ہماری تک بندیاں

محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 6، 2015 5:57 شام
آپ کو کیوں انتظار ہے بھلا؟ ابھی حال ہی میں تو رابعہ کی ساس کو بتاشہ خریدنے کے لیے بھیجا گیا تھا:):) :)

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
اُس کہانی کو جو تھا آپ نے پیروڈایا
لاجواب آپ نے پیروڈی بنائی بھائی
ہم کو پہلی ہی نظر میں تھی وہ بھائی ' بھائی!
آج سے آپ کو استاد کہے دیتے ہیں
بن کے شاگرد یونہی سامنے آبیٹھے ہیں​
جاسمن — دسمبر 7، 2015 5:07 صبح
جاسمن بٹیا، کہیں یہ کسی رشوت حسنہ کے دباؤ میں کہی ہوئی بات تو نہیں؟ :) :) :)
ہاہاہاہا۔۔۔۔جی آپ ہی سے تو لی ہوئی ہے آپ کے لئے جھوٹ موٹ واہ واہ کرنے کے لئے۔۔۔
سعود بھائی! بہنا کہہ دیا کریں۔۔۔۔جب آپ بٹیا کہتے ہیں تو قسم سے جی چاہتا ہے محفل میں بچوں والے سیکشن میں چلے جائیں اور عمرو عیار اور سامری جادوگر کی کہانیاں پڑھا کریں۔۔۔۔
نور وجدان — دسمبر 7، 2015 7:15 صبح
آزاد تک بندی
تمھارے آنے سے!
محفل میں جان آئی ہے
تھرکے ہیں کچھ نئے جذبات
مہکی ہے اک نئی خوشبو
گونجی ہے اک انوکھی صدا۔
تمھارے قلم میں!
لگتا ہے روشنائی نہیں
آنسؤوں کے قطرے ہیں
یا لہو بھرا ہے
بسمل جذبات کا۔
تمھارے الفاظ!
کتنی تپش ہے ان میں
یہ تیز نشتر ہیں
یا جادو کے بول
کہ سنگ بھی پگھل جائے۔
تمہاری تحریریں!
دل کے نہاں خانوں میں
چنگاریاں جگاتی ہیں
اداس کرتی ہیں
پھر بھی بھاتی ہیں۔
اور تم!
کوئی الجھی ہوئی
تحریر ہو
یا اپنی تحریروں کی
مجسم تصویر ہو!!

سعود عالم ابن سعید
لا جواب
محمد تابش صدیقی — دسمبر 7، 2015 8:35 صبح
ماشاء اللہ۔ بہت عمدہ ابنِ سعید بھائی۔
آپ کی تک بندیوں کو شاعری کہنے کی تک بنتی ہے۔
ورنہ آج کل بہت سے خود ساختہ شاعر ایسے بھی ہیں جن کی شاعری کو تک بندی کہنے کی تک بھی نہیں بنتی۔
ایک نشست میں مکمل لڑی تو نہ دیکھ سکا۔ جہاں تک پڑھا، یہ اشعار بہت بھائے۔
آج کس منھ سے میں امیدِ شفاعت رکھوں
اسمِ وحدت جو کبھی لب سے گزارا ہوتا

