احتراماََ گر مجھے شاعر نہیں مانا گیا

نظام الدین — اپریل 28، 2015 10:36 صبح
ہجوم اک ساتھ چلنے کو ہمارے ساتھ تھا پہلے
مگر ہر ایک نے صحرا میں شرطِ سائباں رکھ دی​
بہت خوب ۔۔۔۔ زبردست۔۔۔۔ واہ
فاروق احمد بھٹی — اپریل 28، 2015 10:42 صبح
فاروق احمد بھٹی بھائی آپ کی فرمائش پر نیلا رنگ دیا ہے ۔ وجہ تو نہیں پتہ مگر آپ نے کہا ہے تو ضرور کوئی حکمت ہوگی۔
ارے جناب میں نے فقط اس لئے کہا کہ عبارت زیادہ واضح ہو جائے گی۔
" اچھا کہتے ہیں "
شعراء سے اس طرح کہا جا تا ہے ۔
چلیں جی ی ایسے ہی کہہ دیتے ہیں شعر اچھے کہتے ہیں آپ
اور آپ کو شاعر کیوں نہیں مانیں گے ہم جبکہ استاد آپ کی غزل کو استادانہ کہ رہے ہیں
بلکہ ہمیں تو جیلیسی ہو رہی ہے
ایک مصرع کمال ہے ؟ اول یا ثانی ؟
ایک ایک کر کے دونوں
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:11 شام
ترے جلووں کے آگے ہمتِ شرح و بیاں رکھ دی
زبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زبان رکھ دی
مٹی جاتی تھی بلبل جلوہء گل ہائے رنگیں پر
چھپا کر کس نے ان پردوں میں برقِ آشیاں رکھ دی
نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظِ ناداں !
ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی
قفس کی یاد میں یہ اضطرابِ دل، معاذ اللہ !
کہ میں نے توڑ کر ایک ایک شاخِ آشیاں رکھ دی
کرشمے حسن کے پنہاں تھے شاید رقصِ بسمل میں
بہت کچھ سوچ کر ظالم نے تیغِ خوں فشاں رکھ دی
الٰہی ! کیا کیا تو نے کہ عالم میں تلاطم ہے
غضب کی ایک مشتِ خاک زیر آسماںِ رکھ دی
اصغر گونڈوی

واہ کیا کہنے ۔
بہت شکریہ سید عاطف علی بھائی
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:13 شام
واہ میاں! جیو!!، کیا استادانہ غزل ہے، سیماب، آرزو اور اصغر بھی خوش ہوئے ہوں گے۔

بہت بہت بہت بہت شکریہ استادِ گرامی ۔ بہت نوازش
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:17 شام
آپ کا مطلب ہے کہ عمران خان نوجوان ہیں؟؟؟؟

تجمل بھا ئی سیاست کے ساتھ ساتھ کچھ التفات ادب سے بھی فرمایں :):)
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:19 شام
جناب ادب دوست صاحب 2015 میں ایسی استادانہ غزل پڑھ کر دل خوش گیا۔
داد اور شکریہ دونوں قبول کی جائیں

بہت شکریہ لئیق احمد بھائی ۔ آپ حضرات کا حسنِ نظر ہے ۔
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:19 شام
بہت خوب ۔۔۔۔ زبردست۔۔۔۔ واہ

بہت شکریہ نظام الدین بھائی۔
ادب دوست — اپریل 28، 2015 2:25 شام
ایک ایک کر کے دونوں

