عاشقی سے بڑا رِیا ہی نہیں

کاشف اسرار احمد — جنوری 18، 2016 6:56 شام
میری پوری غزل کا دھاگا یہاں اس دھاگے کے ساتھ خلط ملط ہو گیا ہے۔
اصلاح سخن سے یہاں کہاں آ گئے ؟
الف عین سر،
ادب دوست
ابن رضا
سید عاطف علی
محمد وارث — جنوری 20، 2016 11:33 صبح
میری پوری غزل کا دھاگا یہاں اس دھاگے کے ساتھ خلط ملط ہو گیا ہے۔
اصلاح سخن سے یہاں کہاں آ گئے ؟
الف عین سر،
ادب دوست
ابن رضا
سید عاطف علی

جی یہ کسی خود کار طریقے کی وجہ سے ہو گیا ہوگا، بہرحال اندازہ لگا کر آپ کے تھریڈ کے مراسلے علیحدہ کر دیے ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 3:04 شام
عاشقی سے بڑا رِیا ہی نہیں !
کیونکہ انجام کچھ پتا ہی نہیں !
اس کی تربت پہ، پھول رکھ آیا
زندگی بھر، جسے ملا ہی نہیں !

کاشف بھائی ! اچھی غزل ہے۔ بہت خوب ! بہت داد آپ کے لئے! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
صرف دو تین باتوں کو دیکھ لیجئے ۔ ریا مونث ہے اس لئے بڑی ریا درست ہوگا۔ دوسرے شعر میں جسے کے بجائے جس سے کا محل ہے یعنی زندگی بھر میں جس سے ملا ہی نہیں ۔ شاید یہی آپ کا مدعا ہے یہاں ؟! یا میں اسے کسی اور طرح سے دیکھ رہا ہوں؟ ایک شعر میں آپ نے ضِم لکھا ہے لیکن اس کا اصل تلفظ ضَم ہے ۔
ایک بار پھر عرض کروں گا کہ کوما کا بیجا استعمال ہوا ہے کئی اشعار میں جس کی وجہ سے شعر فہمی میں بلاوجہ کی الجھن اور پیچیدگی پیدا ہورہی ہے ۔ مثلا اس شعر کا کیا مطلب ہے؟
شکوہ کیوں، حرفِ زیرِ لب، آیا ؟
یہ، مُحبّت میں ضابطہ ہی نہیں !

میرا برادرانہ مشورہ ہے کہ قواعد کی کسی کتاب سے رموز اوقاف کو ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ آگے کے بہت کام آئے گی ۔ اگر کوئی بات ناگوار گزرے تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں ۔ ایک بار پھر داد و تحسین!
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:01 شام
کاشف بھائی ریا اردو میں مؤنث استعمال ہو تی ہے۔
عاطف بھائی ذرا 'ریا' کے مؤنث ہونے کا کوئی حوالہ عنایت فرمائیں۔
فیروزالغات میں مجھے ایسا کچھ ملا نہیں یا شاید میرے پاس پرانا نسخہ ہے۔
ویب سائٹ پر تو مذکر ہی درج ہے۔
نوازش۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:01 شام
جی یہ کسی خود کار طریقے کی وجہ سے ہو گیا ہوگا، بہرحال اندازہ لگا کر آپ کے تھریڈ کے مراسلے علیحدہ کر دیے ہیں۔
بہت بہت شکریہ وارث بھائی۔
جزاک اللہ
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:06 شام
کاشف بھائی ! اچھی غزل ہے۔ بہت خوب ! بہت داد آپ کے لئے! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
صرف دو تین باتوں کو دیکھ لیجئے ۔ ریا مونث ہے اس لئے بڑی ریا درست ہوگا۔ دوسرے شعر میں جسے کے بجائے جس سے کا محل ہے یعنی زندگی بھر میں جس سے ملا ہی نہیں ۔ شاید یہی آپ کا مدعا ہے یہاں ؟! یا میں اسے کسی اور طرح سے دیکھ رہا ہوں؟ ایک شعر میں آپ نے ضِم لکھا ہے لیکن اس کا اصل تلفظ ضَم ہے ۔
ایک بار پھر عرض کروں گا کہ کوما کا بیجا استعمال ہوا ہے کئی اشعار میں جس کی وجہ سے شعر فہمی میں بلاوجہ کی الجھن اور پیچیدگی پیدا ہورہی ہے ۔ مثلا اس شعر کا کیا مطلب ہے؟
شکوہ کیوں، حرفِ زیرِ لب، آیا ؟
یہ، مُحبّت میں ضابطہ ہی نہیں !

