منگیتر کے نام۔۔۔۔

انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 5:33 صبح
تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو تجھے کیا معلوم
وقت نے آج کسے سونپ دیا ہے تجھ کو
کس کے دامن سے باندھا گیا ہے پلّو تیرا
کس سے تقدیر نہیں وابستہ کیا ہے تجھ کو
میں تو آوارہ شاعر ہوں میری کیا وقعت
اک دو گیت پریشاں سے گا لیتا ہوں
گلی گلی کسی ناکام شرابی کی طرح
دو زہر کے ساغر بھی چڑھا لیتا ہوں
تو کے اک وعدہ اےگل رنگ کی شہزادی ہے
دیکھ بےکار سے انسان کے لئےوقف نہ ہو
سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہ بربط پہ پچتائے گی
توڑ ان رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے جی موت کے زندان میں اتر جائے گی
واری گوندل
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 5:43 صبح
کیا کوئی اس پر جواب نہیں دینا چاہتا؟
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 5:51 صبح
تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو تجھے کیا معلوم
وقت نے آج کسے سونپ دیا ہے تجھ کو
کس کے دامن سے باندھا گیا ہے پلّو تیرا
کس سے تقدیر نہیں وابستہ کیا ہے تجھ کو
میں تو آوارہ شاعر ہوں میری کیا وقعت
اک دو گیت پریشاں سے گا لیتا ہوں
گلی گلی کسی ناکام شرابی کی طرح
دو زہر کے ساغر بھی چڑھا لیتا ہوں
تو کے اک وعدہ اےگل رنگ کی شہزادی ہے
دیکھ بےکار سے انسان کے لئےوقف نہ ہو
سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہ بربط پہ پچتائے گی
توڑ ان رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے جی موت کے زندان میں اتر جائے گی
واری گوندل
شمشاد — مارچ 24، 2014 6:47 صبح
انوار گوندل صاحب یہ کس کا کلام ہے؟
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 6:54 صبح
انوار گوندل صاحب یہ کس کا کلام ہے؟
یہ کلام میرا ہی ہے۔۔ میں نے اپنے تعارف میں بیان کیا ہے کہ میں کبھی کبھی شاعر بھی بن جاتا ہوں۔
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 6:58 صبح
اچھا کلام ہے
یہ بتایئے کیا جواب دیا منگیتر نے پھر؟
شمشاد — مارچ 24، 2014 6:59 صبح
یہ کلام میرا ہی ہے۔۔ میں نے اپنے تعارف میں بیان کیا ہے کہ میں کبھی کبھی شاعر بھی بن جاتا ہوں۔

واہ واہ
کیا بات ہے۔
پھر تو آپ کا مجموعہ کلام بھی شائع ہو چکا ہو گا۔
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 7:02 صبح
اچھا کلام ہے
یہ بتایئے کیا جواب دیا منگیتر نے پھر؟
اس کا جواب ؟
چل ایویں بکواس نہ کریا کر:pagal:
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 7:04 صبح
واہ واہ
کیا بات ہے۔
پھر تو آپ کا مجموعہ کلام بھی شائع ہو چکا ہو گا۔
نہیں جی ابھی تک تو نہیں
شمشاد — مارچ 24، 2014 7:11 صبح
لیکن اتنا مواد تو آپ نے اکٹھا کر ہی لیا ہو گا کہ مجموعہ کلام شائع کروا سکیں۔
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 7:16 صبح
اس کا جواب ؟
چل ایویں بکواس نہ کریا کر:pagal:

معذرت بھائی ۔ اآپ کو برا لگا ۔ صرف ایک مذاق تھا۔
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 7:20 صبح
لیکن اتنا مواد تو آپ نے اکٹھا کر ہی لیا ہو گا کہ مجموعہ کلام شائع کروا سکیں۔
نہیں بھی اور ہو بھی سکتا ہے جی۔۔۔۔
لیکن میں اپنا ہر کلام اپنے یا کسی قریبی پہ لکھتا ہوں کبھی ہمت ہی نیں کی۔۔۔۔۔ اتنا خاص بھی تو نھیں جی۔
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 7:21 صبح
معذرت بھائی ۔ اآپ کو برا لگا ۔ صرف ایک مذاق تھا۔
نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ویسے بھی یہ الفاظ منگیتر کے تھے
شمشاد — مارچ 24، 2014 7:28 صبح
محمد وارث بھائی اور محمد احمد بھائی محمد بلال اعظم بھائی ذرا یہاں تشریف لائیے گا۔
شمشاد — مارچ 24، 2014 7:28 صبح
گوندل صاحب اس میں املاء کی چند ایک غلطیاں ہیں، انہیں ٹھیک کر لیں۔
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 7:32 صبح
گوندل صاحب اس میں املاء کی چند ایک غلطیاں ہیں، انہیں ٹھیک کر لیں۔
میں صرف میٹرک پاس ہوں ۔۔۔۔میری اردو اتنی اچھی نہیں اسی لئے یہاں آ پحنچا
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 7:34 صبح
محمد وارث بھائی اور محمد احمد بھائی محمد بلال اعظم بھائی ذرا یہاں تشریف لائیے گا۔
کیا ہوا شمشاد بھائی ۔۔۔؟ ہم سے غلطی ہوئی کیا؟:)
شمشاد — مارچ 24، 2014 7:49 صبح
ساقی بھائی آپ سے غلطی نہیں ہوئی، میں نے تو اساتذہ کرام کو دعوت دی ہے۔
شمشاد — مارچ 24، 2014 7:56 صبح
محمداحمد بھائی آپ کو یہاں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
شوکت پرویز — مارچ 24، 2014 7:59 صبح
تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو تجھے کیا معلوم
وقت نے آج کسے سونپ دیا ہے تجھ کو

کس کے دامن سے باندھا گیا ہے پلّو تیرا
کس سے تقدیر نہیں وابستہ کیا ہے تجھ کو
کس کے دامن سے ہے باندھا گیا پلّو تیرا
کس سے تقدیر نے وابستہ کِیا ہے تجھ کو
میں تو آوارہ شاعر ہوں میری کیا وقعت
اک دو گیت پریشاں سے گا لیتا ہوں
میں اِک آوارہ سا شاعر ہوں مِری کیا وقعت
ایک دو گیت پریشان سے گا لیتا ہوں
گلی گلی کسی ناکام شرابی کی طرح
دو زہر کے ساغر بھی چڑھا لیتا ہوں
کوچہ کوچہ کسی ناکام شرابی کی طرح
زہر کے چند پِیالے بھی چڑھا لیتا ہوں
تو کے اک وعدہ اےگل رنگ کی شہزادی ہے
دیکھ بےکار سے انسان کے لئےوقف نہ ہو
تو کہ اک وعدہء گل رنگ کی شہزادی ہے
ایک بے کار سے انساں کے لئے وقف نہ ہو
سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہ بربط پہ پچتائے گی
سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہء بے ربط پہ پچھتائے گی
توڑ ان رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے جی موت کے زندان میں اتر جائے گی
توڑ دے خستہ رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے جی موت کے زنداں میں اتر جائے گی
واری گوندل
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%AA%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.72982/