ہاہاہاہاہاہاہا
اب میں نہیں ڈروں گی آپ کے ان لال بیگوں اور بلیوں سے
سچی
ابن سعید — جون 17، 2011 12:13 شام
اتنی بار شکریہ اور تھنکس کہا ہے آپ نے وہ بھی اپنے بھیا کو۔ اس کی سزا تو آپ کو ضرور ملے گی۔
مقدس — جون 17، 2011 12:25 شام
اپسسس
عادت سے ہو گئی ہے بھیا۔۔۔ آپ کو پتا ہے ناں یہاں پر ہر بات میں تھینک یو بولنا ہوتا ہے۔۔ اب یاد رکھوں گی کہ بھائیوں کو نہیں بولتے
شمشاد — جون 17، 2011 12:40 شام
بچپن کی عادتیں اتنی جلدی نہیں چھوٹتیں، اب دیکھیں ناعمہ ابھی تک چُوسنی پیتی تھی وہ تو اس کی ماما نے چُوسنی پر مرچیں لگانی شروع کیں تب جا کے اس نے چھوڑی۔
مقدس — جون 17، 2011 12:45 شام
ہاہاہاہاہاہاہا
شمشاد بھیا۔۔۔۔میں بھی کچھ ایسا ہی حربہ استعمال کرنا اسٹارٹ کرتی ہوں پھر تو
شمشاد — جون 17، 2011 12:53 شام
ضرور کریں لیکن ‘تھینک یُو‘ پر مرچیں کیسے لگائیں گی؟
مقدس — جون 17، 2011 1:03 شام
یہ تو مین نے سوچا ہی نہیں۔۔۔ آپ سوچ کر بتا دیں ناں
آخر اتنے اچھے بھائی ہیں
ناعمہ عزیز — جون 17، 2011 3:15 شام
سعود لالہ اتنی اچھی آئسکریم کے لئے شکریہ نہیں کہوں گی کیونکہ اگر آپ نہیں کھلائیں تو کون کھلائے گا مجھے؟
یار مقدس یہ جو شمشاد لالہ ہیں نا یہ تو ہر وقت میری چغلیاں ہی کرتے رہتے ہیں، اس لئے میں نے سوچا ہے کہ میں بھی ہر وقت انکی چغلیاں ہی کیا کروں گی۔
شمشاد — جون 17، 2011 4:45 شام
میں تو بالکل بھی چغلیاں نہیں کرتا، ہاں اصلی والی بات بتائی تھی کہ میرے پیسے نہیں دے رہی۔
پگلی، محض اپنے سعود بھیا پر ادھار ہی گنواتی رہیں گی یا کبھی ادھار وصول کرنے آئیں گی بھی؟ ہم تو کہتے ہیں کہ سارا ادھار آپ کی بھابھی کی جانب منتقل کر دیتے ہیں۔ پھر آپ دونوں ہی نمٹ لیجئے گا آپس میں۔