہتے آئے ہیں۔ آپ غزل کہنے پر بضد ہیں تو یوں ہی سہی۔ پسندیدگی و پذیرائی کا ایک بار پھر سے شکریہ۔ :) :) :)
ابن سعید — مئی 12، 2012 12:42 صبح
ميں نے آپ كے اندر ايك چيز نوٹ كي هے ۔۔ ابن سعيد بهائي ۔۔۔ آپ كا هر شخص سے بات كرتے وقت آپ كا لب و لهجه بدل جاتا هے ۔۔۔ سامنے والے شخص كے حساب سے ۔۔ يه ايك اچها هنر هے ميرے نزديك
ہمارا نہیں خیال کہ یہ کوئی منفرد و ممتاز خصوصیت ہے۔ ایسا تو تقریباً سبھی کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہر کسی سے مراسم و تکلفات کے مختلف درجات طے پا جاتے ہیں اور ان دائروں کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے ہی مخاطب سےگفتگو کی جاتی ہے۔ :) :) :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.11204/page-10