وہ دستخط تو مذہبیوں کی بدولت ختم ہو گئے۔ بہرحال یہ تضاد بالکل نہیں ہے کہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں کچھ مذہبی چیزوں کے حق میں اور کچھ مذہبی باتوں کے خلاف۔ دل آزاری کی شکایت تو مذہبیوں کو ہوتی ہے۔
وہ دستخط تو مذہبیوں کی بدولت ختم ہو گئے۔ بہرحال یہ تضاد بالکل نہیں ہے کہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں کچھ مذہبی چیزوں کے حق میں اور کچھ مذہبی باتوں کے خلاف۔ دل آزاری کی شکایت تو مذہبیوں کو ہوتی ہے۔
انسانیت مذہب نہیں ہے۔
اردو میری مادری زبان ہے۔ اس لئے تعلق تو ہے۔ لیکن اگر حقیقت دیکھی جائے تو آج کل محفل کے علاوہ اردو صرف دو صورتوں میں بولتا ہوں: ایک جب والدین سے سکائپ پر گفتگو ہو۔ دوسرے جب میں اور بیوی ایسی بات کر رہے ہوں جو ہم چاہیں کہ بیٹی نہ سمجھ پائے۔
وقت کے ساتھ انسان میں تبدیلی آتی ہے لیکن بنیادی طور پر وہی ہوں جو تھا۔
زیادہ محبت وہیں سے رکھنی چاہیئے جہاں آپ رہتے ہوں۔ رہائش بدلیں تو ساتھ محبت بھی بدل لیں۔
یہ سوال عجیب و غریب مفروضات پر مبنی ہے پھر بھی جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
ایسا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ پاکستان چھوڑے بہت عرصہ ہوا۔ جتنے سال پاکستان میں گزارے اس سے کہیں زیادہ دیگر ممالک میں۔
بالکل مطمئن ہوں۔ ایسا کبھی نہیں لگا۔
نہیں۔ سوچ تو شخص کی ہوتی ہے ملک یا خطے کی نہیں۔
جہاں کی آپ کو citizenship حاصل ہوجائے ۔
ملک تو آنی جانی چیزیں ہیں۔ فکر انسانوں کی کرنی چاہیئے اور وہ ہوتی بھی ہے جب مثلاً پاکستان میں دہشتگرد حملے ہوں۔
آپ سے میں الگ سے سوال پوچھتا ہوں آپ کے انٹرویو کے دھاگے میں۔ سستی نہیں چلے گی۔
آپ میرے فیورٹ بھیا ہیں۔۔۔ پتا ہے ناں آپ کو

یہ یقیناً اہم ہے۔ یاد رہے کہ یہ مسئلہ مغرب کا نہیں بلکہ مشرق وسطی کا ہے۔
شکریہ۔
اتنی مبالغہ آرائی اچھی نہیں ہوتی۔