انٹرویوانٹرویو وِد Atheist

اوشو — مئی 5، 2013 5:06 صبح
انسان کو ہر حال میں ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اس چھتری سے نکل کر بہت دھوپ لگتی ہے ایک سابقہ ملحد کا اقبال ۔ سچ میں دوستو جو بھی ہے جیسا بھی جہاں بھی ہے ہے یا نا ہے پر ایک مذہبی سہارا جو جبلت میں بٹھایا گیا ہو اس سے دور ہو کر زندگی کی ہر مشکل کا خؤد سامنا کرنا آسان نہیں
یوسف-2 آپ کے لیے یہ پیغام اپنے فیملی ممبرز کو بتا دیجیے گا جو اس وقت بہت ہی اٹریکٹیو تھے اس دھاگے میں:peacesign:

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونیں منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
عسکری — مئی 5، 2013 5:10 صبح
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونیں منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
بات
حالات یا واقعات کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک نفسیاتی معاملہ بن جاتا ہے ۔
اوشو — مئی 5، 2013 5:11 صبح
بات ایک ہی ہے آپ سکے کا دوسرا رخ کہہ رہے ہیں۔
عسکری — مئی 5، 2013 5:13 صبح
بات ایک ہی ہے آپ سکے کا دوسرا رخ کہہ رہے ہیں۔
کم از کم میرے لیے ایسا ہی ہے ۔ مجھے کسی چیز کی پروا نہین تھی نا کمی تھی پھر بھی ایسا ہوا اس لیے ۔ میرے آگے پیچھے دور دور تک مجبوری مسائل یا وسائل کی کمی نہیں پھر بھی یہ ان سیکورٹی کا راستہ جو میں نے چنا یہ انسان کو نفسیاتی طور پر توڑتا ہے ۔ اور مجھے سچ بتانا ہے اس لیے بتا رہا ہوں پائی جان :rolleyes:
نایاب — مئی 5، 2013 5:15 صبح
ہر انسان کی ضرورت ہی اس سے کچھ کراتی ہے اور ایک نہایت پیچدہ انسان نے اس طرح سے راستہ بنا لیا ہے ۔

محترم عسکری بھائی ۔ نہ کل آپ " پیچیدہ " تھے ۔۔۔۔ ملحد کا نعرہ لگاتے ہوئے
نہ آج آپ " آسان " ہیں ۔۔ موحد کا نعرہ لگاتے ہوئے ۔۔۔۔۔
انسانی جبلت کے تراشے مذہبی سہارے ہی سے مدد چاہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ کا یقین سدا قائم رہے آمین
اوشو — مئی 5، 2013 5:15 صبح
کم از کم میرے لیے ایسا ہی ہے ۔ مجھے کسی چیز کی پروا نہین تھی نا کمی تھی پھر بھی ایسا ہوا اس لیے ۔ میرے آگے پیچھے دور دور تک مجبوری مسائل یا وسائل کی کمی نہیں پھر بھی یہ ان سیکورٹی کا راستہ جو میں نے چنا یہ انسان کو نفسیاتی طور پر توڑتا ہے ۔ اور مجھے سچ بتانا ہے اس لیے بتا رہا ہوں پائی جان :rolleyes:

