۔۔
ظہیر بھائی! سب سے پہلے تو ہم ممنون و شکرگزار (وغیرہ) ہیں کہ آپ نے اتنی خندہ پیشانی سے ہماری اونگیوں بونگیوں کو برداشت کیا، اور اس پہ اصلاح (بمعنی مرمت) بھی فرمائی۔
ہمیں لگتا ہے کہ آپ کی اور لاآلما بہن کی نشاندہی کے بعد قافیہ جات کی بابت ہمارے علم میں بدرجہا اضافہ ہوا ہے۔
اب کچھ اور الفاظ ذہن میں آ رہے ہیں۔ ان کی بابت بھی اظہارِ رائے فرمائیے گا۔
چمچ
باعث
مغز
چنانچہ
قافیہ میں ایک بات یہ بھی ہے کہ شاعر اپنے اوپر "فرض" کیا کرتا ہے۔ دراصل قافیہ کا کسی نہ کسی آواز پر مدار ہوتا ہے، مثال کے طور ایک لفظ ہے "رہتا"، اب اس کے ہم قافیہ الفاظ بنائیں تو ذہن میں آئیں گے، کہتا، بہتا، سہتا، مہتا (ہندی نام) وغیرہ لیکن ناصر کاظمی کی شہرہ آفاق غزل کا مطلع دیکھیے:
اپنی دُھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
اور
آتی رُت مجھے روئے گی
جاتی رُت کا جھونکا ہوں
رہتا کا قافیہ جیسا کیا ہے۔ اور دونوں میں مشترک آواز صرف اور صرف "آ" کی ہے یعنی رہتا میں 'تا'، جیسا میں 'سا' اور اسی طرح اس غزل کے دوسرے اشعار جن میں کمرا، تنہا، جھونکا وغیرہ قافیے آئے ہیں۔
اگر شاعر مطلع میں رہتا کے ساتھ کہتا باندھ لیتا تو پھر ایسے ہی قافیے لانے فرض ہو جاتا جن میں 'اَہتا' کی آواز مشترک ہوتی یعنی کہتا، سہتا، بہتا، وغیرہ۔
اسی طرح اوپر "ریوڑی' کا مسئلہ تھا اس میں کم سے کم قافیہ 'ای' کی آواز ہو سکتی ہے، یعنی 'ڑی'، 'بھی'، کہی، خودی اور بے شمار۔ لیکن اگر آپ کسی نہ کسی طرح 'ڑ' اور ما قبل کی حرکت کی قید اپنے اوپر فرض کر لیں تو پھر واقعی اس کا قافیہ لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔
ویسے قافیے میں جتنے زیادہ الفاظ کو پابند کریں قافیہ اتنا ہی مترنم ہو جاتا ہے، یعنی "رہتا، جیسا، کمرہ، تنہا" اور "رہتا، کہتا، بہتا، سہتا" وغیرہ میں دوسرا سیٹ زیادہ مترنم ہے۔