یہ انٹرویو میرا ’’پسندیدہ‘‘ دھاگہ رہا ہے۔ اس میں عمران بھائی کے ساتھ میرا بھی مکالمہ ہوا تھا۔ میرے ساتھ مکالمہ سے قبل شمشاد بھائی اور دیگر احباب کے سوالوں کے جواب میں عمران بھائی نے جو کچھ کہا، وہ مختصرا" اُن کے الفاظ میں یہاں درج کیا جارہا ہے۔ اگر عمران بھائی سے متعلق اس بیان کے نقل میں کوئی غلطی ہوگئی ہو یا اب عمران بھائی کا نکتہ نظر تبدیل ہوگیا ہو تو وہ وضاحت کرسکتے ہیں۔ 
میرا نام عمران خان ( انصاف کی تحریک والا نہیں
)ہے سن چوراسی میں بھاولپور میں پیدا ہوا۔ لال گلاب اور سرد موسم پسند ہیں جبکہ کسی انسانی رشتہ کو اہمیت نہیں دیتا۔ اسی لئے شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اکیلا اپنی دنیا مگن تنہا رہنا پسند کرتا ہوں۔ تنہائی میں مداخلت کو پسند نہیں کرتا حتیٰ کہ گھر پر بیشتر ٹیلی فون کال کو اٹینڈ نہیں کرتا۔ کئی سالوں سے ٹی وی نہیں دیکھتا۔ کتے اور بلی پسند ہیں۔ محبت کی داستان طویل ہے، کہاں تک سنوگے، کہاں تک سنائیں۔ ویسے اب ایسے فضول دھندھوں کی فرصت ہے نا ہی ضرورت۔ مجھ میں خوبی تو کوئی نہیں لیکن اب ایسی کوئی خامی نہیں رہی جو مجھ میں نہ ہو۔ بچپن کے دن غربت کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ بہت اچھے تھے۔ کسی کو یاد نہیں کرتا اور نہ کوئی اس قابل ہے کہ اسے یاد کیا جائے۔ کبھی کبھی ڈرنک بھی کرلیتا ہوں۔۔ میرے والدین مدینہ المنورہ میں رہتے ہیں۔ اور میں جدہ میں ملازمت کرتا ہوں۔
سونے سے پہلے کتاب پڑھ لیتا ہوں اور جاگتے ہی لیپ ٹاپ کا پاور بٹن آن کر دیتا ہوں۔ کتابیں بہت پڑھی ہیں۔ میری بُک شیلف میں موجود کتب کی ایک پرانی لسٹ یہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کا انسیکلو پیڈیا۔ قصص القرآن 2 جلدیں۔کائنات کے ان کھلے راز۔حیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔آدھا پاکستان۔داستان مجاہد۔تاریخ اسلام۔رود کوثر۔موت کا منظر۔عالم اسلام پر یہود و نصاریٰ کے ذرائع ابلاغ کی یلغار۔پردیسی درخت۔ذکر و فکر۔اور تلوار ٹوٹ گئی۔آخری معرکہ۔ شفاف کرپشن اور سیاہ احتساب۔حقیقت توحید۔جنسی زندگی۔قرب قیامت کے فتنے اور جنگیں بمع احوال بعد قیامت۔معاشرے کی مہلک بیماریان اور ان کا علاج۔بدر سے باٹا پور تک۔داستان ایمان فروشوں کی۔کہانی کفن چور حکمرانوں کی۔نظریہ ارتقا ایک فریب۔ڈاکٹر حمیداللہ کی بہترین تحریریں۔اندھیری رات کے مسافر۔تاریخ تمدن اسلام۔قصص لانبیا و اصحاب صالحین۔خمینی اور اتاترک کے ایران اور ترکی میں کیا کیا دیکھا۔شریف لٹیرے۔یادوں کی امانت۔اللہ کے سپاہی۔چیونٹی ایک معجزہ۔تخلیقی عجائب۔کلیسا اور آگ۔جہنم کی ہولناکیاں۔سنہرے اوراق۔ انسائیکلو پیڈیا آف آٹو میٹک آرمی رائفلز۔توشہ آخرت۔اٹلس سیرہ نبوی۔ویوز آن نیوز۔اسلامی انسائکلوپیڈیا 2 جلد۔اکسیر ہدایت۔اسلام میں بدعت اور ذلالت کے محرکات۔الدین القیم۔دنیا اور آخرت۔قصص لانبیا ء۔شاہین۔اور ایک بت شکن پیدا ہوا ،دوجلدیں۔قیصر و قصریٰ۔وانا آپریشن اصل حقائق کیا ہیں۔کنجی حکمت۔اسلام مغرب کے کٹہرے میں۔بیسل سے بغداد تک۔اللہ موجود نہیں؟۔اقضیہ الرسول۔تحفہ اثنا عشریہ۔عشق مجازی کی تباہ کاریاں۔بائبل قرآن اور سائنس۔محمد بن قاسم۔قائد افواج سے قائد عوام تک۔قومی المیہ۔اللہ اکبر۔توشہ آخرت۔سی آئی اے کی خفیہ جنگیں۔قافلہ حجاز۔مسلمان قاضیوں کا بے لاگ انصاف۔دنیا اور اس کی حقیقت۔مذہبی اور سیاسی باوے۔قرآن سائنس اور ٹیکنالوجی۔میں اور میرا کشمیر۔اسٹیبلشمٹ کے سہ جہتی حکمت عملی۔پاکستان لوٹنے والے۔کون کیا ہے۔کلون۔سبیل المومنین۔سچائی کی جستجو۔صحیح بخاری۔ ہماری شکست کی کہانی۔بین القوامی مسلم نوجوان۔اسرائیل و مشروع نووی ایرانی۔سلاح جوی۔
