پردہ نشینوں کے نام۔۔۔ایتھے رکھ!
(یہاں سے کلپ کٹے گا!!!)
پردہ نشینوں کے نام۔۔۔ایتھے رکھ!
کلائمیکس یعنی کہانی کی پیک جہاں سارے معاملات ریزولو ہو رہے ہوتے ہیں۔ یا کچھ اور بھی ہے اس کا مطلب؟
ہر بار ہم واپس لے آئے
🤓🤓🤓🤓🤓🤓🤓🤓🤓
کاٹنے والے کیا ہوئے؟
قصہ پارینہ وغیرہ ہوئے۔ اب بس یاد باقی ہے!
وہ تو درست، لیکن جی ایم ٹی کے حساب سے آپ کو ہنوز محوِ خواب وغیرہ ہونا چاہیے ۔
ایک دن۔۔۔پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کنج مزار میں وغیرہ۔
اور آپ کے خواب کیا ہوئے؟ جی ایم ٹی کے حساب سے تو گھنٹے بھر کا ہی فرق ہے غالبا۔
نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
خوابناک و غم ناک وغیرہ
سوال بظاہر لائیٹ مُوڈ میں لگتا ہے ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے ۔
سب سے پہلے تو شدتِ جذبات میں کوئی فیصلہ نہ کریں، صرف معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیئے نفسیات کی Pause Technique کو اختیار کریں ۔ یعنی وقفہ لیں ۔ جب جذبات مانند پڑ نے لگتے ہیں تو عقل کام کرنا شروع کردیتی ہے ۔ نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ غصہ ، اشتعال ، شدتِ جذبات کا دورانیہ 14 سے 15 منٹ کا ہوتا ہے ۔ اس دوران یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کیا میں یہ فیصلہ میں جذبات میں کر رہا / رہی ہوں ۔ کیا کل میں اپنےاس فیصلہ کو صحیح سمجھوں گا / گی ۔ امید ہے اس عمل سے شدتِ جذبات میں کمی آئے گی اور صحیح فیصلے کی ترغیب ملے گی ۔
اس کا اتفاق نہیں ہوا ۔ نہ ہی ابھی تک کوئی پیارا اس حال کو پہنچا ہے ۔
میں اس سوال کا جواب قرآن کی ان آیتوں سے شروع کرتا ہوں ۔
جی بلکل ، انسان کی فیلڈ آف اسٹڈی کا اس کے مزاج پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے ۔ انسان جس علم کی فیلڈ میں وقت گذارتا ہے ۔ وہی اس کی سوچ کا زاویہ بدلتا ہے ۔ بلکہ سوچ کو ایک نئے سانچے میں بھی ڈھال دیتا ہے ۔ لفظوں کو معونیت دینا آجاتا ہے ۔ حقیقت کو جانچے کا طریقہ کار سمجھ آجاتا ہے ۔ مثال کے طور پر جو انسان سائنس پڑتا ہے ۔ اس میں تجربے ، مشاہدے اور ثبوت پر زور دینے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ جو ادب میں مہارت رکھتا ہے، وہ جذبات، تشبیہات اور انسانی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے۔جو فلسفہ/نفسیات پڑھتا ہے، وہ چیزوں کے "پیچھے کی تہوں" کو کھولنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔اس میں چیزوں کی جزیات سمجھنے کی صلاحیت عود کر آتی ہے ۔ یعنی علم صرف معلومات مہیا نہیں کرتا ۔ بلکہ مزاج کی ساخت بھی تبدیل کردیتا ہے ۔ اگر یہ سوال مجھ سے براہ راست ہے کہ میں بروج پر یقین نہیں رکھتا تو یہ بالکل درست بات ہے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بروج یا ستاروں کی بنیاد پر شخصیت اور تقدیر کا تعین کرنا میں درست نہیں سمجھتا ۔