برائے تنقید و اصلاح (غزل 46)

امان زرگر — جنوری 29، 2018 5:35 شام
قابلِ فہم ہیں اب تمام اشعار۔
کچھ مزید گفتگو فرما دیں ان پہ تو بندہ محنت کا صلہ سمجھے۔۔۔۔۔
محمد ریحان قریشی — جنوری 29، 2018 5:44 شام
حاضر ہیں وہ معانی جو میں نے ان سے اخذ کیے:
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے
نظیری کا شعر ہے:
گل آمد و لعلم ز دلِ سنگ برآورد
اشکم ز تماشائے چمن رنگ برآورد
گل آیا اور میری سنگی دل کو لعل میں بدل گیا، چمن کے تماشے سے میرے اشک بھی رنگین ہو گئے۔
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
غزالِ جنوں تیر پیوست ہونے کے بعد زمیں بوس نہیں ہوتا۔ تیر اس کے لیے رمیدگی افزا ثابت ہوتا ہے۔
ساری نظریں اسی طرف ہیں، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے!
حرم تک ان کا آنا کیوں اس قدر اشتیاق کا باعث ہے یہ واضح نہیں۔
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
ہم چونکہ ستاروں کے ہم قدم بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کبھی نہ کبھی ہم تیرہ شبی سے وابستہ ہوں جائیں گے۔
آتش افشاں ہو وقت کا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
وقت کے خامے کا آتش افشاں ہونا اس کا لمحۂ مرگ تلک پہنچنا اور صفحۂ زیست پر عدم آنا استعارۂ مرگ ہے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 5:47 شام
حرم تک ان کا آنا کیوں اس قدر اشتیاق کا باعث ہے یہ واضح نہیں۔
غالباً حرم کے اندر سے دروازے تک آنا مراد ہے، اور اشتیاق دیدار کا ہے۔
محمد ریحان قریشی — جنوری 29، 2018 5:50 شام
غالباً حرم کے اندر سے دروازے تک آنا مراد ہے، اور اشتیاق دیدار کا ہے۔
تا بہ دروازۂ عدم میں تعقیدِ معنوی پائی جائے گی اس صورت میں۔
امان زرگر — جنوری 29، 2018 5:51 شام
حاضر ہیں وہ معانی جو میں نے ان سے اخذ کیے:
نظیری کا شعر ہے:
گل آمد و ک لعلم ز دلِ سنگ برآورد
اشکم ز تماشائے چمن رنگ برآورد
گل آیا اور میری سنگی دل کو لعل میں بدل گیا، چمن کے تماشے سے میرے اشک بھی رنگین ہو گئے۔
غزالِ جنوں تیر پیوست ہونے کے بعد زمیں بوس نہیں ہوتا۔ تیر اس کے لیے رمیدگی افزا ثابت ہوتا ہے۔
حرم تک ان کا آنا کیوں اس قدر اشتیاق کا باعث ہے یہ واضح نہیں۔
ہم چونکہ ستاروں کے ہم قدم بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے کبھی نہ کبھی ہم تیرہ شبی سے وابستہ ہوں جائیں گے۔
وقت کے خامے کا آتش افشاں ہونا اس کا لمحۂ مرگ تلک پہنچنا اور صفحۂ زیست پر عدم آنا استعارۂ مرگ ہے۔
قربان جائیں آپ کے حسنِ فہم کے، آپ کے معانی نے تو ان اشعار کو ایک زندگی عطا کر دی۔۔۔
امان زرگر — جنوری 29، 2018 5:55 شام
تا بہ دروازۂ عدم میں تعقیدِ معنوی پائی جائے گی اس صورت میں۔
کچھ اس اصطلاح '' تعقیدِ معنوی '' کی وضاحت فرما دیں۔
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:33 شام
تا بہ دروازۂ حرم میں تعقیدِ معنوی پائی جائے گی اس صورت میں۔
۔۔۔
منتظر ہے فصیلِ باہر ، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:37 شام
سر محمد تابش صدیقی
محمد ریحان قریشی — جنوری 29، 2018 6:38 شام
کچھ اس اصطلاح '' تعقیدِ معنوی '' کی وضاحت فرما دیں۔
الفاظ کا ایسا الجھاؤ جو معنی بدل دے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 6:42 شام
مزا نہیں آیا
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 6:42 شام
۔۔۔
منتظر ہے فصیلِ باہر ، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
اس کے بارے میں کہا
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:43 شام
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
منتظر ہے فصیلِ باہر ، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو وقت کا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:43 شام
جی
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:46 شام
کیونکہ ریحان بھائی دوسرے مصرع سے اندر کا مفہوم نہیں لینے دے رہے تو باہر کا مفہوم لے لیا۔۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 29، 2018 6:47 شام
کیونکہ ریحان بھائی دوسرے مصرع سے اندر کا مفہوم نہیں لینے دے رہے تو باہر کا مفہوم لے لیا۔۔
اس متبادل سے تو پہلا بہتر ہے۔
محمد ریحان قریشی — جنوری 29، 2018 6:54 شام
واقعی غور کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ اول الذکر حالت میں شعر اتنا برا بھی نہیں تھا۔
امان زرگر — جنوری 29، 2018 6:58 شام
غالباً حرم کے اندر سے دروازے تک آنا مراد ہے، اور اشتیاق دیدار کا ہے۔

اس متبادل سے تو پہلا بہتر ہے۔

واقعی غور کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ اول الذکر حالت میں شعر اتنا برا بھی نہیں تھا۔
۔۔
منتظر ہیں حجاب اٹھے ، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے

امان زرگر — جنوری 29، 2018 7:03 شام
۔۔۔
جشنِ عشرت میں یاد غم آئے
اشکِ خونیں بہ چشمِ نم آئے
تیر پیوست ہو جگر میں جب
تب غزالِ جنوں پہ رم آئے
منتظر ہوں حجاب اٹھے، وہ
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
ہوں گے تیرہ شبی سے وابستہ
ہم ستاروں کے ہم قدم آئے
آتش افشاں ہو وقت کا خامہ
صفحۂِ زیست پر عدم آئے
سر الف عین
امان زرگر — جنوری 31، 2018 10:43 صبح
۔۔۔
بے حجابانہ دیکھنے ان کو
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
سر الف عین
فاعل مخفی رکھا ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔:)
الف عین — جنوری 31، 2018 1:48 شام
۔۔۔
بے حجابانہ دیکھنے ان کو
تا بہ دروازۂِ حرم آئے
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
سر الف عین
فاعل مخفی رکھا ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔:)
یہی سب سے بہتر صورت ہے۔
عدم والا شعر تو میرے گلے سے اب بھی نہیں اتر رہا، ریحان کے سمجھانے کے با وجود!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%BA%D8%B2%D9%84-46.99956/page-2