بیگ بینگ کے قریب جا کر تو ویسے ہی اب کے نظریات فیل ہو جاتے ہیں۔ انفلیشن کی تھیوری بھی ایک ایسی ہی تھیوری ہے جو کہ بیگ بینگ کو explain کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اب تک اس دور کے بارے میں کوئی concrete تھیوری نہیں آ سکی جو کی verifiable predictions کر سکے۔ ظاہری بات ہے آینسٹائن کا نظریہ بھی تبدیل کرنا پڑے گا کیونکہ وہ quantum scale پر بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں کافی دلچسپ ہیں اور ان پر تحقیق ہو رہی ہے۔
بالکل۔ یہی تو سائنس کی دلچسپی ہے کہ آج ہم جس چیز پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ کل اسی چیز پر ہنس رہے ہوں۔ آئن سٹائن کا نظریہ میکرو جبکہ کوانٹم مائیکرو لیول پر کام کرتا ہے (مثال دے رہا ہوں، یعنی حرف بحرف نہ لیں)۔ ان دونوں کو جس تھیوری نے ملایا، وہ بہت مزے کی ہوگی۔ تاہم اب سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ کائنات کی کل توانائی اور کل مادے کا 70 فیصد حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی ہے جس کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں مل سکا
اب یہ دیکھیں کہ میٹر اور اینٹی میٹر یعنی مادہ اور ضد مادہ کو ملائیں تو حاصل میں صرف توانائی بچتی ہے۔ اب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اگر ہمارے پاس مطلوبہ توانائی ہو تو اس سے ہم یہ پراسیس الٹ کر سکیں؟ یعنی توانائی استعمال کر کے میٹر اور اینٹی میٹر تیار کر لیں؟ اگر یہاں آن کر لاء آف کنزرویشن آف انرجی بیٹھ گیا تو مزے کہ کم مادے سے زیادہ توانائی ممکن ہو جائے گی جو آج ایک لطیفہ لگتا ہے۔ ویسے لگنے کو تو یہ بھی لطیفہ ہے کہ عدم سے ہم توانائی کی مدد سے مادہ اور ضد مادہ تیار کر لیں
