بھولنا ہے تم کو کیسے یہ نہ سمجھانا مجھے
تم سے خود ہی ہو سکے تو یاد مت آنا مجھے واہ واہ اسی پر یاد آگیا ..بارش کو بوندوں کو گر روک سکو تو روکو -- کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری
ایچ اے آر حقانی — اپریل 11، 2016 6:40 صبح
ماشاء اللہ بہت خوب
عباس اعوان — اپریل 11، 2016 6:51 صبح
کیا غزل کہی ہے جناب۔
بہت خوبصورت۔ لطف آ گیا۔
کاشف اختر — اپریل 11، 2016 7:01 صبح
آہا ۔ بہت زبردست غزل ہے ۔ خوب مزا آیا پڑھ کر ۔ بہت سی داد !
سید عاطف علی — اپریل 11، 2016 7:43 صبح
کیا عمدہ غزل ہے ادب دوست صاحب ۔ کمال سطح کی شگفتگی ہے ۔
بہت داد۔بہت تحسین و آفرین ۔
سلمان دانش جی — اپریل 11، 2016 11:05 صبح
ادب دوست صاحب۔ اس تگڑے سخنور کا حقیقی نامَ گرامی جاننے کو بیتاب ہوں
جی ہاں خالد محمود چوہدری بھائی، خمریات کی روائت
تو یہی ہے کہ ظرف کی آزمائش کے لیے کثرتِ مئے کا تذکرہ ہو ۔
مگر یہاں میں نے قدرے مختلف مضمون باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ کہ ہم قطرے سے دریا کشید کر لیتے ہیں ۔
جی ہاں خالد محمود چوہدری بھائی، خمریات کی روائت
تو یہی ہے کہ ظرف کی آزمائش کے لیے کثرتِ مئے کا تذکرہ ہو ۔
مگر یہاں میں نے قدرے مختلف مضمون باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ کہ ہم قطرے سے دریا کشید کر لیتے ہیں ۔