جزاک اللہ
مری قسمت میں لکها غم جہاں کا
تو لکها خوف بهی سود و زیاں کا
بنا کر دوست مجه کو تم نے اپنا
بنا رکها ہے دشمن اس جہاں کا
مرے ہی واسطے وہ خط ہے قاصد
پتا لکها نہیں جس پر یہاں کا
وہ دیکهو پوجتے ہیں لوگ جس کو
وہ پوجا جا چکا ہے ان بتاں کا
خدا جانے، نہ ہونے کا پتا ہو
مکاں میں خواب دیکها لامکاں کا
زمیں کی بات کتنے کر گئے ہیں
کوئی قصہ سناو آسماں کا
صبا اس کو مرا پیغام دینا
عظیم اپنا نہیں کیا دوستاں کا
26 جنوری 2014