تعبیر کے ایک سوال پر کہ میں نے کچھ سوالوں کو نظرانداز کردیا تو میں نے دوبارہ وہاں سے دیکھنا شروع کیا ، جہاں سے یہ انٹرویو دوبارہ شروع ہوا تھا ۔ تو سامنے یہ وضاحت طلب سوالات آئے ۔ جن کا میں نے واقعی جواب نہیں دیا تھا ۔ انٹرویو کی مشہوری کی وجہ سے صفحات بہت تیزی سے آگے بڑھ گئے اور میں یہ سوالات دیکھ نہیں سکا ۔

جوابات حاضر ہیں ۔

اصلی پوسٹ بذریعہ ظفری
آپ مووی میں جس بات کی طرف اشارہ کر رہیں ہیں ۔ وہ ایک بلکل الگ فلسفہ ہے ۔ اور آپ کا یہ سوال اُس فلسفے سے بلکل مختلف نوعیت کا ہے ۔ بہرحال میں اس سوال سے متعلق ابھی تک اس بات پر قائم ہوں کہ " محبت فرصت کا کھیل " ہے ۔
ایک طرف تو آپ ایسا کہ رہے ہیں اور دوسری طرف
اصلی پوسٹ بذریعہ ظفری
محبت تو مجھ پر چوبیس گھنٹے ہی سوار رہتی ہے ۔ ۔۔۔۔
محبت کی اتنی بڑی توہیں آپ کی نظر میں رانجھا،مجنون،فرہاد کیا تھے؟ عاشق یا کھلاڑی
یہ محبت کو ہمیشہ وہ والی محبت ہی کیون سمجھا جاتا ہے۔جبکہ میرا تو خیال ہے کہ ہر رشتے کی بنیاد ہی محبت پر ہے۔ اور تو اورخالق کائنات نے بھی اس کائنات کی بنیاد ہی اسی محبت کی وجہ سے رکھی تھی۔آپ کی نظر میں مان اپنی اولاد سے فرصت کا کھیل کھیلتی ہے۔اپنے جواب کی وضاحت کریں کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے اور اپ نے ایسا کیوں کہا؟؟؟؟بعض باتیں ایسی ہوتیں ہیں ۔ جن کو ایک خاص پیرائے میں کہا جاتا ہے ۔ جس میں نہ صرف مطلب واضع ہوتا ہے بلکہ اسے پڑھ کر صرف لطف بھی آتا ہے ۔ اگر اسی پیرائے میں کی گئی بات کو پھیلا کر بیان کیا جائے تو وہ بات اپنی دلکشی کھو دیتی ہے ۔ بلکل اسی طرح جیسے کسی شعر کو سن کر سمجھنا کچھ اور ہے اور اس کی تشریح کرکے سمجھنا کچھ اور ۔
اب بات آتی ہے کہ میں نے ایسا کیوں کہا کہ " محبت فرصت کا کھیل ہے ۔ " ۔ تو میں آپ کے لیئے یہ چند لائنیں خاص کر لکھ دیتا ہوں کہ اس بات کو پڑھ کر آپ نے سوال اٹھایا ہے ۔
میرا ایسا کہنا کہ " محبت فرصت کا کھیل ہے " ۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ میں اسے کسی قسم کے کھیل میں گردانتا ہوں ۔ جو انسان اپنی ضروری ذمہ داریاں نبھاہ رہا ہو ۔ اپنی تعلیم کی تکمیل میں مصروف ہو ، زندگی کے دوسرے شعباجات میں مصروفِ عمل ہو ، کوئی ہدف ، کوئی گول کو حاصل کرنے کے لیئے سر توڑ کوشش کررہا ہو ۔ اسے کہاں سے اتنا وقت میسر آئے گا کہ وہ محبت کی طرف توجہ دے ۔ اس کی پہلی ترجیحات میں سب سے مقدم اس کی وہ ذمہ داریاں ہونگیں جو اس کو ایک اچھے مسقبل کی طرف لیجاتیں ہونگیں ۔
اب ایک ایسا شخص جو ان تمام ترجیحات سے یکسر مبرا ہے ۔ اس کے سامنے کوئی گول یا ہدف نہیں ۔ تعلیم و ہنر سے بہت دور ہے ۔ اس کی ذمہ داریوں میں سونا ، جاگنا ، کھانا پینا ، گپ شپ کرلینا ہی اولین بنیادی اصولوں پر قائم ہے ۔ تو ایسے شخص کی جیب سے کئی کئی نام کے " لوَ لیٹر " نکلیں گے ۔ میرا اشارہ اس رحجان یا رویے کی طرف تھا ۔
محبت انسانی کی فطری خواہشوں میں سے ایک خواہش کا نام ہے ۔ایک سمجھدار انسان محبت کو اپنی زندگی کا حصہ تب بناتا ہے ۔ جب وہ سمجھتا ہے کہ اس خواہش کو پانے کامناسب ترین وقت آگیا ہے ۔( ایسا ہمارے معاشرے میں عموماً بہت کم ہوتا ہے ۔ اسی لیئے میں نے اسے ایک فرصت کے کھیل سے تعبیر کیا ۔ " ) کیونکہ اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر محبت کو ہی اپنی زندگی کا اولین مقصد بنا لینا میری نزدیک کوئی مثبت رویہ نہیں ہے ۔
مجھے امید ہے کہ میرے کہے ہوئے جملے کا مفہوم آپ پر واضع ہوگیا ہوگا ۔ اگر ہوگیا ہے تو ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلیٰ مجنوں کی کہانیوں کا اصل محرک بھی آپ کے سامنے آگیا ہوگا ۔
اب آپ نے پوچھا ہے کہ محبت کو " رومانی محبت " ہی کیوں سمجھا جاتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ عام فہم میں محبت اسی معنوں میں لیا جاتا ہے کہ جب تک یہ بات واضع نہ ہو کہ آپ اس لفظ کا اطلاق کس رشتے پر کر رہے ہیں ۔ کوئی مجھ سے پوچھے " آپ نے کبھی محبت کی " وغیرہ وغیرہ ۔ تو میں اس کا کیا مطلب لوں گا ؟
بہت عرصے قبل کسی نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ " آپ کے نزدیک سب سے اچھا رشتہ " تو میں نے جواب دیا تھا کہ " محبت کا " ۔ پوچھا گیا کہ کیوں ۔ ؟ میں نے کہا کہ " وہ اس لیئے کہ یہ ہر رشتے کی بنیاد ہے اور ہر رشتہ اسی کی بنیادوں پر ہی استوار ہوتا ہے ۔ "
میرا خیال ہے کہ اتنی وضاحت کافی ہے ۔

