جی ملن کے معنوں میں بھی ہے
جی ملن کے معنوں میں بھی ہے
کیا کر سکتے ہیں، اپنی اپنی قسمت

سنا ہے آجکل چور دروازا سے کچھ کھولئے تو کالنگ آ جاتی ہے----
کچھ نہیں چھوڑ دیجیئے---
زیادہ تیراکی نا کیجئے آپ کی طبیعت خراب ہے
بہت شکریہ
شکریہ
ہم میل کیے دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔خاطر جمع رکھیے
ہم تو کالج اور اپنے سابقہ اداروں میں بھی جہاں ڈاؤن لوڈنگ اور بہت سی ویب سائٹس وغیرہ پہ پابندی تھی ان لوگوں کی باتوں سے لطف اندوز ہی ہوا کرتے جو ان سب پابندیوں کا شکار ہی رہتے۔
ہم کسی کے اعتبار کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتے ورنہ پراکسی استعمال کی جا سکتی ہے بھائی جان ۔اور بہت ضروری ہو تو آفس میں کام کر لیتے ہیں ۔
ہندو عورت اپنے پورے وجود اور پوری سچائی سے اسی لیے مرد کو پوجتی ہے..........کہ یہ اس کے عقیدہ کا حصہ ہے........اور شاید یہاں کی شاعری میں نرمی ، کوملتا، منت سماجت، بے غرضی، نفی ذات، ایثار اور دیگر ملحق جذبات اسی لیے بے ساحل کے ساگر کی طرح چہار سو امڈتے چھلکتے نظر آتے ہیں......انسانی تعلقات میں میرے نزدیک ہندو (آپ اسے پاک و ہند کی عورت بھی کہہ سکتے ہیں، اگر آپ کا سماجی نظریہ اس کی اجازت دے تو)عورت سے زیادہ اپنے مرد سے استوار اور جڑی گتھی عورت شاید کم ہی کہیں ہو...........اور اس کی وجہ ہزار ہا برس کا اسطوری پس منظر ہے......وہ رقص اور موسیقی کو اپناتی سیکھتی ہے......تو کس لیے؟ ........صرف اور صرف اپنے پتی دیو کے لیے ،جو اس کے لیے مہادیو کے اوتار سے کم نہیں ہوتے ہرگز............
میں صدقے میں واری،
کال کا اور سبسکریپشن ختم ہونے کا ہمیں بھی براہِ راست خطرہ ہوتا تو بخدا ہم بھی کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچاتے
جناب میرے حساب سے یہ غزل اس بحر میں ہے ورنہ میاں مزمل شیخ بسمل نشاندہی فرمائیں گے: