عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — جنوری 26، 2014 5:44 صبح
جزاک اللہ
عظیم — جنوری 26، 2014 5:46 صبح

مری قسمت میں لکها غم جہاں کا
تو لکها خوف بهی سود و زیاں کا
بنا کر دوست مجه کو تم نے اپنا
بنا رکها ہے دشمن اس جہاں کا
مرے ہی واسطے وہ خط ہے قاصد
پتا لکها نہیں جس پر یہاں کا
وہ دیکهو پوجتے ہیں لوگ جس کو
وہ پوجا جا چکا ہے ان بتاں کا
خدا جانے، نہ ہونے کا پتا ہو
مکاں میں خواب دیکها لامکاں کا
زمیں کی بات کتنے کر گئے ہیں
کوئی قصہ سناو آسماں کا
صبا اس کو مرا پیغام دینا
عظیم اپنا نہیں کیا دوستاں کا
26 جنوری 2014

عظیم — جنوری 26، 2014 6:19 صبح
الف عین
عظیم — جنوری 26، 2014 6:27 صبح

تو میری جان چاہے جان دے دوں
کہ دیں مزہب ہے کیا ایمان دے دوں
مری جانب اگر ہو اک اشارہ
قسم کهاتا ہوں تیری، جان دے دوں
ترے دیدار کے صدقے میں لاکهوں
کڑوڑوں بار جاناں جان دے دوں
سنا ہے عشق میں جائے جوانی
بڑهاپے کا سرو سامان دے دوں
میں اپنے ہر تعلق کو خدایا
نئی پهر سے کوئی پہچان دے دوں
عظیم اس سوچ میں بیٹها ہوں اس کو
میں دے دوں دل جگر یا جان دے دوں
26 جنوری 2014

عظیم — جنوری 26، 2014 6:30 صبح
الف عین
عظیم — جنوری 26، 2014 6:55 صبح
تمام حضرات سے تنقید کی درخواست ہے
عظیم — جنوری 26، 2014 7:05 صبح
تمام حضرات سے تنقید کی درخواست ہے
عظیم — جنوری 27، 2014 3:54 صبح
جیت جاوں تو ہار جاتا ہوں
خود سے لڑنے بے کار جاتا ہوں
تیرے گلشن سے روز لے کر میں
اپنی جهولی میں خار جاتا ہوں
تجه پہ جاتا ہوں صدقے جان جاں
تجه پہ ہر دم نثار جاتا ہوں
تیری راہوں میں دهول ہو کے میں
بن کے اپنا غبار جاتا ہوں
جیت جاتا ہوں قیس دنیا سے
خود سے لیکن میں ہار جاتا ہوں

27 جنوری 2014​
الف عین — جنوری 27، 2014 5:24 صبح
آخری دو اشعار خوب ہیں۔ اگرچہ مقطع سے پہلے کے شعر میں روانی بہر ہو سکتی ہے۔
مطلع میں بے کار ‘بکار‘ تقطیع ہو رہا ہے جو غلطی ہے۔
باقی دو اشعار میں کوئی خاص بات نہیں، بھرتی کے اشعار ہیں
عظیم — جنوری 27، 2014 5:58 صبح
اپنے ہونے سے بهی اب تو خوف آتا ہے مجهے
اس کے ہونے سے اے ناصح کیوں ڈراتا ہے مجهے
دیکه لی اوقات اپنی آج اس کی آنکه میں
جو سمجهتا ہے کهلاتا ہے پلاتا ہے مجهے
کس تعلق پر میں رکهوں تجه سے رشتہ استوار
ہر تعلق بے سبب ہی توڑ جاتا ہے مجهے
کیا برا تها گر نہ ہوتا شوق مرنے کا تجهے
زندگی کیا ہے مرا قاتل سکهاتا ہے مجهے
چین کا اک پل کبهی ہوگا میسر کیا عظیم
ہر نئی شب کو نیا صدمہ رلاتا ہے مجهے