فاروق بھائی پتہ ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کے سیماب کے شعر میں " زباں" کی گنجائش نہیں ہے ۔
کیوں کے دستیاب معلومات کے مطابق خاص طور پر برِصغیر میں بوسے کے لیے لب رکھے جاتے ہیں مگر سیماب بوسے کے لیے کانٹوں پر زباں رکھ دی ۔
:D:D۔ باقی آپ سمجھ دار آدمی ہیں ۔ اس مسئلے میں اختلافِ رائے کا ہونا غیر فطری نہیں ہے :p:p:p
ابنِ عظیم — اپریل 28، 2015 2:50 شام
مانا ایک تنکا تک نہیں توڑا تعصب نے
مگر برباد تو کر کے فضائے آشیاں رکھ دی
بہت خوب ۔۔۔۔۔ آپ کا یہ شعر ہمیں اچھا لگا مگر مطلع تو واقع لاجواب تھا۔
راحیل فاروق — اپریل 28، 2015 3:18 شام
ستم کر کر کے تھکتے ہیں مگر تسکیں نہیں ملتی
خلش یہ کس نے سینے میں نصیبِ دشمناں رکھ دی
کتنا پیارا شعر ہے!
فاروق احمد بھٹی — اپریل 28، 2015 3:31 شام
فاروق بھائی پتہ ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کے سیماب کے شعر میں " زباں" کی گنجائش نہیں ہے ۔
کیوں کے دستیاب معلومات کے مطابق خاص طور پر برِصغیر میں بوسے کے لیے لب رکھے جاتے ہیں مگر سیماب بوسے کے لیے کانٹوں پر زباں رکھ دی ۔
:D:D۔ باقی آپ سمجھ دار آدمی ہیں ۔ اس مسئلے میں اختلافِ رائے کا ہونا غیر فطری نہیں ہے :p
یہ بات تو واقعی درست ہے مگر ہم نے اتنی باریک بینی سے پڑھا ہی نہ تھا اور واقعی بوسہ کے لئے ہونٹ ہی ہوتے ہیں۔
arifkarim — اپریل 28، 2015 4:09 شام
یہ بات تو واقعی درست ہے مگر ہم نے اتنی باریک بینی سے پڑھا ہی نہ تھا اور واقعی بوسہ کے لئے ہونٹ ہی ہوتے ہیں۔
بس خیال رہے کہ بات حد سے آگے نہ بڑھ جائے :)
فاروق احمد بھٹی — اپریل 28، 2015 4:13 شام
بس خیال رہے کہ بات حد سے آگے نہ بڑھ جائے
حدیں پھلانگنا ہم کو نہ آ سکا اب تک
ادب دوست — اپریل 28، 2015 6:07 شام

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں :LOL::LOL::LOL::LOL::LOL:
ادب دوست — اپریل 28، 2015 6:08 شام
بہت خوب ۔۔۔۔۔ آپ کا یہ شعر ہمیں اچھا لگا مگر مطلع تو واقع لاجواب تھا۔

بہت شکریہ ، بہت نوازش
فاتح — اپریل 28، 2015 6:25 شام
واہ واہ واہ کیا کہنے۔۔۔ بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ مبارکباد قبول کریں
سید عاطف علی — اپریل 28، 2015 6:41 شام
نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظِ ناداں !
ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی
اصغر گونڈوی کے اس شعر پر والد صاحب کا ایک ششعر بے اختیار یاد آجاتا ہے۔۔۔۔۔
ابھر آئی وہاں محراب ،تیرے آستانے کی
جہاں فرطِ محبت سے جبیں ہم نے جھکالی ہے
شاکرالقادری — اپریل 28، 2015 7:02 شام
جی وہ فرقہ تو نوجوانوں کا ہے، بزرگوں کا نہیں :)
اور عارف تمہیں یہ جان کر تعجب ہوگا کہ میں عمران خان کے مقابلے میں زیادہ جوان ہوں کیونکہ وہ مجھے سات سال بڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خبردار جو مجھے بزرگ کہا :)
شاکرالقادری — اپریل 28، 2015 7:05 شام
بہت شکریہ شاکرالقادری بھائی ۔
اس کا مطلب آپ "بھی" شاعر ہیں ۔ بس اگر میں شعراء کی فہرست میں آگیا تو سب اپنی برادری والوں سے کیسی جنگ؟:D:D:D:D:D
چلیں شکر ہے اس بہانے آپنے ہمیں بھی شاعر تسلیم کر لیا
اب تو:
من ترا حاجی بگویم ۔۔۔۔ تو مرا ملا بگو
والا سلسلہ چلتا رہے گا
تجمل حسین — اپریل 29، 2015 5:29 صبح
تجمل بھا ئی سیاست کے ساتھ ساتھ کچھ التفات ادب سے بھی فرمایں :):)
جناب التفات ادب کی بابت کیا کہتے ہم۔ جہاں اتنے سارے بڑے، معزز اور صاحبان علم موجود ہوں وہاں ہم کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ:
پوری کی پوری غزل شروع سے آخر تک کیا ہی خوب کہی ہے۔ ہر مصرع ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ کس کس کی تعریف کریں۔
لیجئے جناب اب تو خوش؟؟؟:)
میں نے یہ تبصرہ کل ہی لکھ دینا تھا مگر ابھی آدھا لکھا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ لہٰذا تاخیر کی معذرت قبول فرمائیں۔
عین نوازش ہوگی۔
ورنہ آپ کے خارش ہوگی۔:p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%8E%D9%8E-%DA%AF%D8%B1-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.81588/page-2