آ کہ اب تسلیم کرلیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
سحر کائنات — دسمبر 1، 2020 5:05 شام
ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
سیما علی — دسمبر 1، 2020 5:24 شام
اب نہ وہ سنگِ ملامت ہیں نہ وہ طعنوں کا شور
تیری بستی میں یہ رونق بھی مِرے دَم تک رہی شمیم جے پوری
سیما علی — دسمبر 1، 2020 5:25 شام
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اُس تارے کو ڈھونڈوں گا تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا امجد اسلام امجد
سیما علی — دسمبر 1، 2020 5:25 شام
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے بشیر بدر
شمشاد — دسمبر 2، 2020 4:19 صبح
ان دو کے سوا کوئی فلک سے نہ ہوا پار
یا تیر مری آہ کا یا اس کی نظر کا
ولی اللہ محب
سیما علی — دسمبر 15، 2020 2:56 شام
ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا یگانہ چنگیزی
سیما علی — دسمبر 15، 2020 3:05 شام
آندھیاں رکیں کیوں کر زلزلے تھمیں کیوں کر
کارگاہ فطرت میں پاسبانیٔ رب کیا
شمشاد — دسمبر 15، 2020 3:14 شام
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
داغؔ دہلوی
زوجہ اظہر — جنوری 11، 2021 8:21 شام
ابھی کسی کی رہائش نہیں مرے دل میں
تمھارے بعد مرمت کا کام جاری ہے
شمشاد — جنوری 11، 2021 8:23 شام
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے فیض احمد فیض
سیما علی — فروری 16، 2021 10:00 صبح
اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے
جنہیں کوئی نہ ملا، ہمسفر ہمارے ہوئے
سیما علی — فروری 16، 2021 2:41 شام
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
میر تقی میر
سیما علی — فروری 16، 2021 2:42 شام
اب نہ وہ سنگِ ملامت ہیں نہ وہ طعنوں کا شور
تیری بستی میں یہ رونق بھی مِرے دَم تک رہی شمیم جے پوری
سیما علی — فروری 16، 2021 2:43 شام
اب ہے اپنا سامنا درپیش
ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں جون ایلیا
سیما علی — فروری 16، 2021 2:44 شام
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ، خدا خدا کیجیے
سیما علی — فروری 16، 2021 2:49 شام
اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے میرتقی میر
سیما علی — فروری 16، 2021 2:54 شام
آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا مرزا غالب
سیما علی — فروری 16، 2021 2:55 شام
اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن
شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی
سیما علی — فروری 16، 2021 2:56 شام
اچّھی صُورت میں بھی خالق نے بھرا ہے جادُو
اپنے مُشتاق کو ، دِیوانہ بنا دیتی ہے اکبر الٰہ آبادی