کسی خالق کائنات کا کوئی وجود نہیں میرے دماغ میں۔ میرا کوئی مذہب نہیں ہے اور شاید میں اب بھی کئی مذاہب کے پابندیوں سے تو ٹھیک ہوں دنیا میں۔ میں ہر کسی کو اس کے مذہب کے مطابق آرام سے ٹریٹ کر لیتا ہوں ۔میں ہر مذہب کا احترام کرتا ہوں یہ الگ بات ہے کہ اب مجھے کسی خدا بھگوان اللہ ایشور کی ضراورت نہیں رہی ۔میں نظریہ ارتقاّء پر یقین رکھتا ہوں۔خالق اس سب میں تھا ہی کہاں بھائی جی یہ سب تخلیق خود اسی مخلوک کی ہے جس میں اپنے خالق کی تخلیق بھی شامل ہے ۔انسان کو خدا کو ایجاد کرنے میں سینکڑوں سال لگے اور اس کی ماہیت تبدیل کرنے میں اور ہزاروں سال ۔ خدا کا موجودہ تصور بالکل قابل تسلیم نہیں ۔ جتنے دلائل خدا کے ہونے پر ہیں اتنے ہی اس کے نا ہونے پر۔
روح کو کب سائنس نے تسلیم کیا روح نام کی چیز اصل میں ہے ہی نہیں تمام ارتقاء پسند سائنسدان مانتے ہیں روح بذات خود انسان کا تخیل ہے ۔آخر میں اس پر اتفاق ہوا تھا کہ اس پر مزید تحقیق کی جا سکتی ہے نا کہ ارتقاء پسندوں نے تسلیم کیا تھا کہ روح ہے ۔میرے لیے روح کچھ نہیں جسم ہے جو مادوں پر مشتمل ہے اور اس کے خلیوں کی عمر جسیے جیسے بڑھے گی یہ خود بخود اپنی موت کی طرف جائیں گے اور انسان بھی ۔اور ایک دن سب ختم بس ۔
ہر زمانے کے بڑے کچھ پرانی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ضروری نہیں کہ ہم بھی ویسا کریں ۔ ویسے مجھے مذہب کی تعلیم دی گئی تھی، جس کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی ۔ جدید علوم نے پرانے علوم کی نفی کر دی ہے۔ بگ بانگ تو ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کیا جاتا ہے ۔رہی بات تخلیق کی تو کہاں سائنس نے کہا کہ دھماکہ ہوا اور سب بن گیا بلکہ دھماکے کے لاکھوں سال تک تو زمیں بے حد گرم رہی ۔ایک اندازے کے مطابق 60 ملین سال لگے اس کام کو تو آپ نے کیسے کہہ دیا کہ دھماکہ ہوا اور سب بن گیا ۔یہ تو خود مذہبی پیشوا یا ان کو ماننے والے بتائیں کہ وہ کیسے کہتے ہیں کہ 6 دن میں کسی نے بنا دی یہ سب کچھ ۔یا پھر اسے دکھائیں جس نے بنایا ۔ اب ان تک بندیوں سے کام نہیں چلے گا کہ اس کی یہ نشانی وہ نشانی دیکھ لو ۔
اصل میں جب بھی کوئی جدید تحقیق سامنے آتی ہے تو مذہبی ٹھیکے دار بھاگ کر جاتے ہیں اور اپنی کتابوں کو چھانٹ پیٹ کر الٹی سیدھی باتیں نکال لاتے ہیں کہ دیکھو ہمارے مذہب نے تو ہزاروں سال پہلے یہ کہہ دیا تھا ۔اور جب وہ تحقیق رد ہو جاتی ہے تو سائنس نئی تحقیق کو مان لیتی ہے اور مذہب آئیں بائیں شائیں کرتا رہتا ہے ۔ سائینس میں کوئی قانون اٹل نہیں یہ مذہب ہی ہے جو کہتا ہے منہ بند اور سنو جو کسی نبی بھگوان اوتار دیوتا نے ایام جنگل میں کہا تھا وہی سب کچھ ہے اور اس سے آگے پوچھنا آگ کی وادی میں دھکیل دے گا ۔ جبکہ ایتھی ازم میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔
اس کائنات کو کوئی نہیں چلا رہا ۔ نہ ہی کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے چلائے۔یہ سب ہوتا جا رہا ہے اور جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے معاملہ خودبخود خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کائنات نہ کبھی ایسی تھی نہ ایسی رہے گی ۔یہ جہاں موجودہ جگہ پر ہے، یہ اس سے ہٹے گی بھی کیونکہ کہیں سے ہٹ کر ہی یہاں پہنچی ہے۔ پر یہ کہنا کہ کسی نے بنائی ہے اور کسی کام کے لیے بنائی ہے اب مطابقت نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ انسان سہارا ڈھونڈھتا ہے کسی کا جو اس کے خیال میں رہے جس پر وہ ہر کامیابی، ناکامی، غم ،خوشی میں شریک رکھے چاہے وہ موجود ہی نہ ہو۔
ان شاء اللہ اگلی قسط میں عمران بھائی کے ساتھ ہونے والے اپنے مکالمے کی تلخیص پیش کروں گا