مصرعے پر گرہ لگائیے!

حسان خان — اکتوبر 25، 2018 8:19 شام
تجزیہ کو تجزّیہ کہا ہے۔۔۔۔
اردو شاعری کے قواعد سے ناآگاہ ہوں، لیکن میری نظر میں 'تَجْزِیہ' کو 'تجَزِّیہ' باندھنا صریحاً نادُرُست و غلط ہے۔
محمد وارث — اکتوبر 26، 2018 4:22 صبح
نشہ اور نظارہ کے علاوہ دیگر الفاظ جو جو بھی مشدد کیے جا سکتے ہیں، انھیں یہاں جمع کر دینا چاہیے
اُمید، میم کی تشدید اور بغیر تشدید، دونوں طرح باندھا جاتا ہے
تشدید کے ساتھ، غالب
کوئی اُمید بھر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
بغیر تشدید، فیض
تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے۔۔۔۔الخ
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 26، 2018 4:24 صبح
اقبالؒ نے بچے بغیر تشدید کے استعمال کیا ہے، غالباً فارسی تلفظ ہے۔
کیا اب بھی گنجائش ہے؟
دائم — اکتوبر 26، 2018 5:41 صبح
اقبالؒ نے بچے بغیر تشدید کے استعمال کیا ہے، غالباً فارسی تلفظ ہے۔
کیا اب بھی گنجائش ہے؟

اقبال سند نہیں، لیکن اگر دیگر شعراء کے ہاں دیکھا جائے تو لفظِ بچہ اور اس کے سبھی مشتقات چ مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح مستعمل ہوئے ہیں، مثلاً میر تقی میر کا شعر ہے کہ :
ہندو بچّوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں
دائم — اکتوبر 26، 2018 5:54 صبح
اُمید، میم کی تشدید اور بغیر تشدید، دونوں طرح باندھا جاتا ہے
تشدید کے ساتھ، غالب
کوئی اُمید بھر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
بغیر تشدید، فیض
تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے۔۔۔۔الخ

کچھ الفاظ میرے ذہن میں آ رہے ہیں جو مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح لائے جا سکتے ہیں لیکن ابھی یونیورسٹی کا ٹائم ہو گیا، بعد میں ان شاء الله
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 26، 2018 6:06 صبح
اقبال سند نہیں، لیکن اگر دیگر شعراء کے ہاں دیکھا جائے تو لفظِ بچہ اور اس کے سبھی مشتقات چ مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح مستعمل ہوئے ہیں، مثلاً میر تقی میر کا شعر ہے کہ :
ہندو بچّوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں
میرا سوال غیر مشدد کے حوالے سے تھا۔
مشدد تو عام مستعمل ہے۔ غیر مشدد دراصل فارسی تلفظ ہے۔
دائم — اکتوبر 26، 2018 6:20 صبح
میرا سوال غیر مشدد کے حوالے سے تھا۔
مشدد تو عام مستعمل ہے۔ غیر مشدد دراصل فارسی تلفظ ہے۔

