نیلم — نومبر 22، 2012 7:03 صبح
شکیب جلالی کو ھم سے بچھڑے 46 سال بیت گئے
اصل نام۔ سید حسن رضوی. یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے
محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
نیرنگ خیال — نومبر 22، 2012 7:23 صبح
ہر کسی کو مر جانا چاہیئے۔ کسی کو بھی زندہ نہیں رہنا چاہیئے۔ بس۔۔۔۔۔۔
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 7:45 صبح
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے
پینا ہو تو اک جرعۂ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے
اشکوں سے چراغإں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے
یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے
ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے
سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 7:46 صبح
نیلم — نومبر 22، 2012 9:16 صبح
ہر کسی کو مر جانا چاہیئے۔ کسی کو بھی زندہ نہیں رہنا چاہیئے۔ بس۔۔۔ ۔۔۔

انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:23 صبح
یہ حضرت تو اب ہمیشہ ٹرین کے آگے کودتے رہیں گے۔

نیلم — نومبر 22، 2012 9:26 صبح
یہ حضرت تو اب ہمیشہ ٹرین کے آگے کودتے رہیں گے۔
اللہ معاف کرےسب کو
انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:28 صبح
ان کو معافی نہیں ملنے والی۔ لکھ لیں۔۔
نیلم — نومبر 22، 2012 9:30 صبح
ان کو معافی نہیں ملنے والی۔ لکھ لیں۔۔
پتا نہیں

ہم توصرف دعاکر سکتےہیں،،،وہ قبول کرےنہ کرےاُس کی مرضی
انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:32 صبح
پتا نہیں

ہم توصرف دعاکر سکتےہیں،،،وہ قبول کرےنہ کرےاُس کی مرضی
خودکشی کے متعلق یہی سنا ہے۔۔
ذرا یہ تو پتا چلے کہ کس غم میں خود کشی کی تھی۔
شاید
محمد بلال اعظم بتا سکیں۔
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 9:34 صبح
خودکشی کے متعلق یہی سنا ہے۔۔
ذرا یہ تو پتا چلے کہ کس غم میں خود کشی کی تھی۔
شاید
محمد بلال اعظم بتا سکیں۔
سن لیں پھر
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:36 صبح
سن لیں پھر
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
مطلب 'ہم عشق میں برباد ہیں"۔۔؟؟؟
نیلم — نومبر 22، 2012 9:36 صبح
خودکشی کے متعلق یہی سنا ہے۔۔
ذرا یہ تو پتا چلے کہ کس غم میں خود کشی کی تھی۔
شاید
محمد بلال اعظم بتا سکیں۔
جی ہم نےبھی ایساہی سُناہے
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 9:39 صبح
مطلب 'ہم عشق میں برباد ہیں"۔۔؟؟؟
کیا مطلب؟
میں سمجھا نہیں؟
انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:42 صبح
کیا مطلب؟
میں سمجھا نہیں؟

بھائی میرا مطلب تھا کہ کیا عشق میں ناکامی کے بعد ایسا کیا تھا؟
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 9:46 صبح

بھائی میرا مطلب تھا کہ کیا عشق میں ناکامی کے بعد ایسا کیا تھا؟
یہ بات تو واضح نہیں ہو رہی لیکن زیادہ تر شاعروں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے۔
نیلم — نومبر 22، 2012 9:50 صبح
یہ بات تو واضح نہیں ہو رہی لیکن زیادہ تر شاعروں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے۔
لیکن اُن کےجیب سے ملنےوالا شعر تویہ ہی کہہ رہاہے

انیس الرحمن — نومبر 22، 2012 9:51 صبح
یہ بات تو واضح نہیں ہو رہی لیکن زیادہ تر شاعروں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے۔
بھائی پھر تو شاعروں کو مجھ جیسے لو گرو کی شاگردی اختیار کرنی چاہیے۔۔۔

محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 9:51 صبح
لیکن اُن کےجیب سے ملنےوالا شعر تویہ ہی کہہ رہاہے
ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ شعر بے حس زمانے کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔
ہو سکتا ہے وہ محبوب کی بجائے زمانے سے مخاطب ہوں۔
یہ فقرہ دیکھیے:
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔
بہرحال کوئی اور اس پہ روشنی ڈالے۔
محمداحمد بھائی آپ کچھ بتائیں۔
محمد بلال اعظم — نومبر 22، 2012 9:53 صبح
بھائی پھر تو شاعروں کو مجھ جیسے لو گرو کی شاگردی اختیار کرنی چاہیے۔۔۔
ہاہاہا
ایک شاعر سے بڑا لو گرو کون ہو گا!
وہ آپ کی شاگردی کیوں اختیار کرے؟