انٹرویوانٹرویو وِد فرحت کیانی

فرحت کیانی — مارچ 3، 2013 3:38 شام
میں شہر کے بارے میں پوچھ رہا تھا
ہمارا آبائی علاقہ جہلم ہے محسن۔
فرحت کیانی — مارچ 3، 2013 3:39 شام
نایاب بھائی آپ کے سوالات کے جواب کچھ دیر میں۔
تعبیر — مارچ 3، 2013 8:11 شام
اللہ تعالی سدا آپ کو اپنی امان میں رکھے آمین
بہت شروع کی بات ہے کہ مجھے @بوچھی اپیا سیدہ شگفتہ بہنا اور آپ بارعب شخصیات محسوس ہوتی تھیں ۔
اک جھجھک سی رہتی تھی ۔ جانے کیا سننا پڑجائے ۔ ویسے بھی خواتین سے گفتگو کرنے میں شرمیلا پن حائل رہتا ہے ۔
یہ تو محترم تعبیر بہنا (اللہ ان کو سدا خوش وآباد رکھے آمین ) نے بہت خلوص سے زبردستی کرتے اراکین محفل سے گفتگو کرنے کی راہ کو آسان بنایا ۔
بس نایاب بھائی ایک یہی کام تو آتا ہے مجھے بولنا اور دوسروں کو بھی بولنے پر مجبور کرنا :p
مجھے تو ان میں سے کسی سے بھی ڈر بھی نہیں لگتا تھا تب حالانکہ میں بوچھی اور شگفتہ سے کئی بار ڈانٹ بھی کھا چکی تھی
البتہ فرحت ہمیشہ سے مجھے بیبا بچہ لگتی ہے۔
مہ جبین — مارچ 3، 2013 8:14 شام
بس نایاب بھائی ایک یہی کام تو آتا ہے مجھے بولنا اور دوسروں کو بھی بولنے پر مجبور کرنا :p
اور مجھے بھی اسی کام پر لگا کر خود غائب ہوگئیں ناں؟؟؟؟؟ :(
کیوں تعبیر بی بی؟؟؟؟:eek:
تعبیر — مارچ 3، 2013 8:15 شام
اور مجھے بھی اسی کام پر لگا کر خود غائب ہوگئیں ناں؟؟؟؟؟ :(
:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
آجکل تو میں خود بھی بولنا بھول گئی ہوں کیوں کہ غائب جو رہنے لگی ہوں بہت محفل سے
شش ششش ششش کہیں اور بات کرتے ہیں ورنہ ۔۔۔۔پتہ ہے نا آپ کو :p
مہ جبین — مارچ 3، 2013 8:16 شام
اور مجھے بھی اسی کام پر لگا کر خود غائب ہوگئیں ناں؟؟؟؟؟ :(
کیوں تعبیر بی بی؟؟؟؟:eek:
تعبیر بی بی کی راہ تکتے تکتے تو آنکھیں پتھرا جاتی ہیں :cry:
عاطف بٹ — مارچ 3، 2013 8:18 شام
تعبیر بی بی کی راہ تکتے تکتے تو آنکھیں پتھرا جاتی ہیں :cry:
خالہ جان، یہ تعبیر بی بی بڑی بندی ہیں۔ نظر ہی نہیں آتی ہیں، پتہ نہیں کہاں چھپی رہتی ہیں آج کل۔
مہ جبین — مارچ 3، 2013 8:18 شام
:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
آجکل تو میں خود بھی بولنا بھول گئی ہوں کیوں کہ غائب جو رہنے لگی ہوں بہت محفل سے
شش ششش ششش کہیں اور بات کرتے ہیں ورنہ ۔۔۔ ۔پتہ ہے نا آپ کو :p
ہممم ۔۔۔۔۔۔۔ پتہ ہے ، چلو یہاں سے چلتے ہیں :auto:
مہ جبین — مارچ 3، 2013 8:21 شام
خالہ جان، یہ تعبیر بی بی بڑی بندی ہیں۔ نظر ہی نہیں آتی ہیں، پتہ نہیں کہاں چھپی رہتی ہیں آج کل۔
بس تم فکر نہ کرو ، میں ابھی انکی کلاس لیتی ہوں :p
عاطف بٹ — مارچ 3، 2013 8:23 شام
بس تم فکر نہ کرو ، میں ابھی انکی کلاس لیتی ہوں :p
پلیز میری طرف سے بھی لیجئے گا ان کی کلاس۔ :p
محمد وارث — مارچ 4، 2013 5:21 صبح
شکریہ فرحت تفصیلی جوابات کے لیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ پسندیدہ کلام کے لیے بھی کچھ وقت نکال سکیں گی۔
والسلام
شمشاد — مارچ 4، 2013 6:19 صبح
ایک دن کی صدارت میں اتنے کام نہیں ہو سکتے۔
مجھ سے پوچھا ہوتا تو میں کہتا کہ ایک دن کی صدارت ملنے پر میں سب سے پہلا کام یہ کرتا کہ "تاحیات صدر رہنے کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا جائے" باقی کام بعد میں ہوتے رہتے۔
فرحت کیانی — مارچ 4، 2013 7:49 صبح
اللہ تعالی سدا آپ کو اپنی امان میں رکھے آمین
بہت شروع کی بات ہے کہ مجھے @بوچھی اپیا سیدہ شگفتہ بہنا اور آپ بارعب شخصیات محسوس ہوتی تھیں ۔
