میرا بھی ایک سوال ہے جیسا کہ آپ نے بچوں کی تعلیم اور اسکول کے بارے میں لکھا ہے تو اسی حوالے سے سوال یہ ہے کہ ایک عام ماں جو کہ خود اسی طرح کے سسٹم سے تعلیم لیکر نکلی ہو۔۔۔ وہ اتنے complex and competitive ماحول میں اپنے بچے کی تربیت اس طرح کیسے کرے کہ وہ ایک اچھا انسان بھی ہو اور practically بھی کامیاب ہو
پہلے تو تاخیر سے جواب دینے پر بہت معذرت ملائکہ۔
یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے ملائکہ۔ ان دنوں ماؤں کے لئے بچوں کی اچھی تربیت واقعی ایک مسئلہ ہے شاید۔ میرے خیال میں اس میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ والدین کی نظر میں بچے کی مثبت پرورش میں گھر کے ماحول کی کتنی اہمیت ہے۔
بچے کی تعلیم و تربیت میں اسکول اور والدین کی یکساں ذمہ داری ہوتی ہے۔ والدین ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو حسب استطاعت بہترین تعلیمی ادارے میں بھیجیں اور پھر اس کے بعد شاید لاشعوری طور پر وہ خود کو بہت سی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کا فوکس بھی صرف بچے کے گریڈز پر ہوتا ہے ، اخلاقی تربیت کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہاں ماں نے بچے کو عملی زندگی میں معاشرے کے قائم کردہ معیار کے مطابق تو تیار کر دیا لیکن کردار کی تعمیر میں کچھ کمی رہ جاتی ہے۔
ہماری زندگی کے پہلے پانچ سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ ہم جو عادتیں یا باتیں اس عمر میں سیکھتے ہیں وہ کبھی نہیں بھولتے تو اگر ماں چھوٹی چھوٹی چیزیں بچے کو بتاتی رہے تو بچے کی شخصیت کی تعمیر مثبت انداز میں ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ماں کی مکمل توجہ اور پورا وقت بہت اہم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت اور توجہ کی کمی کا شکار صرف وہی بچے نہیں ہوتے جن کی مائیں جاب کرتی ہیں۔ فُل ٹائم مائیں بھی بچوں کو نظر انداز اس طرح کرنا شروع کر دیتی ہیں جب ٹیلی ویژن اور فون ان کا زیادہ وقت لے جاتے ہیں۔ اور یہی چیز بچوں کی ترجیح بھی بن جاتی ہے۔ اور بچہ چونکہ سیکھنے کی عمر میں ہوتا ہے اور اس عمر میں بچے کا ذہن فوم کے ٹکڑے جیسا ہوتا ہے جو سب کچھ بہت جلدی خود میں جذب کر لیتا ہے تو وہ ٹیلی ویژن اور فون سے بہت کچھ ایسا سیکھ جاتا ہے جو آہستہ آہستہ اس کی شخصیت میں بگاڑ بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہاں ماؤں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ان کو ایک کوڈ آف کونڈکٹ سیٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کس حد تک بچے کو ان چیزوں کا اثر لینے کی اجازت دینی چاہئیے اور اس کے لئے انہیں خود اپنے لئے بھی حد قائم کرنی چاہئیے کہ وہ کیسی چیزیں بچے کے سامنے دیکھیں گی اور کیسی نہیں،بچے کے سامنے کس طرح کی زبان استعمال کریں گی اور دوسروں کے ساتھ کس انداز میں پیش آئیں گی۔ بچہ ٹیلی ویژن پر کیا دیکھ سکے گا اور کیا نہیں ، اس کا کون سا رویہ کس حد تک قابلِ قبول ہو گا اور کس مقام پر اس کی سرزنش کی جائے گی۔ کیونکہ جو norms بچہ گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے وہ اس کے نزدیک گھر، والدین اور معاشرے ہر جگہ پر قابلِ قبول ہوتے ہیں۔
گھر میں بچوں کو چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی عادت ڈالنا اور ساتھ ساتھ ہر چیز کو اخلاق ، حقوق العباد اور حقوق اللہ سے جوڑنا بچوں کے ذہن میں ان چیزوں کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو عملی زندگی میں خود کام کرنے کے لئے تیار بھی کرتا ہے۔ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ بچوں کو وضاحت اور دلائل کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ بچے بہت منطقی انداز میں سوچتے ہیں اور ان کا ذہن بغیر کسی ٹھوس وجہ کے کوئی بات قبول نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً وہ کنفیوژ ہو جاتے ہیں اور یہ کنفیوژن ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔ بچے کو کسی چیز سے منع کرنا ہے یا پابندی لگانی ہے تو اس کی وجہ بھی اس کو معلوم ہونی چاہئیے ورنہ اس کی فطرت میں موجود تجسس اس کو وہ کام کرنے پر مجبور کر دے گا جس کی اس کو ممانعت کی جائے÷
پھر ماں کو گھر سے باہر بھی بچے کی صحبت کا معلوم ہونا چاہئیے اور ایسا صرف بڑے بچوں کے ہی ضروری نہیں۔ یہ ہر عمر کے بچے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ میرے خیال میں ماں باپ دونوں کو بچے کے نصاب اور کتاب کے ساتھ منسلک رہنا چاہئیے۔ بچے کی پڑھائی صرف اسکول اور ٹیوشن کی ذمہ داری نہیں والدین کو بھی اس کو اتنی ہی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ماں خود سے پڑھانے سے قاصر ہے تو وہ بچے کی پڑھتے ہوئی نگرانی تو کر سکتی ہے۔ پھر کوئی بھی نصاب ہو اس کی بنیاد کوئی نہ کوئی اخلاقی ویلیو ہوتی ہے۔ جو بچہ اسکول میں پڑھ رہا ہے اگر اسی سے متعلق چھوٹی چھوٹی مثالیں گھر میں دے دی جائیں تو بچے کے لئے ایبسٹریکٹس کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
سو میرے خیال میں ماں کو بچے کی اچھی پڑھائی کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ گھر میں بھی اس کو عملی مثالوں کے ذریعے اس کی تربیت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔ گھر کا ماحول بچے کو معاشرے کے مہذب شہری اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