میرؔ کے ہاں "بچوں" کا لفظ ایک سو سترہ دفعہ استعمال ہوا ہے ۔ چ غیر مشدد کیساتھ ۔۔
دو اشعار پیش ہیں
مختلط ترسا بچوں سے شیرہ خانے میں رہا
کن نے دیکھا مسجدوں میں میرؔ کافر کیش کو
صندل کے قشقے دیکھ برہمن بچوں کے صبح
عاشق ہوئے سو آپ کو بدنام کر چکے
دائم — اکتوبر 26، 2018 6:22 صبح
میر کے ہاں مغ بچہ کی ترکیب بہت مستعمل ہے، مُغ چونکہ فارسی ہے، اس لیے قرینِ قیاس یہی بات ہے کہ بچہ کا لفظ فارسی الأصل میں چ غیر مشدد مستعمل ہو، یہاں قاعدہ یہ ہے کہ مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح درست ہے اور ہر دو طرح سے اساتذۂ فَن نے اپنے اشعار میں لایا ہے
سید عمران — اکتوبر 26، 2018 7:34 صبح
شعر کا مطلب نہیں سمجھا نہیں تو دس گرہیں لگادوں
اس کا مطلب ہے۔۔۔
من او (تو) شدم او (تو) من شدی
سید عاطف علی — اکتوبر 26، 2018 8:50 صبح
میر کے ہاں مغ بچہ کی ترکیب بہت مستعمل ہے، مُغ چونکہ فارسی ہے، اس لیے قرینِ قیاس یہی بات ہے کہ بچہ کا لفظ فارسی الأصل میں چ غیر مشدد مستعمل ہو، یہاں قاعدہ یہ ہے کہ مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح درست ہے اور ہر دو طرح سے اساتذۂ فَن نے اپنے اشعار میں لایا ہے
مفت آبروئے زاہد علامہ لے گیا
اک مغ بچہ اتار کے عمامہ لے گیا
منذر رضا — اکتوبر 26، 2018 10:01 صبح
اردو شاعری کے قواعد سے ناآگاہ ہوں، لیکن میری نظر میں 'تَجْزِیہ' کو 'تجَزِّیہ' باندھنا صریحاً نادُرُست و غلط ہے۔
جی حسان خان صاحب!!!
جگر نے باندھا ہے۔۔۔۔
ہم تو ان کی شاعری سے درست اور غلط کو پرکھتے ہیں۔۔۔۔
انیس جان — اکتوبر 26، 2018 12:49 شام
منذر رضا جگر کا مذکوہ شعر تو پیش کیجیے گا
منذر رضا — اکتوبر 26، 2018 2:01 شام
انیس جان صاحب
یہ لیجیے۔۔۔
بہار اپنی جگہ پر ،سدا بہار رہے
یہ چاہتا ہے تو تجزّیہ بہار نہ کر
حسان خان — اکتوبر 26، 2018 2:21 شام
یہ چاہتا ہے تو تجزّیہ بہار نہ کر
یہ چاہتا ہے تو تَجْزِیّۂ بہار نہ کر
مصرعے میں 'تجزیہ' کے 'ی' کو مُشدَّد منظوم کیا گیا ہے۔
فاخر رضا — اکتوبر 26، 2018 3:31 شام
یہ چاہتا ہے تو تَجْزِیّۂ بہار نہ کر
مصرعے میں 'تجزیہ' کے 'ی' کو مُشدَّد منظوم کیا گیا ہے۔
بہت اچھا جواب دیا ہے زبردست
یاسر شاہ — اکتوبر 26، 2018 5:21 شام
اقبال سند نہیں، لیکن اگر دیگر شعراء کے ہاں دیکھا جائے تو لفظِ بچہ اور اس کے سبھی مشتقات چ مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح مستعمل ہوئے ہیں، مثلاً میر تقی میر کا شعر ہے کہ :
ہندو بچّوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں

اس سرخ عبارت کی شرح فرمانا پسند فرمائیں گے بھائی دائم -
یاسر شاہ — اکتوبر 26، 2018 5:33 شام
اقبالؒ نے بچے بغیر تشدید کے استعمال کیا ہے، غالباً فارسی تلفظ ہے۔
کیا اب بھی گنجائش ہے؟

وہ شعر بھی تو پیش کریں تابش بھائی -کیا پیارا شعر ہے :
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
دائم — اکتوبر 28، 2018 1:29 صبح
اس سرخ عبارت کی شرح فرمانا پسند فرمائیں گے بھائی دائم -
تشریح فرمانا ضرور پسند فرماؤں گا جناب :bighug:
انیس جان — نومبر 21، 2018 12:42 شام
جب سے محمد تابش صدیقی صاحب نے اس گرہ کی تقطیع کی چتاونی دی تھی تب سے اسی کوشش میں تھا الحمداللہ آج میری کوشش رنگ لے آئی اور اس مصرع کی بحر دریافت ہوگئ
یہ مصرع میرے ناقص علم کے مطابق،، بحرِ منسرح مثمن سالم،، کا ہے جو کہ مثمن حالت میں مستعمل نہیں ہے
اپنا ہِ نق،، مستفعلن
شے پا بن گ،،، مفعولات ی اور الف اڑ گئے
نق شے کفے،، مستفعلن
پائے یار،،، مفعولات
کوئی غلطی ہوئی ہو تو درستی فرمائیے گا
محمد وارث
دائم
الف عین
انیس جان — نومبر 21، 2018 12:45 شام
یاسر شاہ
منذر رضا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%B1%DB%81-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.103857/page-2