اک جھجھک سی رہتی تھی ۔ جانے کیا سننا پڑجائے ۔ ویسے بھی خواتین سے گفتگو کرنے میں شرمیلا پن حائل رہتا ہے ۔
یہ تو محترم تعبیر بہنا (اللہ ان کو سدا خوش وآباد رکھے آمین ) نے بہت خلوص سے زبردستی کرتے اراکین محفل سے گفتگو کرنے کی راہ کو آسان بنایا ۔
پہلی دو شخصیات کے بارعب :waiting: ہونے میں تو کوئی کلام نہیں نایاب بھائی۔ لیکن میں تو کوشش کے باوجود رعب دار شخصیت نہیں بن پائی :(
تعبیر واقعی اتنی خوش مزاج اور خوش دل ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی الگ تھلگ رہ ہی نہیں سکتا۔ :)
آپ بحیثیت خاتون پاکستانی خواتین کے لیئے کیسی تعلیم کو مناسب سمجھتی ہیں ۔ جو کہ پاکستانی خواتین کے لیئے اندرون و بیرون ملک زندگی گزارنے کے لیئے مفید ہو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔؟
کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کا نظام تعلیم ہر دو اصناف کے لیئے مناسب و مفید ہے ۔۔؟
میرے نزدیک ان دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی ہے۔
بہت سے دیگر ممالک کی طرح ہمارے یہاں بھی تعلیم کا مقصد عملی زندگی میں اچھی نوکری حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اتفاق سے کل شام ہی ٹیلی ویژن پر بچوں کا ایک پروگرام چل رہا تھا۔ مجھے دلچسپ لگا تو میں نے پورا پروگرام دیکھ لیا۔ اس میں میزبان ایک سکول میں بچوں کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے اور زیادہ تر بچے پرائمری سیکشن سے تھے۔ میزبان نے سوال کیا کہ 'آپ لوگ اسکول کیوں آتے ہیں اور پڑھنا کیوں ضروری ہے'؟ تمام بچوں کا یہی جواب تھا ' تاکہ اچھی جاب مل سکے'۔ مجھے حیرانگی اس بات پر ہو رہی تھی کہ ایک چھ سال کے بچے کو بھی 'تعلیم اور اچھی نوکری' کا فلسفہ معلوم ہے۔ یعنی ہم لوگ گھروں اور تعلیمی اداروں میں کہیں بھی پڑھنے کو شخصیت کی تعمیر سے نہیں جوڑتے۔ نتیجہ عملی زندگی میں آ کر انسان معاشرے میں اپنے ہر متوقع کردار میں کسی حد تک ناکامی کا شکار ہو جاتا ہے کونکہ پڑھائی کا مقصد نصابی کتابوں میں موجود مواد کو رٹوانا اور رٹنا اور پھر اچھے نمبر لانا ہوتا ہے اور تعلیم کو عملی زندگی سے بالکل الگ تھلگ ایک ڈبہ بند چیز سمجھا جاتا ہے۔
رہی صنفی بنیاد پر تعلیم تو میرا محدود مشاہدہ ، تجربہ اور علم یہ کہتا ہے کہ تعلیمی نظام اور نصاب اگر مقصدیت سے خالی ہے تو چاہے آپ مرد و خواتین کے لئے الگ الگ جتنے مرضی نصاب اور مضامین مختص کر لیں کوئی فائدہ نہیں۔ اور اگر تعلیم مقصدیت اور حقیقت پسندی پر مبنی ہے تو دونوں کے لئے یکساں انداز و نصاب کافی ہیں۔ کیونکہ اگر تعلیم نے آپ کو اچھے بُرے کی تمیز ، تجزیہ نگاری ، سوچنا ، ریزننگ (معذرت مجھے اس کی اردو ذہن میں نہیں آ رہی) اور فیصلہ لینے کی صلاحیت دے دی تو عملی زندگی میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
نایاب بھائی اگر تھیوری میں اور کاغذوں پر دیکھیں تو ہمارا تعلیمی نظام ترقی یافتہ ممالک سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہے لیکن جب ہم اس کے نفاذ اور پریکٹس کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کا نظامِ تعلیم غیر مفید اور با مقصد نہیں ہے۔ ہمارا موجودہ قومی نصاب جدید بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن جب اس کو سلیبس اور درسی کتابوں میں منتقل کیا جاتا ہے تو نصاب کی اصل روح کو سامنے نہیں رکھا جاتا۔