رہگزر زیست کی لمبی سہی دشوار سہی
سہل ہو جاتی اگر تیرا سہارا ہوتا

آنکھوں کو ٹھنڈ دیتی ہے تاروں کی روشنی
کہتے ہیں لوگ پھر بھی ستاروں میں ہے تپش

اس عشق کی بازی میں کیا کیا نہ ہوا اب تک
سو ہار لکھے لیکن اک جیت نہ لکھ پائے

مت سنو اس کو جو جہاں بولے
سچ تو وہ ہے جو آئینہ بولے

جھوٹ ہیں مکر ہیں بہار کے رنگ
سچ جو بولے تو بس خزاں بولے

کچھ پھول یہاں رنگوں سے عاری بھی کھلے تھے
پر آج انھیں پیڑوں کی شاخوں پہ ثمر ہے

چہروں پہ کئی چہرے لپیٹے ہیں یہاں لوگ
جو بھانپ لے سچائی وہی اہل نظر ہے

مت مانو کہ باتیں ہیں یہ سو سال پرانی
شہرت ہے یہی اس کی کہ یہ تنگ نظر ہے

ہیں ازل سے جنگ میں آندھی چراغ
اور مسافر آئے ٹھہرے چل دیے

ایک بار پھر بہت سی داد
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 1:18 شام
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
اُس کہانی کو جو تھا آپ نے پیروڈایا
لاجواب آپ نے پیروڈی بنائی بھائی
ہم کو پہلی ہی نظر میں تھی وہ بھائی ' بھائی!
آج سے آپ کو استاد کہے دیتے ہیں
بن کے شاگرد یونہی سامنے آبیٹھے ہیں​
ظالمو! ظلم کی تعریف بگڑ جائے گی
بیچ تک بندی یہ پیروڈی کدھر جائے گی
یوں جو استاد ہی کہنے لگے استاد ہمیں
شرم سے ڈوب کے استادی بھی مر جائے گی
:) :) :)
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 1:23 شام
ہاہاہاہا۔۔۔۔جی آپ ہی سے تو لی ہوئی ہے آپ کے لئے جھوٹ موٹ واہ واہ کرنے کے لئے۔۔۔
ہمیں تو لگ رہا تھا کہ واہ واہی والی رشوت حسنہ کا اسٹاک ہی ختم ہو چکا ہے۔ :) :) :)
سعود بھائی! بہنا کہہ دیا کریں۔۔۔۔جب آپ بٹیا کہتے ہیں تو قسم سے جی چاہتا ہے محفل میں بچوں والے سیکشن میں چلے جائیں اور عمرو عیار اور سامری جادوگر کی کہانیاں پڑھا کریں۔۔۔۔
جاسمن بٹیا، اب اس بڑھاپے میں ہماری عادتیں آسانی سے کہاں بدلنے والی ہیں بھلا۔ :) :) :)
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 1:27 شام
ہمیں شبہ ہو رہا ہے کہ کہیں یہ سارا قصہ اس لفظ "بسمل" کا تو نہیں؟ :) :) :)
ہمارے ریسرچ ایڈوائزر کا ماننا ہے کہ کسی کمپیوٹر سائنٹسٹ کا دن تب تک مکمل نہیں مانا جا سکتا جب تک وہ کینونیکل، آرتھاگونل، اور اوپیک کو اپنے جملوں میں استعمال نہ کر لے۔ :) :) :)
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 1:31 شام
ماشاء اللہ۔ بہت عمدہ ابنِ سعید بھائی۔
آپ کی تک بندیوں کو شاعری کہنے کی تک بنتی ہے۔
ورنہ آج کل بہت سے خود ساختہ شاعر ایسے بھی ہیں جن کی شاعری کو تک بندی کہنے کی تک بھی نہیں بنتی۔
ایک نشست میں مکمل لڑی تو نہ دیکھ سکا۔ جہاں تک پڑھا، یہ اشعار بہت بھائے۔
ایک بار پھر بہت سی داد
برادرم صدیقی، محبت ہے آپ کی جو ان الفاظ سے نوازا۔ :) :) :)
فہیم — دسمبر 7، 2015 1:35 شام
برادرم صدیقی، محبت ہے آپ کی جو ان الفاظ سے نوازا۔ :) :) :)
سعود بھائی یہ محترمہ مقدس صاحبہ کا کچھ اتہ پتہ ہے آپ کو؟
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 1:41 شام
سعود بھائی یہ محترمہ مقدس صاحبہ کا کچھ اتہ پتہ ہے آپ کو؟
ہم باقاعدگی سے خیر خیریت پوچھتے اور بتاتے رہتے ہیں۔ :) :) :)
البتہ ان کی طرف سے کوئی خبر نہیں!
فہیم — دسمبر 7، 2015 1:44 شام
ہم باقاعدگی سے خیر خیریت پوچھتے اور بتاتے رہتے ہیں۔ :) :) :)
البتہ ان کی طرف سے کوئی خبر نہیں!
اللہ خیر کرے۔
نازنین شاہ — دسمبر 7، 2015 5:22 شام
نازنین بٹیا، آپ کی پذیرائی و نوازش کے عوض سراپا سپاس ہیں۔ :) :) :)
ہم نے تو بس یوں ہی گنگنا کر الفاظ ترتیب دیے تھے، لیکن بعض سگریٹ نوشوں کا خیال ہے کہ "لبوں سے گویا چھو لیا، شرار سا اڑا دیا" میں ان کا بیان ہے، البتہ اس کے بعد والے مصرع پر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ :) :) :)

ارے واہ بھیا آپ تو کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ورنہ آپ کا لکھا کسی " تعارف اور تعریف " کا محتاج نہیں
یہ جو ہم لوگ (کہ ہمیں کب سراہنا آتا ہے) اپنی سی کوشش کر بھی لیں تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہی ہے بس
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 5:28 شام
ارے واہ بھیا آپ تو کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ورنہ آپ کا لکھا کسی " تعارف اور تعریف " کا محتاج نہیں
یہ جو ہم لوگ (کہ ہمیں کب سراہنا آتا ہے) اپنی سی کوشش کر بھی لیں تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہی ہے بس
بٹیا! آپس کی بات ہے، ہمیں پہلے تعریف ذرا کم کم سی لگی تھی اسی لیے "کسر نفسی" سے کام لے کر تعریف مزید فیہ حاصل کر لی اور یوں مراد بر آئی! :) :) :)
نازنین شاہ — دسمبر 7، 2015 5:45 شام
بٹیا! آپس کی بات ہے، ہمیں پہلے تعریف ذرا کم کم سی لگی تھی اسی لیے "کسر نفسی" سے کام لے کر تعریف مزید فیہ حاصل کر لی اور یوں مراد بر آئی! :) :) :)

