خائف ہیں ہست سے .....

محمد تابش صدیقی — مئی 23، 2016 1:17 شام
غالب کا پکا دیا ہے کلیجہ تم نے
تقطیع کیجئے اس کی​
جی تقطیع نہیں ہو رہی۔ اور میں خود کم علمی کے باعث تقطیع کرنے سے قاصر ہوں۔ اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں۔
لیکن اس بات کاتجربہ ہے کہ عروض انجن بعض اوقات درست تقطیع نہیں کر پاتا۔
عباد اللہ — مئی 23، 2016 1:18 شام
مفعولن۔۔۔۔۔ فاعلن مفاعیل فَعَل
غالب کا ۔۔۔۔پکا دیا ہے کلیجہ تم نے
محمد ریحان قریشی — مئی 23، 2016 1:19 شام
غالب کا پکا دیا ہے کلیجہ تم نے
تقطیع کیجئے اس کی​
فعلن متفا مفا فعلاتن فعلن
محمد تابش صدیقی — مئی 23، 2016 1:19 شام
کیوں تابش بھیا
ایسے کہنے سے نہ کہنا مجھے زیادہ بہتر لگا۔۔۔:)
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید آپ نے میرے جواب کا برا منایا ہے۔ وجہ سمجھ نہیں آئی۔ :)
محمد تابش صدیقی — مئی 23، 2016 1:21 شام
رباعی کے حوالے سے محمد وارث بھائی زیادہ بہتر رائے دے سکتے ہیں۔
عباد اللہ — مئی 23، 2016 1:26 شام
ہو سکتا ہے کوئی گنجائش ہو جس کو غالب استعمال کر رہے ہیں
یہاں دیکھئے
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب
دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سوگند ہو گیا ہے غالب
عباد اللہ — مئی 23، 2016 1:27 شام
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید آپ نے میرے جواب کا برا منایا ہے۔ وجہ سمجھ نہیں آئی۔ :)
ارے نہیں میں نے غالب کی رباعی کا برا منایا ہے بھیا
محمد تابش صدیقی — مئی 23، 2016 1:28 شام
رباعی کے غالباً 24 اوزان ہیں۔ ان میں سے کوئی ہو گا۔
محمد ریحان قریشی — مئی 23، 2016 1:28 شام
ہو سکتا ہے کوئی گنجائش ہو جس کو غالب استعمال کر رہے ہیں
یہاں دیکھئے
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب
دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سوگند ہو گیا ہے غالب
یہ رک رک والے مصرعے پہ اچھی خاصی جنگ ہو چکی ہے۔ قتیلان غالب اور ناقدین غالب، بقول جناب وارث ، کے درمیان۔
عباد اللہ — مئی 23، 2016 1:34 شام
یہ رک رک والے مصرعے پہ اچھی خاصی جنگ ہو چکی ہے۔ قتیلان غالب اور ناقدین غالب، بقول جناب وارث ، کے درمیان۔
کوئی اسے درست بھی سمجھتا ہے؟؟
کیا
وہ جنگ کس صفحے پر ہوئی
لنک مل سکتا ہے؟
عباد اللہ — مئی 23، 2016 1:37 شام
لیجئے صاحب تنافر کی سند ملاحظہ ہو
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
محمد وارث — مئی 23، 2016 1:41 شام
اتنی معلومات تو عروض سے مل ہی گئیں ریحان چند رباعیاں اگر آپ پیش کر سکیں ( کہ عروض نے بھی معذرت کر لی) تا کہ ہمیں بھی معلوم ہو اساتذہ نے اسے کیسے برتا ہے

رباعی کے حوالے سے محمد وارث بھائی زیادہ بہتر رائے دے سکتے ہیں۔

مفعولن فاعلن مفاعیل فعِل یا فعول رباعی کا ایک عام وزن ہے، اور اس وزن میں بے شمار مصرعے مل جائیں گے۔ یاس یگانہ کی چراغِ سخن میں جامی علیہ الرحمہ کی چھ رباعیاں درج ہیں جس میں ہر مصرعے کا وزن مختلف ہے، سو ان میں بھی مل جائیں گی۔ واضح رہے کہ رباعی کے چوبیس اوزان میں سے بارہ "مفعولن" سے شروع ہو تے ہیں۔ ان بارہ میں سے چار میں مفعولن کے بعد "فاعلن" آتا ہے۔ دو میں فاعلن کے بعد "مفاعیل" آتا ہے اور پھر ایک ایک میں آخری رکن فعِل یا فعول ہوتا ہے۔ یہ شجرہ دیکھیے۔
Rubai_Akhram.jpg

