عاشقی سے بڑا رِیا ہی نہیں

ابن رضا — جنوری 21، 2016 7:24 صبح
شکریہ رضا بھائی۔
'ریا' بمعنی دھوکا، مکر وفریب،
بحوالہ فیروزالغات۔
ریا کی جڑیں تو دھوکے فریب سے ہی ملتی ہیں مگر میرے خیال میں یہ ایک خاص اصطلاح ہے جو ظاہر داری، بناوٹ تصنع یا منافقت وغیرہ کی طرف پہلا اشارہ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ کیا جس بھی چیز کا انجام نا معلوم ہو تو اسے ریا بمعنی منافقت حتیٰ کہ دھوکہ ہی لیا جائے گا؟؟ یہ میرا نکتہ تھا۔
محمد وارث — جنوری 21، 2016 10:29 صبح
ارے یہ تو تھی میرے پاس ۔
لیکن اس میں کہیں بھی رِیا کے 'مذکر' یا 'مؤنث' ہونے کے بارے میں نہیں لکھا !!
کہیں اور سے درست حوالہ مل سکتا ہے ؟

کاشف صاحب، معاف کیجیے گا، ریا کو مذکر بندھا دیکھ کر کئی دن سے طبیعت گڑبڑ ہو رہی ہے، کئی دوستوں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی ہے لیکن آپ ہے کہ مان کے ہی نہیں دے رہے، یہ محبوب سے وصل کا اصرار نہیں ہے بھئی کہ کوئی مانے ہی نہ، اصلاحِ سخن ہے سو دماغ کھلا رکھیں۔
درست ہے کہ دھوکا، مذکر ہے لیکن یہ کہاں سے آ گیا کہ اس کے سارے مترادف بھی مذکر ہونگے۔ مثال کے طور پر، پیار مذکر ہے لیکن اس کا مترادف محبت مونث ہے، عشق مذکر ہے وغیرہ۔ اب اگر آپ کسی سے کہیں کے مجھے تم سے پیار ہوگیا ہے تو شاید وہ شرمائے یا خفگی کا اظہار کرے، لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ مجھے تم سے محبت ہو گیا ہے تو وہ ہنسے گا، اگر آپ کہیں گے کہ ہنستے کیوں ہو کسی مستند لغت کی سند لاؤ تو شاید معاملہ زیادہ نازک ہو جائے۔ اور اگر خدا نخواستہ اسی چیز کو آپ شعر میں باندھ دیں گے تو بھدا لگے گا اور بھد اڑے گی۔
پھر بھی آپ کی تشفی کے لیے نیچے دو مستند ترین لغات، فرہنگ آصفیہ اور نور اللغات کے عکس دے رہا ہوں، باقی آپ کی مرضی ہے صاحب۔
r2.jpg

r1.jpg
اکمل زیدی — جنوری 21، 2016 11:51 صبح
جس بھی چیز کا انجام نا معلوم ہو تو اسے ریا بمعنی منافقت حتیٰ کہ دھوکہ ہی لیا جائے گا؟؟
رضا بھائی جب انجام ہی نہ معلوم ہوا تو اسے دھوکے اور ریا کے کھاتے میں کیوں ڈالینگے ..یہ تو انجام ہے بتائے گا کے یہ دھوکا تھا یا منافقت تھی ...
اکمل زیدی — جنوری 21، 2016 11:59 صبح
اے عدم ہر گناہ کر ! لیکن دوستوں سے ریا کی بات نہ کر.
ابن رضا — جنوری 21، 2016 12:02 شام
رضا بھائی جب انجام ہی نہ معلوم ہوا تو اسے دھوکے اور ریا کے کھاتے میں کیوں ڈالینگے ..یہ تو انجام ہے بتائے گا کے یہ دھوکا تھا یا منافقت تھی ...
تو حضور یہی بات تو مطلع میں شاعر نے کی ہے کہ چونکہ عاشقی کا انجام معلوم نہیں اس لیے اس سے بڑا دھوکا کوئی نہیں ۔جس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا ، مطلع دوبارہ پڑھیں۔
سید عاطف علی — جنوری 21، 2016 12:04 شام
اے عدم ہر گناہ کر ! لیکن دوستوں سے ریا کی بات نہ کر.