اللہ نے جس پلان کے تحت یہ دنیا بنائی ہے ۔ اگر انسان اسی پلان کو سامنے رکھ کر زندگی گذارے تو بہت سی آسانیاں پیدا ہوسکتیں ہیں ۔
پلان کی تھوڑی سی وضاحت پلیززززززہممم ۔۔۔۔ دیکھیں ! انسان کی زندگی سکھ اور دکھ کا امتزاج ہے ۔ جس طرح ایک انسان کی زندگی میں غم اور خوشی کا تناسب گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے ۔ اسی طرح دنیا میں رہنے والوں انسانوں کے بھی سکھ اور دکھ کا تناسب ایک دوسرے سے قطعی مخلتف ہے ۔ یہ سکھ اور دکھ ہی امتحان کی اساس ہے ۔اور اللہ نے اسی پلان کے تحت یہ دنیا بنائی ہے ۔ یعنی آپ کا یہاں قیام مختصر مدت کے لیئے ہے ۔ یہاں آپ کی آزمائشوں کی بنیاد ہی انہی دو اصولوں پر قائم ہے ۔ اب اپنے دکھوں کو دیکھ کر بغاوت پر اتر جانا یا اپنی خوشیوں کو پا کر اللہ کو بھلا دینا اس امتحان کی کامیابی یا ناکامی کو ظاہر کرتیں ہیں ۔ تو میرا کہنا کہ "
اللہ نے جس پلان کے تحت یہ دنیا بنائی ہے ۔ اگر انسان اسی پلان کو سامنے رکھ کر زندگی گذارے تو بہت سی آسانیاں پیدا ہوسکتیں ہیں ۔ " ۔ کا مقصد یہ تھا کہ اگر انسان اس دنیا میں اللہ کے پلان کو سمجھ کر صبر وتحمل اور شُکر سے کام لے تو ( دنیا میں اس مختصر مدت کے بعد ) اس کے لیئے آنے والی زندگی راحت کا پیغام بھی لیکر آسکتی ہے ۔
دوستی ایک ایسا رشتہ ہے ۔ جس میں توقعات اس اصول پر عمل پیراہوتیں ہیں کہ سامنے والی کی استعطاعت اور مجبوریوں کا بھی خیال رکھا جائے ۔
جی ہاں ۔۔۔ جنسِ مخالف سے دوستی کی جاسکتی ہے ۔ مگر اس میں اس بات کا احتمال رہتا ہے کہ اوپر بیان کیا گیا اصول شاید کارآمد نہ رہے ۔
فشون۔یہ سچ مین سر سے گزر گیا۔ذرا سلیس اردو میں سکھائیں/سمجھائیں
ایک ہی جنس کی دوستی میں یہ بات بڑی واضع ہوتی ہے کہ وہ اپنی اپنی توقعات میں کہاں تک جاسکتے ہیں ۔ اس چیز کی اہمیت کا اس دوستی میں احساس باقی رہتا ہے ۔
جبکہ دو مخالف جنسوں میں دوستی میں اس چیز کی اہمیت کا احساس پس منظر میں چلا جاتا ہے ۔ اور بہت سی نئی توقعات جنم لیتیں ہیں ۔ بس اتنی سی بات ہے ۔
