اصلاح کی کوشش کی ہے۔ دیکھیے اب۔ میں خود مصروعوں میں تبدیلیوں کے بعد پڑھ نہیں رہا ۔ اس سے فی البدیع وارد ہونے والے خیالات ہوا ہو جاتے ہیں۔ آپ بتائیے اب کیسی ہے ؟
سلگتی سانسوں کے ساتھ
تمہاری یادوں کے ان بجھے چراغ
ملگجا اندھیرا لٹاتے ہیں
تو
ہاتھوں کی لکیروں کو تکتی ہوں
ڈھونڈتی ہوں تمہیں
اک آس لیے، اک پیاس لیے
زخموں کا احساس لیے
کسی ناکردہ گناہ کی پاداش
محبت میں جدائی ہی کیوں ہے
الزامِ بے وفائی کیوں ہے
تم اگر ان معاملات میں معصوم ہو تو
قصور وار کون ہے ؟
پھر بھی
میرےلرزتے ہاتھ اورکپکپاتی آواز محوِ دعا ہے
تم جہاں رہو شاد رہو
آباد رہو