امان زرگر — جنوری 28، 2018 4:11 شام
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ گلگوں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
ساز چھیڑو کوئی مدھر لے میں
لطفِ طوفِ حرم بہم آئے
ہو کے تیرہ شبی سے وابستہ
اب ستارے بھی ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو گر ترا خامہ
رقصاں قرطاس پر عدم آئے
امان زرگر — جنوری 28، 2018 4:14 شام
محمد تابش صدیقی — جنوری 28، 2018 4:45 شام
رقصاں کی الف گرانا غالباً درست نہیں۔
امان زرگر — جنوری 28، 2018 4:50 شام
رقصاں کی الف گرانا غالباً درست نہیں۔
لفظِ ''غالباً'' پسند آیا۔

امان زرگر — جنوری 28، 2018 5:08 شام
رقصاں کی الف گرانا غالباً درست نہیں۔
لفظِ ''غالباً'' پسند آیا۔
لیکن سر
محمد ریحان قریشی کی متفق کی ریٹنگ، اف اللہ۔۔۔۔۔ کوئی رعایت نہ مل سکی۔۔۔۔ چلو جی محنت شروع کرتے ہیں۔ بدل ڈالیں کیا اس کو؟
محمد ریحان قریشی — جنوری 28، 2018 5:21 شام
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ گلگوں بہ چشمِ نم آئے
خوب!
ہو کے تیرہ شبی سے وابستہ
اب ستارے بھی ہم قدم آئے
یہ شعر سمجھ نہیں آیا۔
تابش صدیقی صاحب سے متفق ہوں۔ رقصاں کی الف نہیں دبائی جا سکتی۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 28، 2018 5:22 شام
لیکن سر
محمد ریحان قریشی کی متفق کی ریٹنگ، اف اللہ۔۔۔۔۔ کوئی رعایت نہ مل سکی۔۔۔۔ چلو جی محنت شروع کرتے ہیں۔ بدل ڈالیں کیا اس کو؟
یہی کہنے والا تھا کہ غالباً کے یقیناً ہونے کا انتظار کریں۔
امان زرگر — جنوری 28، 2018 5:35 شام
خوب!
یہ شعر سمجھ نہیں آیا۔
تابش صدیقی صاحب سے متفق ہوں۔ رقصاں کی الف نہیں دبائی جا سکتی۔
یہی کہنے والا تھا کہ غالباً کے یقیناً ہونے کا انتظار کریں۔
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ گلگوں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
ساز چھیڑو کوئی مدھر لے میں
لطفِ طوفِ حرم بہم آئے
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
جب ستارے بھی ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو گر ترا خامہ
لوحِ قرطاس پر عدم آئے
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 4:42 صبح
خالد محمود چوہدری — جنوری 29، 2018 5:01 صبح
جان بوجھ کر مشکل الفاظ کا چناٶ
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:58 صبح
۔۔۔
آتش افشاں ہو گر ترا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
امان زرگر — جنوری 29، 2018 7:00 صبح
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ گلگوں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
ساز چھیڑو کوئی مدھر لے میں
لطفِ طوفِ حرم بہم آئے
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
جب ستارے بھی ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو گر ترا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
امان زرگر — جنوری 29، 2018 7:12 صبح
امان زرگر — جنوری 29، 2018 7:37 صبح
لوح کے معنٰی ماتھا سمجھا تھا میں۔۔۔۔ غلطی پر تھا۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 7:42 صبح
آتش افشاں ہو گر ترا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
کہنا کیا چاہتے ہیں؟
آپ کے ہر متبادل نے شعر کا مفہوم بدلا ہے۔

ویسے اب استادِ محترم کی رائے دیکھ لیتے ہیں۔
امان زرگر — جنوری 29، 2018 9:18 صبح
کہنا کیا چاہتے ہیں؟
آپ کے ہر متبادل نے شعر کا مفہوم بدلا ہے۔

ویسے اب استادِ محترم کی رائے دیکھ لیتے ہیں۔
شعر کو لچک دار ہونا چاہیے

۔۔۔۔۔ مفہوم زیادہ تو نہیں بدلا بس تھوڑا سا بدلا۔۔

الف عین — جنوری 29، 2018 3:44 شام
اشکِ گلگوںِ۔ کیا محبوب کے آنسوؤں کا ذکر ہے جو گلابی گالوں پر نظر آئے ہیں؟
دوسرا شعر۔ واہ واہ۔
آخری تینوں اشعار سمجھ نہیں سکا۔ستارے آئے‘ ماضی کا صیغہ ہے یا تمنائی؟ اس صورت میں ’ستارے آئیں‘ ہونا تھا۔
مزید یہ کہ آج کل ونڈوز موبائل زیر استعمال ہے اس لئے فیس بک میسنجر میں جواب Predictive Text کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹائپ کرنے سے معذور تھا۔ اور یوں بھی اصلاح کے لیے میں محفل ہی پسند کرتا ہوں
امان زرگر — جنوری 29، 2018 4:50 شام
اشکِ گلگوںِ۔ کیا محبوب کے آنسوؤں کا ذکر ہے جو گلابی گالوں پر نظر آئے ہیں؟
دوسرا شعر۔ واہ واہ۔
آخری تینوں اشعار سمجھ نہیں سکا۔ستارے آئے‘ ماضی کا صیغہ ہے یا تمنائی؟ اس صورت میں ’ستارے آئیں‘ ہونا تھا۔
مزید یہ کہ آج کل ونڈوز موبائل زیر استعمال ہے اس لئے فیس بک میسنجر میں جواب Predictive Text کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹائپ کرنے سے معذور تھا۔ اور یوں بھی اصلاح کے لیے میں محفل ہی پسند کرتا ہوں
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
ساری نظریں اسی طرف ہیں، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے!
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو وقت کا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
امان زرگر — جنوری 29، 2018 5:29 شام
محمد ریحان قریشی — جنوری 29، 2018 5:33 شام
قابلِ فہم ہیں اب تمام اشعار۔