یہاں بہت سے عوامل سامنے آ جاتے ہیں۔ کرپشن، نا اہلی ، ذاتی مفاد یہ سب عناصر کسی بھی اچھی نیت سے کئے گئے کام کے اصل مقصد کو ختم کر دیتے ہیں۔ مزید ستم یہ کہ ہمارے سسٹم میں ابھی بھی 'استاد' صرف معلومات کی منتقلی کا ذریعہ ہے نا کہ ایک رہنما اور facilitator۔ اس ضمن میں مجھے ایک تشبیہہ ذہن میں آتی ہے۔ کہ استاد جماعت میں آتا ہے، پھر جیسے بچے کے سر پر موجود ایک ڈھکن اٹھاتا ہے اور معلومات سے بھرا جگ اس میں انڈیل دیتا ہے۔ اب یہ معلومات بچے کے کس کام کی ہیں، بچے کو اس کا کچھ علم نہیں اور استاد کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ اور بچے کے ذہن میں اس جگ میں بھری معلومات کی جگہ ہے بھی نہیں، اس کی بھی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔
خیر میرے نزدیک ہمارے تعلیمی نظام کی چند بڑی کمزرویاں کچھ یوں ہیں۔
ایک مثال: بچے کو تخلیقی لکھائی سکھائی نہیں جاتی بلکہ رٹوائی جاتی ہے۔ نتیجتاً ساری جماعت کے چچاؤں کی شادی ایک ہی دن ہو رہی ہے ۔تمام بچوں کے والد کی تبدیلی ایک ہی جگہ ہو جاتی ہے ، سارے بچوں کو ان کے ماموں نے تحفہ دیا ہے اور سب کو تحفے میں گھڑی ملی ہے ، ہر ایک کا ہیرو ایک ہی بندہ ہے ، ہر ایک کو چھٹی چاہئیے تو وجہ صرف بخار ہے:confused3: ۔ تبھی تو جب لوگ عملی زندگی میں آتے ہیں تو مصیبت پڑ جاتی ہے۔
ایک اور مثال: برطانیہ میں اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں میں ایک ادارے میں گئی تو وہاں تخلیقی لکھائی اور سوچ پر بات ہونے لگی۔ اس ادارے کی سربراہ کسی زمانے میں چھوٹے بچوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک بار انہوں نے اپنی کلاس کے بچوں کو گیلی مٹی سے بھیڑ بنانے کو کہا۔ ایک بچی ان کے پاس اپنی بھیڑ لے کر آئی جو صرف مٹی کا ایک گولہ سا تھا۔ جب انہوں نے بچی سے پوچھا کہ یہ کیسی بھیڑ ہے جس کا سر، ٹانگیں کچھ بھی نہیں ہیں؟ تو اس بچی کا جواب کچھ یوں تھا ۔ ' یہ بھیڑ سو رہی ہے اور اس نے اپنی گردن اور ٹانگیں اپنے دھڑ میں چھپا لی ہیں۔" ان خاتون کے مطابق انہوں نے اس بچی کو تخلیقی سوچ رکھنے کی بنیاد پر اس ایکٹیویٹی میں اے ون گریڈ دیا۔ اور میں تب یہ سوچ رہی تھی کہ اگر یہی بات ہمارے یہاں کسی بچے نے کہی ہوتی تو استاد صاحبان اس کا کیا حشر کرتے ۔
فرحت کیانی — مارچ 4، 2013 8:08 صبح
اگر آپ کو وزیر تعلیم بننے کا موقع ملے تو آپ موجودہ پاکستانی نظام تعلیم میں کس قسم کو ردوبدل کرنا مناسب سمجھیں گی ۔۔۔ ۔؟
اس صورت میں میرا فوکس ان باتوں پر ہو گا:
پاکستانی معاشرے میں اک خاتون کیسے اپنی انفرادیت کو قائم رکھتے بلندیوں کو چھو سکتی ہے ۔۔۔ ؟
مجھے ایسا لگتا ہے نایاب بھائی کہ ہمارے پاکستانی میں معاشرے میں تعلیم یافتہ یا کام کرنے والی خواتین کے بارے میں ایک روایتی سوچ رکھی جاتی ہے کہ وہ روایات سے باغی ہوتی ہے ، اس کو گھر بنانے یا چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، اس کے نزدیک اس کا کیریئر یا تعلیم اس کی پہلی اور آخری ترجیح ہوتی ہے۔ جبکہ میرا مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ یقیناً ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر خواتین اپنے گھر کا نظام بہتر طریقے سے چلانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں۔ غیر روایتی مثالیں تو آپ کو کم پڑھی لکھی یا گھریلو خواتین میں بھی مل جاتی ہیں۔ ان میں بھی ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو ایک بیٹی، بہن ، بیوی یا ماں کی حیثیت میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس سوال کے جواب میں میں یہی کہوں گی کہ خواتین چاہے گھریلو ہوں یا کام کرنے والی، تعلیم اور پھر اس سے ملنے والے شعور کی بنیاد پر عملی زندگی گزارنا ان کو خود سے منسوب تمام فرائض بہ احسن سر انجام دینے میں مدد دیتے ہیں۔ویسے بھی ہمارے یہاں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ صرف پڑھی لکھی لڑکی پر ہی ورکنگ وویمن کا ٹھپہ لگایا جا سکتا ہے حالانکہ وہ عورتیں جو لوگوں کے گھروں میں کام اور مزدوری کرتی ہیں وہ بھی ورکنگ کلاس کا ہی حصہ ہیں۔ سو اگر پیشہ ورانہ زندگی کی بات کی جائے تو ایک خاتون اگر متوازن سوچ کی مالک ہے تو وہ گھر سے باہر بھی مذہبی ، ذاتی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے مطابق کامیاب زندگی گزار سکتی ہے ، لباس کے چناؤ سے لیکر عام میل جول تک کہیں بھی اس کو اپنی انفرادیت برقرار رکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
فرحت کیانی — مارچ 4، 2013 8:11 صبح
:whew:
نایاب بھائی تعلیم پر میں گھنٹوں بات کیا کرتی ہوں حتیٰ کہ سننے والےاپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ امید ہے آپ بھی اس وقت ایسا ہی کر رہے ہوں گے۔ :openmouthed:
ملائکہ — مارچ 4، 2013 8:42 صبح
واؤ اپنے بہت تفصیل سے اور بہت اچھے جوابات لکھے ہیں۔۔۔۔ آپکے ساتھ تو تھوڑا وقت گزارنا چائیے تاکہ ہم جیسے لوگ بھی کچھ نہ کچھ سیکھ لیں آپ سے۔۔۔۔ میرا بھی ایک سوال ہے جیسا کہ آپ نے بچوں کی تعلیم اور اسکول کے بارے میں لکھا ہے تو اسی حوالے سے سوال یہ ہے کہ ایک عام ماں جو کہ خود اسی طرح کے سسٹم سے تعلیم لیکر نکلی ہو۔۔۔ وہ اتنے complex and competitive ماحول میں اپنے بچے کی تربیت اس طرح کیسے کرے کہ وہ ایک اچھا انسان بھی ہو اور practically بھی کامیاب ہو
باباجی — مارچ 4، 2013 8:54 صبح
تعلیم کے حوالے سے کچھ سوالات میرے ذہن میں آئے ہیں ورنہ میں زیادہ سوالات نہیں کرسکتا
فرحت کیانی
1) پاکستان میں جو زیادہ روانی سے اور اچھی انگریزی بولتا ہے وہ زیادہ پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ ایسا کیوں ؟
2) یہاں پڑھے لکھے ہونے کا کیا معیار ہے ؟
3) کیا آپ ملک میں رائج طریقہ تعلیم و نصاب سے مطمئن ہیں ؟
امن ایمان — مارچ 4، 2013 10:19 صبح
زبردست۔۔۔۔واقعی میں بہت،بےحد جاندار،حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان جوابات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔۔۔۔کاش کوئی حکومتی بندہ یہاں کا رخ کرلے اور ان نظریات کو پڑھ لے۔۔۔۔کاش ہماری آئیندہ پرائم منسٹر فرحت کیانی بن سکتی ہوتیں۔۔۔۔فرحت ملائکہ کا سوال بہت عمدہ ہے،۔۔۔اور مجھے آپ کے جواب انتظار رہے گا۔
آپ کے جوابات واقعی بلاتبصرہ ہیں۔:)
امن ایمان — مارچ 4، 2013 10:21 صبح
اچھا فرحت اوپر باباجی کے کچھ سنجیدہ سوالات بھی جوابات کے منتظر ہیں۔۔۔۔اور ان کے بعد بلال اعظم کے 100 سوال آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔مجھے امید ہے آپ اپنا حوصلہ بلند رکھیں گی۔:lol:
عاطف بٹ — مارچ 4، 2013 10:23 صبح
کاش ہماری آئیندہ پرائم منسٹر فرحت کیانی بن سکتی ہوتیں۔۔۔ ۔
اگر فرحت نے وزیراعظم بننا ہے تو مجھے صدرِ مملکت بنائیں پھر! :p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88-%D9%88%D9%90%D8%AF-%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C.59961/page-16