برائے اصلاح
ذات کو اپنی تماشہ ہی بنا رکھا ہے
حال دل کا جو زمانے کو بتا رکھا ہے
آپ کرتے ہیں محبت بھی زمانے جیسی
چڑھتے سورج کو سدا جس نے خدا رکھا ہے
وہ تو پگلی ہے محبت کا یقیں کر لے گی
تو نے کیوں خوابوں سے آنکھوں کو سجا رکھا ہے
شہر بھر نے تو فقط پھولوں کو ہی اپنایا
میں نے کانٹوں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے
صبح کرتی ہے بیاں شب کی اداسی تیری
تو نے آنکھوں میں سمندر کو چھپا رکھا ہے
عمر گزری ہے مگر سیکھا نہیں جینا وہ
دوست اس نے جو زمانے کو بنا رکھا ہے
تم ہو انجان محبت کو برا کہتے ہو
درد ِ دل میں بھی کیا خوب مزا رکھا ہے
مجھ پہ احسان ہے جیون کی جفا کاری کا
سچ ہے مشکل میں بھی قدرت نے بھلا رکھا ہے
ماں تو انمول ہے قدرت کے حسیں تحفوں میں
جس کی آغوش میں جنت کا مزا رکھا ہے
تیری رحمت پہ سدا شکر کیا کرتا ہوں
نام میرا جو زمانے میں بنا رکھا ہے
وہ جو مخمور محبت کو برا کہتے ہیں
ایسا لگتا ہے محمد کو بھلا رکھا ہے
س ن مخمور
حال دل کا جو زمانے کو بتا رکھا ہے
آپ کرتے ہیں محبت بھی زمانے جیسی
چڑھتے سورج کو سدا جس نے خدا رکھا ہے
وہ تو پگلی ہے محبت کا یقیں کر لے گی
تو نے کیوں خوابوں سے آنکھوں کو سجا رکھا ہے
شہر بھر نے تو فقط پھولوں کو ہی اپنایا
میں نے کانٹوں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے
صبح کرتی ہے بیاں شب کی اداسی تیری
تو نے آنکھوں میں سمندر کو چھپا رکھا ہے
عمر گزری ہے مگر سیکھا نہیں جینا وہ
دوست اس نے جو زمانے کو بنا رکھا ہے
تم ہو انجان محبت کو برا کہتے ہو
درد ِ دل میں بھی کیا خوب مزا رکھا ہے
مجھ پہ احسان ہے جیون کی جفا کاری کا
سچ ہے مشکل میں بھی قدرت نے بھلا رکھا ہے
ماں تو انمول ہے قدرت کے حسیں تحفوں میں
جس کی آغوش میں جنت کا مزا رکھا ہے
تیری رحمت پہ سدا شکر کیا کرتا ہوں
نام میرا جو زمانے میں بنا رکھا ہے
وہ جو مخمور محبت کو برا کہتے ہیں
ایسا لگتا ہے محمد کو بھلا رکھا ہے
س ن مخمور