منگیتر کے نام۔۔۔۔

سید ذیشان — مارچ 24، 2014 9:25 صبح
اشعار کی اصلاح تو اساتذہ کرتے ہیں۔
ہمارا ماننا یہ ہے کہ کسی بھی لڑائی میں اپنے آپ کو مکے مار کر کوئی بھی لڑائی نہیں جیتی جا سکتی۔ :)
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 9:38 صبح
اب بات سمجھ آتی ہے۔ :)
محبت والی تحریر پر بھی تحقیق ہونی چاہیے۔

تحقیق میں سر کھپانے سے بہتر ہے اب صاحب مراسلہ سے ہی پوچھ لیا جائے۔انہیں کونسا پشیمانی ہو گی بتانے میں ۔:p
محمداحمد — مارچ 24، 2014 9:40 صبح
تحقیق میں سر کھپانے سے بہتر ہے اب صاحب مراسلہ سے ہی پوچھ لیا جائے۔انہیں کونسا پشیمانی ہو گی بتانے میں ۔:p

تحقیق ہو چکی ہے۔ :) :p:D
شمشاد — مارچ 24، 2014 9:48 صبح
صاحب ذوق لگتے ہیں کہ اونچے اونچے لکھاریوں پر نظر ہے ان کی۔
زیک — مارچ 24، 2014 12:41 شام
زبردست بات یہ ہے کہ یہ اصلاح کے لئے پوسٹ کی گئی
شمشاد — مارچ 24، 2014 12:44 شام
لیکن اب اس کی اصلاح اصلی شاعر کے تو کسی کام نہ آئے گی۔
الف عین — مارچ 25، 2014 3:10 صبح
خوش آمدید انوار گوندل؎ یہ لام کے آگے نمبر کی علامت کیوں ہے؟
نظم میں روانی تو ہے، اگرچہ کچھ مصرع بحعر سے خارج ہو گئے ہیں۔
کس کے دامن سے باندھا گیا ہے پلّو تیرا
÷÷درست یوں ہو گا۔
کس کے دامن سے ہے باندھا گیا پلّو تیرا
۔۔ اس سے قطع نظر، ابھی تو پلو نہیں بندھا ہے، یہ محاورہ ہی کیوں۔ یہ ہندو تہذیب کا محاورہ ہے، جب دولہا دلہن کے پھیرے ہوتے ہیں تو ان کے پلو باندھے جاتے ہیں۔ یعنی محاورتاً بھی استعمال کیا جائے تو نکاح کے بعد کہا جا سکتا ہے۔ محض منگنی پر نہیں۔
کس سے تقدیر نہیں وابستہ کیا ہے تجھ کو
÷÷نہیں کی جگہ ’نے‘ کا محل ہے۔ شاید ٹائپو ہے۔
میں تو آوارہ شاعر ہوں میری کیا وقعت
اک دو گیت پریشاں سے گا لیتا ہوں
÷÷آوارہ سا شاعر‘ وزن میں آتا ہے۔
مری۔ میری نہیں
ایک دو گیت۔۔۔ اک دو گیت نہیں۔
پریشان، پریشاں نہیں، ویسے گیت پریشاں کیسے ہوتے ہیں؟
گلی گلی کسی ناکام شرابی کی طرح
دو زہر کے ساغر بھی چڑھا لیتا ہوں
۔۔گلی گلی بحر میں بھی نہیں آتا اور نہ گلی گلی شراب بکتی ہے۔
دو زہر ۔۔۔۔ بھی وزن میں نہیں ، ایک دو زہر کے ساغر کہو۔
تو کے اک وعدہ اےگل رنگ کی شہزادی ہے
دیکھ بےکار سے انسان کے لئےوقف نہ ہو
÷÷وعدہ اے گل رنگ؟؟؟؟ سمجھ میں نہیں آیا
سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہ بربط پہ پچتائے گی
پہلا مصرع تو درست، لیکن بربط؟؟؟
توڑ ان رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے جی موت کے زندان میں اتر جائے گی
الف عین — مارچ 25، 2014 3:39 صبح
دوسری جگہ اصلاح دے چکا ہوں، یہاں تو دیکھ رہا ہوں کہ تین صفحات ہو گئے ہیں!!
شوکت پرویز کی اصلاح درست ہے۔ اور اپنی جہالت پر افسوس بھی ہوا، ’بربط‘ کو میں ساز بَر بَط سمجھا، ربط سے بھی ربط نکلتا ہے، اس طرف خیال تک نہیں گیا!!
شمشاد — مارچ 25، 2014 5:07 صبح
اعجاز بھائی یہ تو احمد فراز مرحوم کا کلام ہے جو انہوں نے کہیں سے نقل کر کے اپنے نام سے یہاں چسپاں کر دیا تھا۔ آپ پچھلے صفحوں پر دیکھ سکتے ہیں۔
محمد بلال اعظم — مارچ 30، 2014 2:33 شام
اللہ رے فریبِ مشیّت کے آج ہم
۔۔۔
شاید اسی لئے یہ کلام بآسانی بحر میں آ گیا تھا۔
واہ شوکت بھائی
بے پناہ لطف آیا اس جواب سے
Rehmat_Bangash — مارچ 30، 2014 2:45 شام
عجب اتفاق ہے کہ یہ نظم میں نے ابھی کچھ دیر پہلے احمد فراز صاحب کے مجموعہ کلام "تنہا تہنا" میں پڑھی تھی،میں تو یہ سمجھا کہ یہ نظم پسندیدہ کلام کے سیکشن میں پوسٹ کی گئی ہے۔
شمشاد — مارچ 30، 2014 3:30 شام
پسندیدہ کلام میں ایسے، کہ اردو محفل کے ایک رکن محمد بلال اعظم نے اس کتاب "تنہا تنہا" سے بہت ساری نظمیں ٹائپ کر کے اردو محفل میں شریک کی ہوئی ہیں۔
جاسمن — مارچ 30، 2014 9:31 شام
سمجھ نہیں آ رہی کیا کہیں۔۔۔ بس دل آزاری کا ڈر ہے۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 31، 2014 10:15 صبح
کس کی دل آزاری؟ :)
شوکت پرویز — اپریل 1، 2014 3:30 شام
سمجھ نہیں آ رہی کیا کہیں۔۔۔ بس دل آزاری کا ڈر ہے۔۔۔
مرحوم احمد فراز کی
شمشاد — اپریل 1، 2014 5:37 شام
مرحوم احمد فراز کی دل آزاری تو نہیں ہو سکتی، ہاں روح آزاری البتہ ہو سکتی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%AA%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.72982/page-3