حاضر ہیں وہ معانی جو میں نے ان سے اخذ کیے:
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے
نظیری کا شعر ہے:
گل آمد و لعلم ز دلِ سنگ برآورد
اشکم ز تماشائے چمن رنگ برآورد
گل آیا اور میری سنگی دل کو لعل میں بدل گیا، چمن کے تماشے سے میرے اشک بھی رنگین ہو گئے۔
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
غزالِ جنوں تیر پیوست ہونے کے بعد زمیں بوس نہیں ہوتا۔ تیر اس کے لیے رمیدگی افزا ثابت ہوتا ہے۔
ساری نظریں اسی طرف ہیں، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے!
حرم تک ان کا آنا کیوں اس قدر اشتیاق کا باعث ہے یہ واضح نہیں۔
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
ہم چونکہ ستاروں کے ہم قدم بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کبھی نہ کبھی ہم تیرہ شبی سے وابستہ ہوں جائیں گے۔
آتش افشاں ہو وقت کا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
وقت کے خامے کا آتش افشاں ہونا اس کا لمحۂ مرگ تلک پہنچنا اور صفحۂ زیست پر عدم آنا استعارۂ مرگ ہے۔