فی الفور جو مجھے یاد آسکیں وہ
بے سود ہے گنج و مال و دولت کی تلاش
ذلّت ہے دراصل جاہ و شوکت کی تلاش
اکبر تو سرورِ طبع کو علم میں ڈھونڈ
محنت میں کر سکون و راحت کی تلاش
اکبر الہ آبادی
چوتھا مصرع مذکورہ وزن میں ہے۔
واعظ گفتا کہ نیست مقبول دُعا
زاں دست کہ آلود بہ جامِ صہبا
رندے گفتا کہ تا بوَد جام بہ دست
دیگر بہ دعا کسے چہ خواہد ز خدا؟
سرخوش
پہلا مصرع، مفعولن فاعلن مفاعیل فعِل
اور بات چھڑی ہے تو اپنی بھی ایک پرانی رباعی لکھ دیتا ہوں، تیسرا مصرع مذکورہ وزن میں ہے :)
شکوہ بھی لبوں پر نہیں آتا ہمدَم
آنکھیں بھی رہتی ہیں اکثر بے نَم
مردم کُش یوں ہُوا زمانے کا چلن
اب دل بھی دھڑکتا ہے شاید کم کم
شاہد شاہنواز — مئی 23، 2016 1:48 شام
جہاں تک میں نے اس گفتگو کو دیکھا ہے، مجھے یہ لگتا ہے کہ رباعی کے وزن میں غزل کہی جاسکتی ہے یا نہیں، اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔
توجہ فرمائیے گا۔ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کہی جاسکتی ہے۔ کیونکہ عام دنیا کے لیے یہ اوزان خاصے غیر معروف ہیں۔ انہیں روانی میں نہیں پڑھا جاسکتا۔
محمد وارث صاحب ۔۔۔
محمد وارث — مئی 23، 2016 1:49 شام
کوئی اسے درست بھی سمجھتا ہے؟؟
کیا
وہ جنگ کس صفحے پر ہوئی
لنک مل سکتا ہے؟
بحر الفصاحت کے آخر میں سید قدرت اللہ نے اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے۔ میں نے ایک جگہ جواب دیا تھا۔
محمد وارث — مئی 23، 2016 1:49 شام
جہاں تک میں نے اس گفتگو کو دیکھا ہے، مجھے یہ لگتا ہے کہ رباعی کے وزن میں غزل کہی جاسکتی ہے یا نہیں، اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔
توجہ فرمائیے گا۔ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کہی جاسکتی ہے۔ کیونکہ عام دنیا کے لیے یہ اوزان خاصے غیر معروف ہیں۔ انہیں روانی میں نہیں پڑھا جاسکتا۔
محمد وارث صاحب ۔۔۔
کوئی پابندی نہیں ہے قانوناً لیکن روایتاً شاعر ان اوزان میں عموماً غزل نہیں کہتے۔
محمد وارث — مئی 23، 2016 1:57 شام
لیجئے جناب غالب بھی ایک مصرع بے وزن کہہ گئے ہیں!!
غالب کا پکا دیا ہے کلیجہ تم نے
یاا س کی رعایت ہے؟
آپ نے جہاں سے بھی یہ رباعی لکھی ہے انہوں نے غلط مصرع لکھا ہے۔ "ہے" زاید ہے، اس کو نکال کر دیکھیں۔
غالب کا پکا دیا کلیجا تم نے
La Alma — مئی 23، 2016 2:24 شام
جز قم کے، ہم سماوی ستم ڈھونڈتے ہیں
خائف ہیں ہست سے عدم ڈھونڈتے ہیں
مطلع بہت جان دار ہے اور شعری لہجہ بھی نہایت منفرد!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں .
La Alma — مئی 23، 2016 2:25 شام
بہت شکریہ .
La Alma — مئی 23، 2016 2:30 شام
کوئی پابندی نہیں ہے قانوناً لیکن روایتاً شاعر ان اوزان میں عموماً غزل نہیں کہتے۔

ابہام دور کرنے کے لئے آپ کی مشکور ہوں.
.بیچاری غزل تو اس جرات پر بہت سہمی ہوئی تھی ☺
محمد ریحان قریشی — مئی 23، 2016 2:33 شام
لیجئے صاحب تنافر کی سند ملاحظہ ہو
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
تنافر ہر تیسری غزل میں ملتا ہے جناب۔ ایسا کوئی استاد ابھی تک تو میرے حساب سے نہیں گزرا جس کا کلام تنافر سے مکمل پاک ہو۔ اور تنافر قابل برداشت بھی ہے۔ مرزا کا ہی مصرعہ ہے
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
دیکھیں ک کے مسلسل تین بار متحرک آنے سے کتنا حسن پیدا ہوگیا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%A7%D8%A6%D9%81-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D8%B3%D8%AA-%D8%B3%DB%92.90041/page-2