یہاں بات کی تا نیث ثابت ہو تی ہے۔ ریا کی نہیں ۔۔۔۔
ریا کی تانیث کا مقدمہ فیصل ہو چکا ہے۔ لغات و قوامیس کے حوالوں سے۔
محمد وارث — جنوری 21، 2016 12:18 شام
ابنِ رضا صاحب کی بات درست اور باوزن ہے۔
مطلع کے مصرعِ اول میں شاعر نے دعویٰ کیا ہے کہ عاشقی سے بڑی منافقت کوئی نہیں ہے (ہی کے استعمال سے انہوں نے اپنی مشکلات میں اور اضافہ کر لیا ہے کہ ہی سب کچھ لپیٹ لیتا ہے)۔ اب جتنا بڑا دعویٰ ہے اتنی بڑی ہی دلیل چاہیے تھی لیکن دوسرے مصرعے میں دلیل ناقص ہے۔ انجام کا علم نہ ہونے سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ وہ چیز دھوکا، ریا، منافقت ہے، نہ صرف ناقص دلیل ہے بلکہ باطل دلیل ہے، نہ صرف باطل دلیل ہے بلکہ سرے سے اس خاص دعوی پر یہ دلیل ہے ہی نہیں۔
یہ اصلاح نہیں ہے لیکن صرف ایک متفرق خیال ہے جو میرے ذہن میں آیا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں تُو اگر مرا ہی نہیں
یا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں گر جیا مرا ہی نہیں
وغیرہ وغیرہ
ابن رضا — جنوری 21، 2016 12:23 شام
ابنِ رضا صاحب کی بات درست اور باوزن ہے۔
مطلع کے مصرعِ اول میں شاعر نے دعویٰ کیا ہے کہ عاشقی سے بڑی منافقت کوئی نہیں ہے (ہی کے استعمال سے انہوں نے اپنی مشکلات میں اور اضافہ کر لیا ہے کہ ہی سب کچھ لپیٹ لیتا ہے)۔ اب جتنا بڑا دعویٰ ہے اتنی بڑی ہی دلیل چاہیے تھی لیکن دوسرے مصرعے میں دلیل ناقص ہے۔ انجام کا علم نہ ہونے سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ وہ چیز دھوکا، ریا، منافقت ہے، نہ صرف ناقص دلیل ہے بلکہ باطل دلیل ہے، نہ صرف باطل دلیل ہے بلکہ سرے سے اس خاص دعوی پر یہ دلیل ہے ہی نہیں۔
یہ اصلاح نہیں ہے لیکن صرف ایک متفرق خیال ہے جو میرے ذہن میں آیا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں تُو اگر مرا ہی نہیں
یا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں گر جیا مرا ہی نہیں
وغیرہ وغیرہ
توثیق و مفصل وضاحت کے لیے ممنون ہوں وارث سر۔جزاکم اللہ خیرا
کاشف اسرار احمد — جنوری 21، 2016 7:01 شام
کاشف صاحب، معاف کیجیے گا، ریا کو مذکر بندھا دیکھ کر کئی دن سے طبیعت گڑبڑ ہو رہی ہے، کئی دوستوں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی ہے لیکن آپ ہے کہ مان کے ہی نہیں دے رہے، یہ محبوب سے وصل کا اصرار نہیں ہے بھئی کہ کوئی مانے ہی نہ، اصلاحِ سخن ہے سو دماغ کھلا رکھیں۔
درست ہے کہ دھوکا، مذکر ہے لیکن یہ کہاں سے آ گیا کہ اس کے سارے مترادف بھی مذکر ہونگے۔ مثال کے طور پر، پیار مذکر ہے لیکن اس کا مترادف محبت مونث ہے، عشق مذکر ہے وغیرہ۔ اب اگر آپ کسی سے کہیں کے مجھے تم سے پیار ہوگیا ہے تو شاید وہ شرمائے یا خفگی کا اظہار کرے، لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ مجھے تم سے محبت ہو گیا ہے تو وہ ہنسے گا، اگر آپ کہیں گے کہ ہنستے کیوں ہو کسی مستند لغت کی سند لاؤ تو شاید معاملہ زیادہ نازک ہو جائے۔ اور اگر خدا نخواستہ اسی چیز کو آپ شعر میں باندھ دیں گے تو بھدا لگے گا اور بھد اڑے گی۔
پھر بھی آپ کی تشفی کے لیے نیچے دو مستند ترین لغات، فرہنگ آصفیہ اور نور اللغات کے عکس دے رہا ہوں، باقی آپ کی مرضی ہے صاحب۔
r2.jpg

r1.jpg
طبیعت ٹھیک کر لیجئے وارث بھائی۔ :)
