فرحت کیانی چندا ۔۔۔۔۔ غالب فرماتے ہیں کہ
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
تو بس مشکلات کا مقابلہ تو تم کرتی ہی رہی ہو
اس میں ایسی کوئی خاص مشکل نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ جو تم نہ بتانا چاہو وہ نہ بتانا ، باقی تو سب عام سی باتیں ہیں
۔ اور آپ تو ماشاءاللہ 'بہت زیادہ چھوٹے' ہیں شاید۔ انیس، اگر یہ کہانی میرے لئے ہے تو خرگوش کے پڑپوتے کا کردار ڈالنا تھا ناں

اور نہیں تو کیا۔
آپ کی شفقت ہے نایاب بھائی۔
آنٹی جی پلیز شرمندہ نہ کریں
۔میں بھی منتظر ہوں عائشہ۔ یاد ہے ناں کیوں؟

پوچھ لیں اور میں بھی جانے سے پہلے جواب دے جاتی ہوں۔ آج سُستی ذرا گھومنے گئی ہوئی ہے۔
کوئٹہ۔ ابا جان کی پوسٹنگ تھی وہاں۔ شروع کا بچپن وہیں گزرا۔ ہوش پنجاب میں آ کر سنبھالا۔
چار بہن بھائی ہیں۔ تین بھائی اور ایک میں۔ میرا نمبر دوسرا ہے۔
دونوں کی۔
اردو ، پنجابی ، انگریزی۔
جو بھی مل جائے۔ پچھلے کچھ عرصے سے خود نوشت سوانح عمریاں بہت پڑھی ہیں۔ شاعری مجھے اچھی لگتی ہے تو وہ بھی پڑھتی ہوں۔ فکشن بھی اچھا لگتا ہے۔ اور نان فکشن بھی پڑھنا پڑتا ہے۔
زیادہ تو نہیں لکھتی۔ لیکن معاشرتی مسائل اور رویوں پر سوچنا ، بات کرنا اور لکھنا اچھا لگتا ہے۔
زمانہ طالبعلمی میں کافی ایکٹو رہی ہوں۔ پڑھائی اور ہم نصابی دونوں طرح کی سرگرمیاں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ تقاریر ، میزبانی ، ڈرامے ، لکھنا ایسی ہی سرگرمیوں میں اساتذہ ڈال دیتے تھے اور میں شامل ہو جاتی تھی۔ سکول میں سٹوڈنٹ کاؤنسل کی ممبر تھی۔
مجھے سارا پاکستان ہی بہت پسند ہے۔ لاہور میں بہت مزے کا وقت گزرا۔ اس لئے یہ سرِ فہرست ہے۔ کوئٹہ اپنے ہوش میں دیکھ نہیں پائی۔ اس سے میرا لگاؤ ویسا ہی ہے جیسا بچوں کو کہانیوں میں کسی فیری لینڈ سے ہوتا ہے۔ اسلام آباد چاہے پتھروں کا شہر لیکن مجھے اس کی خاموشی اپنی طرف کھینچتی ہے۔
شمشاد بھائی، سکول اور کالج کے دنوں میں سالانہ میگزینز میں کچھ نہ کچھ لکھتی تھی۔ انہی میں سے چند مضامین میری کلاس ٹیچر نے اخبار میں بھیجنے کو کہے تھے۔ ان کی کٹنگز پڑی ہیں میرے پاس کہیں۔ اس کے علاوہ تو کچھ نہیں لکھا۔ اب بلاگ پر کبھی کبھار کچھ لکھ لیتی ہوں۔
نعیم صدیقی نے شاید کسی ایسے ہی موقع کے لیے لکھا تھا
محترم بہنا ۔ سدا خوش وہنستی مسکراتی رہیں آمین ۔
میں بہت دکھی اور تھوڑا تھوڑا ناراض ہوں آپ سے فرحت کہ جب سعود ، امین اور میں نے کہا تھا انٹرویو کے لیے تو تب آپ نے ہمیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیا تھا ۔بھلا کیوں؟