برائے تنقید و اصلاح (غزل 46)

امان زرگر — جنوری 31، 2018 1:58 شام
یہی سب سے بہتر صورت ہے۔
عدم والا شعر تو میرے گلے سے اب بھی نہیں اتر رہا، ریحان کے سمجھانے کے با وجود!
سر کچھ وضاحت کر دیں عدم والے شعر کے بارے میں تاکہ اس کو مد نظر رکھ کر بہتری کی کوشش کروں۔
امان زرگر — جنوری 31، 2018 2:42 شام
وقت کے خامے کا آتش افشاں ہونا اس کا لمحۂ مرگ تلک پہنچنا اور صفحۂ زیست پر عدم آنا استعارۂ مرگ ہے۔

عدم والا شعر تو میرے گلے سے اب بھی نہیں اتر رہا، ریحان کے سمجھانے کے با وجود!

ویسے گستاخ نہ کہلاؤں تو میری مراد شعر لکھتے وقت اور تبدیلیاں کرتے وقت 'آتش افشانئِ خامہ سے عدم کو وجود میں لانے' کی تھی نہ کہ وجود کو عدم میں لے جانے یعنی موت کی۔ ابلاغ میں ناکام رہا لیکن بہتری لا سکتا ہوں اگر کمی کی نشاندہی ہو جائے۔
لیکن ریحان بھائی کا اخذ کردہ مفہوم زیادہ عمدہ ہے اسی کے حوالہ سے شعر میں بہتری کا متمنی ہوں۔
امان زرگر — جنوری 31، 2018 3:00 شام
سر محمد ریحان قریشی
محمد تابش صدیقی — جنوری 31، 2018 3:02 شام
ویسے گستاخ نہ کہلاؤں تو میری مراد شعر لکھتے وقت اور تبدیلیاں کرتے وقت 'آتش افشانئِ خامہ سے عدم کو وجود میں لانے' کی تھی نہ کہ وجود کو عدم میں لے جانے یعنی موت کی۔
آپ کا شعر بالکل الٹ مفہوم ہی دے رہا ہے۔ :)
امان زرگر — جنوری 31، 2018 3:10 شام
لیکن ریحان بھائی کا اخذ کردہ مفہوم زیادہ عمدہ ہے اسی کے حوالہ سے شعر میں بہتری کا متمنی ہوں۔

آپ کا شعر بالکل الٹ مفہوم ہی دے رہا ہے۔ :)
اب اس کو زیادہ واضح اور قابلِ فہم بنانے کی ضرورت ہے کہ سر الف عین سند عطا فرما دیں۔ کمی کی نشاندہی مجھ سے نہیں ہو پا رہی۔ مدد کا طالب ہوں احباب سے۔
امان زرگر — فروری 1، 2018 4:05 شام
۔۔۔
آتش افشاں ہے وقت کا خامہ
ہر وجود آخرش عدم آئے
اک نئی کوشش ۔۔۔۔
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
محمد ریحان قریشی — فروری 1، 2018 4:16 شام
بات نہیں بنی.
امان زرگر — فروری 1، 2018 4:32 شام
محمد تابش صدیقی بھائی نے بھی متفق کی ریٹنگ دے دی۔ اب ایک بار پھر لغات کھنگالتا ہوں۔ وہ بھی شکر ہے آن لائن موجود ہیں وگرنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 4:36 شام
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے

