مصرعے پر گرہ لگائیے!

منذر رضا — اکتوبر 24، 2018 11:30 صبح
السلام علیکم!
اساتذہ کرام کی خدمت میں۔۔۔
ایک مصرعہ ہے
اپنا ہی نقشِ پا بن گیا نقشِ کفِ پائے یار
الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
محمد وارث
دائم
سید عاطف علی
اس پر گرہ لگائیے۔۔۔۔۔
بندہ ممنون ہو گا۔۔۔۔۔
انیس جان — اکتوبر 24، 2018 2:36 شام
شعر کا مطلب نہیں سمجھا نہیں تو دس گرہیں لگادوں
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 24، 2018 3:12 شام
یہ کون سی بحر میں ہے؟
انیس جان — اکتوبر 24، 2018 3:15 شام
یہ کون سی بحر میں ہے؟
بحرِ ہندی
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 24، 2018 3:27 شام
تقطیع کیجیے ذرا
انیس جان — اکتوبر 24، 2018 3:39 شام
انیس جان — اکتوبر 24، 2018 3:40 شام
انیس جان — اکتوبر 24، 2018 4:06 شام
محترم محمد تابش صدیقی صاحب آپ تو برا ہی مان گئے
تقطیع تو کوئی استاد ہی کرے گا ہم نے تو محض اندازہ ہی لگایا تھا
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 24، 2018 4:09 شام
محترم محمد تابش صدیقی صاحب آپ تو برا ہی مان گئے
تقطیع تو کوئی استاد ہی کرے گا ہم نے تو محض اندازہ ہی لگایا تھا
ارے برا بالکل نہیں مانا۔ اور نہ ہی آپ کی بات کی تردید کی ہے۔
مبتدیانہ گزارش تھی۔ مجھ سے تو تقطیع نہیں ہو پا رہی۔
منذر رضا — اکتوبر 24، 2018 6:41 شام
محمد تابش صدیقی
انیس جان
بندے نے تقطیع یوں کی کہ کفِ کے ف کو متشدد کر دیا۔
یعنی کفِ
سے کفِّ
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 24، 2018 6:48 شام
محمد تابش صدیقی
انیس جان
بندے نے تقطیع یوں کی کہ کفِ کے ف کو متشدد کر دیا۔
یعنی کفِ
سے کفِّ
کیا یہ جائز ہے؟
دائم — اکتوبر 25، 2018 6:23 صبح
السلام علیکم!
اساتذہ کرام کی خدمت میں۔۔۔
ایک مصرعہ ہے
اپنا ہی نقشِ پا بن گیا نقشِ کفِ پائے یار
الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
محمد وارث
دائم
سید عاطف علی
اس پر گرہ لگائیے۔۔۔۔۔
بندہ ممنون ہو گا۔۔۔۔۔
مصرعہ کسی بھی معروف بحر پر منطبق نہیں ہے
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 25، 2018 6:48 صبح
مصرعہ کسی بھی معروف بحر پر منطبق نہیں ہے
دائم بھائی، ایک گزارش ہے کہ جو فرد بھی اصلاحِ سخن میں پوسٹ کر رہا ہے، وہ سیکھنے کی غرض سے ہی کر رہا ہے۔ کچھ غلط لکھا ہے تو اس کی اصلاح ضرور کی جائے، البتہ منفی ریٹنگ سے گریز کیا جائے۔ یہ اچھا تاثر نہیں چھوڑتی۔ :)
منذر رضا — اکتوبر 25، 2018 10:55 صبح
محمد تابش صدیقی

یہ تو مجھے نہیں معلوم حضور۔۔۔۔
تاہم جگر نے بھی ایک جگہ نشہ کو نشّہ کہا ہے۔۔۔۔
تجزیہ کو تجزّیہ کہا ہے۔۔۔۔
سید تقی عابدی نے رموزِ شاعری میں اسے جائز کہا ہے۔۔۔
باقی اساتذہ رہنمائی فرمائیں گے۔۔۔
دائم — اکتوبر 25، 2018 2:04 شام
دائم بھائی، ایک گزارش ہے کہ جو فرد بھی اصلاحِ سخن میں پوسٹ کر رہا ہے، وہ سیکھنے کی غرض سے ہی کر رہا ہے۔ کچھ غلط لکھا ہے تو اس کی اصلاح ضرور کی جائے، البتہ منفی ریٹنگ سے گریز کیا جائے۔ یہ اچھا تاثر نہیں چھوڑتی۔ :)

جی بہتر سر!
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 25، 2018 3:11 شام
محمد تابش صدیقی
یہ تو مجھے نہیں معلوم حضور۔۔۔۔
تاہم جگر نے بھی ایک جگہ نشہ کو نشّہ کہا ہے۔۔۔۔
تجزیہ کو تجزّیہ کہا ہے۔۔۔۔
سید تقی عابدی نے رموزِ شاعری میں اسے جائز کہا ہے۔۔۔
باقی اساتذہ رہنمائی فرمائیں گے۔۔۔
کسی بھی حرف کو اپنی مرضی سے مشدد نہیں کیا جا سکتا ہاں البتہ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن میں کسی ایک مشدد حرف کو غیر مشدد باندھنا جائز ہو مثلاً نشہ، نظارہ وغیرہ
منذر رضا — اکتوبر 25، 2018 6:30 شام
محمد ریحان قریشی صاحب۔۔۔
سر رہنمائی کا شکریہ۔۔۔۔۔
معاملہ ہی ختم ہوا!!
دائم — اکتوبر 25، 2018 6:36 شام
نشہ اور نظارہ کے علاوہ دیگر الفاظ جو جو بھی مشدد کیے جا سکتے ہیں، انھیں یہاں جمع کر دینا چاہیے
حسان خان — اکتوبر 25، 2018 8:15 شام
کسی بھی حرف کو اپنی مرضی سے مشدد نہیں کیا جا سکتا ہاں البتہ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن میں کسی ایک مشدد حرف کو غیر مشدد باندھنا جائز ہو مثلاً نشہ، نظارہ وغیرہ
«نشہ» کی اصل «نَشْئَه» ہے، اور فارسی شاعری میں یہ عموماً اِسی طرح استعمال ہوا ہے۔
"نشئه را چون باده نتْوان در دلِ پیمانه ریخت"
(بیدل)

اردو میں گُفتاری تلفُّظ چونکہ 'نَشَہ' ہے، اِس لیے شاعری میں شعری ضرورتوں کے تحت ش کو مُشدَّد کر کے 'نشّہ' کر لیا جاتا ہے، جو لفظ کے اصل تلفُّظ سے نزدیک تر ہے۔
دائم — اکتوبر 25، 2018 8:19 شام
«نشہ» کی اصل «نَشْئَه» ہے، اور فارسی شاعری میں یہ عموماً اِسی طرح استعمال ہوا ہے۔
"نشئه را چون باده نتْوان در دلِ پیمانه ریخت"
(بیدل)

اردو میں گُفتاری تلفُّظ چونکہ 'نَشَہ' ہے، اِس لیے شاعری میں شعری ضرورتوں کے تحت ش کو مُشدَّد کر کے 'نشّہ' کر لیا جاتا ہے، جو لفظ کے اصل تلفُّظ سے نزدیک تر ہے۔

بہت خوب پیارے!
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%B1%DB%81-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.103857/