ہمممم ہوشیار بھیا تو یہ بات تھی:)
میں بھی کہوں یہ ہمارا چراغ کیوں تھر تھرا رہا ہے
ظاہر ہے سورج کے سامنے اور وہ بھی بچارا ننھا منا سا چراغ:fingers-crossed:
لیجیے ہم نے چراغاں کر دیا :):):):)
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 5:53 شام
ہمممم ہوشیار بھیا تو یہ بات تھی:)
میں بھی کہوں یہ ہمارا چراغ کیوں تھر تھرا رہا ہے
ظاہر ہے سورج کے سامنے اور وہ بھی بچارا ننھا منا سا چراغ:fingers-crossed:
لیجیے ہم نے چراغاں کر دیا :):):):)
یعنی کہ چنانچہ بے ایمانیوں کی بھی حد ہوتی ہے بھئی! :) :) :)
نازنین شاہ — دسمبر 7، 2015 6:02 شام
یعنی کہ چنانچہ بے ایمانیوں کی بھی حد ہوتی ہے بھئی! :) :) :)

یعنی کہ سوچ لیں بھیا
ہم بھی اپنے بھیا کی بٹیا ہیں :bye::fingers-crossed::)
مذاق بر طرف سعود بھیا واقعی آپ باکمال لکھتے ہیں ماشاءاللہ:bashful:
ابن سعید — دسمبر 7، 2015 6:06 شام
یعنی کہ سوچ لیں بھیا
ہم بھی اپنے بھیا کی بٹیا ہیں :bye::fingers-crossed::)
مذاق بر طرف سعود بھیا واقعی آپ باکمال لکھتے ہیں ماشاءاللہ:bashful:
چنانچہ ایسی بات ہے تو پھر بٹیا کو چاہیے کہ وہ یہ بے پر کی ملاحظہ فرما لیں۔ :) :) :)
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 8، 2015 2:39 صبح
محبت ہے آپ کی۔ ویسے ہمارا مشورہ تو یہی ہوگا کہ آپ نے چند صفحات پڑھ کر جو لغزش کی اس کو جاری رکھنے کی خطا نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ :) :) :)
صاحب کسرِ نفسی ہے آپ کی ۔ اس عمدہ کلام پر آپ کے لئے داد تو بہرحال بنتی ہے ۔ اور اب کچھ یوں اور بھی زیادہ بنتی ہے کہ آپ کی اس لڑی سے ہمیں بھی ایک آئیڈیا آگیا ہے ۔ سوچ رہے ہیں کہ ہم ابھی اپنی دو دہائیوں اور کاغذ کے سینکڑوں پرُزوں پر پھیلی ہوئی تُک بندیوں کولڑی بند کردیں ۔ اسی طرح سےایک جگہ محفوظ ہوجائیں گی ۔:):):)
نور وجدان — دسمبر 8، 2015 10:17 صبح
ہمیں شبہ ہو رہا ہے کہ کہیں یہ سارا قصہ اس لفظ "بسمل" کا تو نہیں؟ :) :) :)
ہمارے ریسرچ ایڈوائزر کا ماننا ہے کہ کسی کمپیوٹر سائنٹسٹ کا دن تب تک مکمل نہیں مانا جا سکتا جب تک وہ کینونیکل، آرتھاگونل، اور اوپیک کو اپنے جملوں میں استعمال نہ کر لے۔ :) :) :)

ہم نے تو آپ کا پورا کلام ، سارا ہی پسند کیا ہے ۔ سادگی میں بلا کا حسن ہے ، ابھی سرخ نگری کی بات بھی کی آپ نے ، ہم نے سوچا کہ کاش سرخ نگر کے اس پار کی وضاحت بھی ہوجاتی ۔۔۔ نیچے کمال ِ حسن دیکھیے ، آپ نے اگلی پوسٹ میں وضاحت کیے ہوئے تھی ۔۔ ہم بھی کچھ نہ کچھ آپ سے سیکھ ہی جائیں گے ان شاء اللہ ۔۔۔
یہ دیکھیے
نور وجدان — دسمبر 8، 2015 10:21 صبح
ایک اور تک بندی: شفق بنام سرخ کنارہ
سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

کیسے اس بستی کے باسی
کون ہیں اس نگری کے نواسی
رہتا ہے خوشیوں کا بسیرا
یا چھائی رہتی ہے اداسی

سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

کیسی ہوگی گلوں کی لالی
کیسے ہونگے وہاں کے مالی
پیڑ وہاں بھی سوکھے ہونگے
یا ہر سو ہوگی ہریالی

سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

لوگ محبت کرنے والے
چاہت کا دم بھرنے والے
اک دوجے پر جان سے واری
یا آپس میں لڑنے والے

سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

وہاں بھی ہوتے ہونگے ظالم
کیا نہ ہوتے ہونگے مظالم
کیا ہونگے قانوں وہاں کے
کیسے ہونگے وہاں کے حاکم

سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

جی کرتا ہے سیر کو جاؤں
جا کے وہاں کے لطف اٹھاؤں
گر کوئی ہمراہ چلے تو
جاؤں اور وہیں بس جاؤں

سرخ کناروں کے اس پار
ہم نے سنا ہے اک بستی ہے

سعود عالم ابن سعید

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA.11204/page-25