احتراماََ گر مجھے شاعر نہیں مانا گیا

ادب دوست — اپریل 29، 2015 12:12 شام
واہ واہ واہ کیا کہنے۔۔۔ بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ مبارکباد قبول کریں

بہت بہت شکریہ فاتح بھائی ، آپ حضرات کی پسندیدگی میرے لیے باعثِ فخر ہے ۔
ادب دوست — اپریل 29، 2015 12:13 شام
چلیں شکر ہے اس بہانے آپنے ہمیں بھی شاعر تسلیم کر لیا
اب تو:
من ترا حاجی بگویم ۔۔۔۔ تو مرا ملا بگو
والا سلسلہ چلتا رہے گا
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
انجمنِ ستائشِ باہمی کا قیام عمل میں آتا ہے ۔ :):):)
arifkarim — اپریل 29، 2015 12:16 شام
اور عارف تمہیں یہ جان کر تعجب ہوگا کہ میں عمران خان کے مقابلے میں زیادہ جوان ہوں کیونکہ وہ مجھے سات سال بڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خبردار جو مجھے بزرگ کہا :)
:rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
ادب دوست — اپریل 29، 2015 12:16 شام
جناب التفات ادب کی بابت کیا کہتے ہم۔ جہاں اتنے سارے بڑے، معزز اور صاحبان علم موجود ہوں وہاں ہم کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ:
پوری کی پوری غزل شروع سے آخر تک کیا ہی خوب کہی ہے۔ ہر مصرع ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ کس کس کی تعریف کریں۔
لیجئے جناب اب تو خوش؟؟؟:)
میں نے یہ تبصرہ کل ہی لکھ دینا تھا مگر ابھی آدھا لکھا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ لہٰذا تاخیر کی معذرت قبول فرمائیں۔
عین نوازش ہوگی۔
بہت نوازش تجمل بھائی ، خارش کے ڈر سے نہیں آپ کے خلوص کو مدِنظر رکھتے ہوئے ۔ شکریہ بہت بہت :):):)
محمد اظہر نذیر — اپریل 29، 2015 3:44 شام
مرے نالے نے گلشن میں نئی طرزِ فغاں رکھ دی
میں گویا کیا ہوا گویا کہ ہر منہ میں زباں رکھ دی
واہ واہ واہ
محمد اظہر نذیر — اپریل 29، 2015 3:45 شام
شکایت کی بِنا رکھ دی حدیثِ دلبراں رکھ دی
مچل کر ایک آنسو نے بِنائے داستاں رکھ دی
واہ کیا خوب ہے
محمد اظہر نذیر — اپریل 29، 2015 3:45 شام
یہ مانا ایک تنکا تک نہیں توڑا تعصب نے
مگر برباد تو کر کے فضائے آشیاں رکھ دی
واہ واہ واہ واہ
محمد اظہر نذیر — اپریل 29، 2015 3:46 شام
ارے مرجھا گئی جانِ چمن انجامِ گل سن کر
حکایت کیوں کلی کے سامنے یہ خو نچکاں رکھ دی
واہ لطف آ گیا جناب
تجمل حسین — اپریل 29، 2015 4:14 شام
ہجوم اک ساتھ چلنے کو ہمارے ساتھ تھا پہلے
مگر ہر ایک نے صحرا میں شرطِ سائباں رکھ دی
زبردست جناب!
ادب دوست — اپریل 29، 2015 4:20 شام
محمد اظہر نذیر بھائی بہت شکریہ بہت نوازش ۔ آپ کا حسنِ زوق ہے
ادب دوست — اپریل 29، 2015 4:20 شام

تجمل حسین بھائی بہت شکریہ بہت نوازش
کاشف اسرار احمد — اپریل 30، 2015 8:28 صبح
کشش اک جستجو کے واسطے شایانِ شاں رکھ دی
سجا کر میرے آگے وسعتِ کون ومکاں رکھ دی
واہ جناب ۔۔ کیا عمدہ شعر ہے۔
ویسے تو پوری غزل ماشا اللہ نہایت عمدہ مضامین کو سموئے ہوے ہے۔ بہت خوب ۔۔۔
ادب دوست — اپریل 30، 2015 10:51 صبح
واہ جناب ۔۔ کیا عمدہ شعر ہے۔
ویسے تو پوری غزل ماشا اللہ نہایت عمدہ مضامین کو سموئے ہوے ہے۔ بہت خوب ۔۔۔
بہت شکریہ کاشف اسرار احمد بھائی آپ نے پسند فرمایا ، میرے لیے اعزاز ہے
ندیم مراد — جولائی 9، 2015 9:16 شام
سبحان اللہ کیا اچھی غزل فرماﺉ حضرت نے
کہ استادوں نے بھی استادیاں زیر زباں رکھ دیں
نذر حسین ناز — جولائی 9، 2015 10:01 شام
ارے واہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوب۔ داد قبول کیجیے۔
جاسمن — جولائی 10، 2015 12:08 صبح
پُوری غزل بہت خوبصورت۔۔۔۔ایک سے بڑھ کے ایک شعر۔ کیا کہنے۔ ماشاءاللہ!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%8E%D9%8E-%DA%AF%D8%B1-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.81588/page-3