27 جنوری 2014​
عظیم — جنوری 27، 2014 6:00 صبح
الف عین
عظیم — جنوری 27، 2014 8:31 شام

سوچتا ہوں لوٹ جاوں اس سفر کو چهوڑ کر
اپنے پیروں کو پهر اس دنیا کی جانب موڑ کر
تم گئے ہو کیوں مجهے یوں چهوڑ کر تنہا کہو
یوں بهی جاتا ہے کوئی کیا سب تعلق توڑ کر
ٹوٹ جاتا ہوں مسلسل ٹوٹنے کے خوف سے
خود کو رکهتا ہوں میں پهر سے ٹوٹنے کو جوڑ کر

عظیم — جنوری 27، 2014 8:33 شام
الف عین محمد یعقوب آسی
محمد یعقوب آسی — جنوری 27، 2014 9:06 شام
اچھے شعر ہیں۔ خوش رہئے۔
عظیم — جنوری 27، 2014 9:19 شام
جزاک اللہ
عظیم — جنوری 27، 2014 9:20 شام

دین و دنیا بُھلا کے بیٹھے ہیں
عشق مذہب بَنا کے بیٹھے ہیں
اپنی مَیت سَجا کے بیٹھے ہیں
اِک تماشا لَگا کے بیٹھے ہیں
خُون اپنا بہا کے بیٹھے ہیں
آپ خُود کو مِٹا کے بیٹھے ہیں

دل جلانے کی بات کرتے ہو
ہم تو خُود کو جَلا کے بیٹھے ہیں
تیرے ہجراں میں کون جانے ہم
کتنے صدمے اُٹها کے بیٹھے ہیں
بُهول بیٹھے ہیں تیرے وعدوں کو
اپنے وعدے بُھلا کے بیٹھے ہیں
زندگی میں عظیم کیا کہئے
چند خُوشیاں مَنا کے بیٹھے ہیں

عظیم — جنوری 27، 2014 9:25 شام
الف عین محمد یعقوب آسی
عظیم — جنوری 27، 2014 11:13 شام

تری جانب سے اِک پیغام آتا
رہی حسرت کہ میرے نام آتا
خُوشی سے مر نہ جاتا گر ستم گر
زُباں تک دل سے تیرا نام آتا
کبهی تو بزمِ ساقی سے اِدهر بهی
ہَوا میں جُهومتا اِک جام آتا
کہانی زندگی کی تهی تو کیسے
بَھلا اِک موت سے اَنجام آتا
عظیم اُن شہرتوں کی بَستیوں سے
کوئی تو لَوٹ کر بدنام آتا

عظیم — جنوری 27، 2014 11:34 شام
الف عین
محمد یعقوب آسی — جنوری 28، 2014 7:24 صبح
جناب عظیم شہزاد صاحب۔
سب سے پہلے ایک گزارش کروں گا، جو میرے نزدیک بہت اہم ہے۔ اپنے ہر فن پارے کے لئے ایک نیا تاگا چلانے کی بجائے اگر آپ ایک تاگا مختص کر لیں اور اس میں اپنے فن پارے باری باری لگاتے رہیں تو کئی لحاظ سے بہتر ہوگا:
1۔ ویب سائٹ پر جگہ بچے گی۔
2۔ آپ کے فن پارے یک جا جمع ہوتے رہیں گے۔
3۔ آپ کے ایک فن پارے پر بات کرنے والے کو موقع مل جائے گا کہ آپ کے دیگر فن پاروں کو بھی دیکھ سکے، اس سے ایک بہتر رائے قائم ہو سکتی ہے۔
4۔ خود آپ کو اپنے ادبی سفر کا تجزیہ کرنا آسان ہو گا، یعنی بہتر خود تنقیدی کا عمل۔
توجہ فرمائیے گا۔
نقل بخدمت جناب الف عین صاحب، اس امید پر کہ آپ اتفاق فرمائیں گے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-30