اپنی فطرت پر یقین کریں۔ ہر انسان کے اندر کچھ پیدائشی رجحانات (temperament)ہوتے ہیں ۔ ان کو بروئےکار لائیں ۔ گھر ،استاتذہ اور ماحول سے تربیت کے مراحل طے کریں ۔ یہ سب شخصیت میں صلاحیت کا رنگ بھرتے ہیں ۔ اپنے فیصلے اور اعمال شفاف نیت کی بنیاد پروان چڑھائیں ۔ یقین اُن اصولوں پر کریں۔جو اللہ کے کلام میں دیے گئے۔جو انسان کے اختیار، نیت اور کوشش کو بنیاد بناتے ہیں۔نہ کہ ستاروں کو۔
بہت سے شگوفے ہیں ۔ جو پچپن میں چھیڑے ۔ اردو محفل میں کئی ایک درج کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا لنک یہ رہا ۔ مراسلہ نمبر 182۔
میں فرینڈلی سب کیساتھ ہوجاتا ہوں ۔ اس محفل پر وہ احباب جن سے مل چکا ہوں ۔ وہ گواہی دیں گے ۔ فیملی میں سسٹر ہے ۔ جس سے میں دوستوں کی طرح باتیں کرتا ہوں ۔ بچے بھی ( اب تو ماشاءاللہ بڑے ہوگئے ) ان سے بھی میں بہت مذاق کرتا ہوں ۔ اس لیئے سال میں دو ، تین دفعہ میرے پاس ضرور حاضری دیتے ہیں ۔ آپ نے جورج لوپیز شو دیکھ رکھا ہو تو میں کچھ ایسا ہی ہوں فیملی کیساتھ ۔
مشاغل بہت ہیں کلائمنگ ، واکنگ ، فشنگ ، باسکٹ بال ،کبھی شاعری کرلی تو کبھی مصوری بھی ۔ رہی بات پودے اُگانے کی تو وہ سب سے اہم مشغلہ ہے کہ جب ہمارے پاس گرمیاں شروع ہوجائیں ۔ بیک یارڈ کو پوری طرح تبدیل کردیتا ہوں ۔
جی ہاں ۔۔۔ کالج کے دور میں بہت بلنڈر ہوئے تھے ۔ مگرجس واقعہ کو سوچ کر ہنسی آتی ہے ۔وہ کوئی اخلاقی طور پر تو اتنا قابلِ گرفت نہیں ۔ مگر پھر بھی اس کے ذکر کو موقوف کرتا ہوں ۔

سب سے پہلے تو میں وقت کے بارے میں کہوں گا کہ اس کاکوئی نعم البدل نہیں ۔ ایک بار گذر گیا تو گذر گیا ۔ پھر لوٹ کر نہیں آتا ۔ بے شک آپ پھر اسی دوراہے پر کھڑے ہوں ۔ جہاں آپ کبھی بے فکر ، آزاد اور مسرور تھے ۔ مگر وقت آپ کو پھر وہ مواقع اور احساس فراہم نہیں کرتا ۔ جو کہ بہت پہلے میسر تھے ۔ پھر صحت کے بارے میں کہوں گا کہ یہ بھی ایک انمول دولت ہے ۔ جب تک ہے ۔ اہمیت کا احساس نہیں ہوتا ۔ جب چلی جاتی ہے تو سب کچھ تھم جاتا ہے ۔ پھر ایمان کہ دل کا سکون اسی میں ہے ۔ ماں باپ کا بھی کوئی نعم البدل نہیں ۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے ۔ عزت بھی ایک عظیم سرمایہ ہے ۔ جب کھو جائے تو پھر آسانی سے نہیں ملتی ۔ پھر ایسے کچھ مواقع جن سے زندگی میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی تھی ۔ مگر جب آپ اسے کھو دیں تو پھر ان کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے ۔
🤓🤓🤓🤓🤓🤓🤓
یاد باقی بات باقی
بہت خوبصورت بات جو ہم نے آپ سے ہر ملاقات میں دل سے محسوس کی وہ آپکی
آپا جی آپ بھائی کے بی ہاف پر انٹرویو دینے لگیں یا یہ لڑی غلط سیلیکٹ ہو گئی ہے؟