میرا برادرانہ مشورہ ہے کہ قواعد کی کسی کتاب سے رموز اوقاف کو ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ آگے کے بہت کام آئے گی ۔ اگر کوئی بات ناگوار گزرے تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں ۔ ایک بار پھر داد و تحسین!
بے حد شکریہ ظہیر صاحب
ضَم کے صحیح تلفّظ کی اصلاح کے لئے شکریہ۔
آپ کا اندازہ درست ہے ۔ بات 'جس سے' کے متعلق ہی ہے اور عام فہم زبان کے استعمال سے 'جسے' کہہ کر شعر مکمل کیا گیا ہے۔
رموز و اوقاف سے متعلق آپ کے مشورہ کو ذہن میں رکھونگا۔ نوازش۔
جزاک اللہ
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:06 شام
بہت خوب کاشف بھائی۔
اس زمین میں کرشن بہاری نور صاحب کی غزل میری پسندیدہ غزلوں میں سے ایک ہے۔
شکریہ بھائی۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:07 شام
نوازش جناب کی۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:08 شام
بہت کماااااال صاحب،،،،،،،،،
جزاک اللہ
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 7:12 شام
کاشف بھائی ! ریا کے لئے نوراللغات کا یہ حوالہ دیکھ لیجئے ۔
https://archive.org/details/nrullught03nayy
عاطف بھائی کو زحمت سے بچالیا میں نے ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:12 شام
بہت خوب
کیا رِیا اور دھوکہ ہم معنی ہیں؟ یعنی بمطابق شرحِ شاعر ریا کو بطور دھوکا استعمال کیا گیا ہے۔ کیا میں درست سمجھا؟
شکریہ رضا بھائی۔
'ریا' بمعنی دھوکا، مکر وفریب،
بحوالہ فیروزالغات۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:15 شام
کاشف بھائی ! ریا کے لئے نوراللغات کا یہ حوالہ دیکھ لیجئے ۔
https://archive.org/details/nrullught03nayy
عاطف بھائی کو زحمت سے بچالیا میں نے ۔
شکریہ ظہیر بھائی۔
میں ڈاؤنلوڈ کرتا ہوں ابھی۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:20 شام
جہاں تک غزل کا تعلق ہے تو بلاشبہ خوب کہا لیکن جو کہا اس پر شاید تحفظات ہونگے ۔ ۔ اکثر کے کیونکے اگر عاشقی ہی ٹہری تو پھر ریا کہاں ۔۔ اس کیفیت میں ریا کا گزر نہیں ہوسکتا ۔۔۔ عاشقی تو اپنی ذات مٹادینے کا نام ہے کسی کی ذات کے لئے ...اس میں ریا آگیا تو پھر وہ کچھ اور تو ہوسکتا ہے عاشقی نہیں ...
جی تحفظات تو ان کے بھی ہو سکتے ہیں جنھیں یہ 'ریا' لگتی ہے اکمل صاحب:p
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:22 شام
ماشاء اللہ اس میں اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں۔
جزاک اللہ استاد محترم۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 7:29 شام
کاشف بھائی چار جلدیں ہیں ۔ آرکائیو کے صفحے پر Nrullught لکھ کر تلاش کریں گے تو چاروں کا لنک مل جائے گا ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:32 شام
ارے یہ تو تھی میرے پاس ۔
لیکن اس میں کہیں بھی رِیا کے 'مذکر' یا 'مؤنث' ہونے کے بارے میں نہیں لکھا !!
کہیں اور سے درست حوالہ مل سکتا ہے ؟
کاشف اسرار احمد — جنوری 20، 2016 7:33 شام
کاشف بھائی چار جلدیں ہیں ۔ آرکائیو کے صفحے پر Nrullught لکھ کر تلاش کریں گے تو چاروں کا لنک مل جائے گا ۔
یہ چاروں جلد میرے پاس تھیں۔
خیر۔
اس میں آپ کا حوالہ موجود نہیں ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 11:53 شام
یہ چاروں جلد میرے پاس تھیں۔
خیر۔
اس میں آپ کا حوالہ موجود نہیں ہے۔
کاشف بھائی یہ والا ربط دیکھ لیجئے ۔ صفحہ نمبر ۱۱۳ پر موجود ہے ۔صاف مونث لکھا ہوا ہے ۔ نیز مولوی فیروزالدین نے بھی ریا کو مونث ہی لکھا ہے ۔ ریا کی تجنیس تو کبھی متنازع نہیں رہی۔
https://archive.org/stream/nrullught03nayy#page/113/mode/2up
سید عاطف علی — جنوری 21، 2016 4:13 صبح
عاطف بھائی ذرا 'ریا' کے مؤنث ہونے کا کوئی حوالہ عنایت فرمائیں۔
فیروزالغات میں مجھے ایسا کچھ ملا نہیں یا شاید میرے پاس پرانا نسخہ ہے۔
ویب سائٹ پر تو مذکر ہی درج ہے۔
نوازش۔
حوالہ تو ایسی صورت میں درکار ہوتا ہے جہاں کچھ شبہ ہو ۔آداب
اکمل زیدی — جنوری 21، 2016 4:53 صبح
جی تحفظات تو ان کے بھی ہو سکتے ہیں جنھیں یہ 'ریا' لگتی ہے اکمل صاحب:p
صحیح کہا مگر ہم نے تو مجموعی بات کی اور بقول حبیب جالب کے "وہ بات چھیڑ جس سے جھلکتا ہو سب کا غم" :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%91%D8%A7-%D8%B1%D9%90%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.87338/page-2