مجھے واقعی کسی لغت میں نہیں ملا تھا سو اپنی تشفی کے لئے ہی پوچھ رہا تھا۔
اب شعر درست کئے دیتا ہوں۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 21، 2016 7:05 شام
ابنِ رضا صاحب کی بات درست اور باوزن ہے۔
مطلع کے مصرعِ اول میں شاعر نے دعویٰ کیا ہے کہ عاشقی سے بڑی منافقت کوئی نہیں ہے (ہی کے استعمال سے انہوں نے اپنی مشکلات میں اور اضافہ کر لیا ہے کہ ہی سب کچھ لپیٹ لیتا ہے)۔ اب جتنا بڑا دعویٰ ہے اتنی بڑی ہی دلیل چاہیے تھی لیکن دوسرے مصرعے میں دلیل ناقص ہے۔ انجام کا علم نہ ہونے سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ وہ چیز دھوکا، ریا، منافقت ہے، نہ صرف ناقص دلیل ہے بلکہ باطل دلیل ہے، نہ صرف باطل دلیل ہے بلکہ سرے سے اس خاص دعوی پر یہ دلیل ہے ہی نہیں۔
یہ اصلاح نہیں ہے لیکن صرف ایک متفرق خیال ہے جو میرے ذہن میں آیا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں تُو اگر مرا ہی نہیں
یا
عاشقی سے بڑی ریا ہی نہیں
عشق میں گر جیا مرا ہی نہیں
وغیرہ وغیرہ
لیجئے صاحب شعر کا تیا پانچا بھی ہو گیا۔:p
لیجئے اب تو مطلع ہی خارج کیے دیتا ہوں غزل سے۔
یہ شعر 'خیال متروک' کے زمرے میں جاں بحق ہوا۔:LOL:
تمام احباب کا شکریہ۔(y)
جزاک اللہ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 21، 2016 7:09 شام
آپ تمام احباب کا شکرگزار ہوں کہ نا چیز کی معمولی کاوشات پر بھرپور توجہ کی نظر کرتے ہیں اور مفید مشوروں اور تبصروں سے نوازتے ہیں۔
بالخصوص جناب عاطف علی اور وارث بھائی کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔
جزاک اللہ۔(y):)
کاشف اسرار احمد — جنوری 21، 2016 7:49 شام
نیا مطلع پیش کر رہا ہوں
جامِ اُلفت، اگر پِیا ہی نہیں !
سچ کہوں، تُو تَو پھر جِیا ہی نہیں !
ابن رضا — جنوری 22، 2016 4:51 صبح
نیا مطلع پیش کر رہا ہوں
جامِ اُلفت، اگر پِیا ہی نہیں !
سچ کہوں، تُو تَو پھر جِیا ہی نہیں !
خیال سے قطع نظر اس مطلعے کو ایطا نے گھیر لیا ہے
الف عین — جنوری 22، 2016 9:43 صبح
ریا کی غلطی واقعی میرا صرف نظر تھا۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں ’ریا‘ کو مذکر سمجھتا ہوں۔
نیا مطلع ایطا کا شکار ہے، پہلے مصرع میں ’چکھا‘ سے بات بن سکتی ہے؟
کاشف اسرار احمد — جنوری 22، 2016 12:06 شام
خیال سے قطع نظر اس مطلعے کو ایطا نے گھیر لیا ہے
شکریہ رضا بھائی۔
اس جانب دھیان نہیں آیا۔
جزاک اللہ۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 22، 2016 12:12 شام
ریا کی غلطی واقعی میرا صرف نظر تھا۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں ’ریا‘ کو مذکر سمجھتا ہوں۔
نیا مطلع ایطا کا شکار ہے، پہلے مصرع میں ’چکھا‘ سے بات بن سکتی ہے؟
بہت بہتر استاد محترم
احباب سے گزارش ہے کہ اب شعر یوں پڑھا جائے:
جامِ اُلفت، اگر چکھا ہی نہیں !
سچ کہوں، تُو تَو پھر جِیا ہی نہیں !
جزاک اللہ
ابن رضا — جنوری 22، 2016 5:51 شام
شکریہ رضا بھائی۔
اس جانب دھیان نہیں آیا۔
جزاک اللہ۔
نور لکھنوی صاحب کی یہ زمین مجھے بھی پسند ہے اس میں طبع آزمائی کا ارادہ ہے دیکھتے ہیں کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ اونٹ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%91%D8%A7-%D8%B1%D9%90%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.87338/page-3