اچھی غزل ہے ! اور اس پر سیر حاصل گفتگو بھی ہو چکی ۔ بس مطلع کے دوسرے مصرع کی طرف توجہ دلاؤں گا ۔ یہ معنوی لحاظ سے درست نہیں ۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری چشمِ نم میں اشکِ خونیں آئے ۔ لیکن مصرع کا مطلب یہ ہے کہ اشکِ خونیں چشمِ نم کے ساتھ آئے ۔ ’’بہ‘‘ کا مطلب ساتھ یا ہمراہ ہوتا ہے ۔ جبکہ یہاں ’’در ‘‘ بمعنی اندر یا میں کا محل ہے ۔
محمد تابش صدیقی — فروری 1، 2018 4:47 شام
محمد تابش صدیقی بھائی نے بھی متفق کی ریٹنگ دے دی۔ اب ایک بار پھر لغات کھنگالتا ہوں۔ وہ بھی شکر ہے آن لائن موجود ہیں وگرنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مشورہ کہ لغات کھنگالنے کے بجائے سادہ الفاظ میں بات بیان کرنے کی کوشش کریں۔ :)
امان زرگر — فروری 1، 2018 4:51 شام
اچھی غزل ہے ! اور اس پر سیر حاصل گفتگو بھی ہو چکی ۔ بس مطلع کے دوسرے مصرع کی طرف توجہ دلاؤں گا ۔ یہ معنوی لحاظ سے درست نہیں ۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری چشمِ نم میں اشکِ خونیں آئے ۔ لیکن مصرع کا مطلب یہ ہے کہ اشکِ خونیں چشمِ نم کے ساتھ آئے ۔ ’’بہ‘‘ کا مطلب ساتھ یا ہمراہ ہوتا ہے ۔ جبکہ یہاں ’’در ‘‘ بمعنی اندر یا میں کا محل ہے ۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 4:58 شام
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
لوگ آسان سمجھتے ہیں سخن داں ہونا
:):):)
معذرت کے ساتھ !
امان بھائی برا مت مانئے گا بس بے ساختہ یہ لبوں پر آگیا تو آپ کی دریا دلی کی نذر کردیا ۔
محمد تابش صدیقی — فروری 1، 2018 5:06 شام
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
لوگ آسان سمجھتے ہیں سخن داں ہونا
آہاہا
مزیدار
محمد ریحان قریشی — فروری 1، 2018 5:07 شام
بہ میرے خیال سے تو میں کے معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے. جناب محمد وارث کی رائے بھی پوچھ لیتے ہیں.
ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 5:21 شام
بہ میرے خیال سے تو میں کے معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے. جناب محمد وارث کی رائے بھی پوچھ لیتے ہیں.
بعض تراکیب میں ہوسکتا ہے ۔ لیکن جس طرح سے امان بھائی نے یہاں استعمال کیا ہے اس کا مطلب ساتھ یا مع ہی ہوگا ۔ بہ چشم کا مطلب آنکھ کے ساتھ ہی ہو تا ہے ۔
امان زرگر — فروری 1، 2018 5:26 شام
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشک آنکھوں سے دم بدم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
بے حجابانہ دیکھنے ان کو
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو یہ مرا خامہ
کب تلک عشق میں وہ دم آئے
امان زرگر — فروری 1، 2018 5:31 شام
سر ظہیراحمدظہیر آخری شعر بالخصوص مسئلہ بنا ہوا ہے۔ آپ نے اوپر مراسلہ جات دیکھے ہوں گے
امان زرگر — فروری 1، 2018 5:35 شام
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
لوگ آسان سمجھتے ہیں سخن داں ہونا
:):):)
معذرت کے ساتھ !
امان بھائی برا مت مانئے گا بس بے ساختہ یہ لبوں پر آگیا تو آپ کی دریا دلی کی نذر کردیا ۔
اصلاحِ سخن میں آپ بڑوں سے سیکھنے کی خاطر ہی موجود ہوں۔ یہ میری محض چھیالیسویں غزل ہے۔ کم علمی کا اعتراف ہے۔ بس کرم نوازی ہے اردو محفل کے بڑے ناموں کی جو میری کوتاہیوں پر صرفِ نظر فرماتے ہیں۔
امان زرگر — فروری 1، 2018 5:39 شام
بہ میرے خیال سے تو میں کے معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے. جناب محمد وارث کی رائے بھی پوچھ لیتے ہیں.
ان کی رائے کا منتظر ہوں۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 5:41 شام
سر ظہیراحمدظہیر آخری شعر بالخصوص مسئلہ بنا ہوا ہے۔ آپ نے اوپر مراسلہ جات دیکھے ہوں گے
آپ کے اس مراسلے کے بعد دیگر مراسلہ جات غور سے دیکھے ہیں ۔ پہلے سرسری سا گزر گیا تھا ۔ سچی بات یہ ہے اس شعر کی سب سے آخری صورت ہی درست ہے کہ معنی خیز ہے اور ابلاغ بھی ہورہا ہے ۔ اس سے پہلے کی تمام صورتیں مبہم بدرجہء مہمل تھیں ۔ میری رائے میں اس آخری صورت ہی کو رکھئے ۔
امان بھائی ، ایک مشورہ بے طلب دے رہا ہوں اور وہ یہ کہ اپنے شعر کو الفاظ کا اسیر مت بنائیے ۔ بلکہ الفاظ کو اپنے مدعا کا اسیر بنائیے ۔ یعنی شعری خیال کا ذہن میں پہلے آنا شرط ہے ۔ پھر اس کے مطابق الفاظ اور پیرایہ چنا جائے گا ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر قافیہ پیمائی ہی رہ جاتی ہے ۔
امان بھائی ، امید ہے کہ اسے مثبت انداز میں لیں گے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%BA%D8%B2%D9%84-46.99956/page-3