لیکن میں پھر بھی کہوں گا حالات و واقعات ہی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نفسیات ہی حالات و واقعات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
عسکری — مئی 5، 2013 5:25 صبح
لیکن میں پھر بھی کہوں گا حالات و واقعات ہی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نفسیات ہی حالات و واقعات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
کبھی کبھی کچھ ہوئے بگیر بھی نفسیات پر چیزیں ہتھوڑا بن کر برستی ہیں یہ اپن کا تجربہ ہے جناب ۔ فئیر آف ان نون کو ہی لے لیں ۔
عسکری — مئی 5، 2013 5:26 صبح
محترم عسکری بھائی ۔ نہ کل آپ " پیچیدہ " تھے ۔۔۔ ۔ ملحد کا نعرہ لگاتے ہوئے
نہ آج آپ " آسان " ہیں ۔۔ موحد کا نعرہ لگاتے ہوئے ۔۔۔ ۔۔
انسانی جبلت کے تراشے مذہبی سہارے ہی سے مدد چاہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ کا یقین سدا قائم رہے آمین
بہرحال مجھے لگتا ہے کہ میں اتنا سیدھا نہیں جتنا نظر آتا ہوں ۔ کیونکہ میرے دماغ میں ابھی بھی کئی ایسی چیزیں ہیں جن کو میں الفاظ نہیں دے پایا آج تک۔:cautious:
اوشو — مئی 5، 2013 5:32 صبح
کبھی کبھی کچھ ہوئے بگیر بھی نفسیات پر چیزیں ہتھوڑا بن کر برستی ہیں یہ اپن کا تجربہ ہے جناب ۔ فئیر آف ان نون کو ہی لے لیں ۔
ہممم میرا خیال ہے اب میں سمجھ گیا آپ کی بات ۔ کچھ ایسا ہی واقعہ یاد آیا۔
ایک ملحد کا ایک بزرگ سے مباحثہ ہو گیا۔ بزرگ نے فرمایا تم خدا پر یقین نہیں رکھتے۔ میں رکھتا ہوں۔ فرض کرو خدا کا وجود نہ ہوا تو بعد از مرگ مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں یعنی نہ نفع نہ نقصان لیکن اگر فرض کرو واقعی خدا کا وجود ہوا تو تم مرنے کے بعد گھاٹے میں رہو گے یا فائدے میں؟ ۔ ملحد نے جواب دیا یقینا اگر ایسا ہوا تو میں گھاٹے میں رہوں گا۔
تو بزرگ نے فرمایا تم ایسا سودا کیوں کرتے ہو جس میں کچھ حاصل ہونے کی رائی برابر بھی توقع نہ ہو ایسا سودا کیوں نہیں کرتے جس ٹھیک نکلا تو فائدہ ہی فائدہ نہ ٹھیک نکلا تو بھی کم از کم تمہارا نقصان نہیں ہو گا۔
ملحد یہ سن کر قائل ہو گیا۔
اوشو — مئی 5، 2013 5:34 صبح
بہرحال مجھے لگتا ہے کہ میں اتنا سیدھا نہیں جتنا نظر آتا ہوں ۔ کیونکہ میرے دماغ میں ابھی بھی کئی ایسی چیزیں ہیں جن کو میں الفاظ نہیں دے پایا آج تک۔:cautious:
سیدھا تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔ انسان تو تہہ در تہہ پیاز کی چھلکوں کی پرتوں کی طرح ہے۔ پرتیں اتارتے جاؤ آخر میں ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ اس سے کہیں بہتر تو یہ ہے کہ پیاز کو انجوائے کیا جائے :p
محمود احمد غزنوی — مئی 5، 2013 5:55 صبح
تو بات یہ کھلی کہ یہ سارا کیا دھرا Fear of Unknown کا ہے؟؟؟؟۔۔۔چلو یہ بھی غنیمت ہے۔۔ہم تو Love of Unknown کی خواہش کر رہے تھے۔۔چلیں اک دن وہ بھی سہی۔امید پہ دنیا قائم ہے :notworthy:
میں کہ پرشور سمندر تھے میرے پاؤں میں۔
اب جو ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
ساجد — مئی 5، 2013 5:58 صبح
فکر نہ کریں اس کی شادی ہونے دیں عسکری جوان ایسا سدھرے گا کہ ہم جیسے بھی اپنے بچوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لئے اس کے پاس دَم کروانے بھیجا کریں گے :)
اوشو — مئی 5، 2013 5:59 صبح
فکر نہ کریں اس کی شادی ہونے دیں عسکری جوان ایسا سدھرے گا کہ ہم جیسے بھی اپنے بچوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لئے اس کے پاس دَم کروانے بھیجا کریں گے :)
:rollingonthefloor: :rollingonthefloor: :rollingonthefloor: :rollingonthefloor: :rollingonthefloor:
عبدالقدوس راشد — مئی 5، 2013 7:18 صبح
آج ہی انٹرویو نظر آیا اور آج ہی پڑھ ڈالا دوسرے الفاظ میں پڑھ کر ہی سانس لیا شروع میں عسکری جوان کے کے متعلق پڑھ کر دکھ ہوا اور دل سے دعا نکلی اللہ ان کو مذہب کے سایہ عاطفت میں جگہ دے ۔
آخر میں چھتری مل جانے پر انتہائی خوشی ہوئی ۔اللہ ان کو استقامت دے اور اس کیلئے کوشش کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
شمشاد — مئی 5، 2013 7:45 صبح
میں نے نہیں جانا کہیں :rolleyes: میں ویسے بھی بہت جا چکا ۔ ہمارے راستے بہت جدا ہو چکے
جڑ سے کوئی نہیں ٹوٹ سکتا۔ ٹوٹے گا تو کچھ نہیں بچے گا۔ جتنا مرضی بھاگ لو۔ آخر کو لوٹ کر جانا ہی ہے۔
کوئی اور راستہ نہیں نکل سکتا شادی کے علاوہ؟
cat-in-a-bag.jpg
اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ تاخیر کر لو۔
پردیسی — مئی 5، 2013 10:34 صبح
میں نے نہیں جانا کہیں :rolleyes: میں ویسے بھی بہت جا چکا ۔ ہمارے راستے بہت جدا ہو چکے
اب بھی زیادہ کچھ نہیں کہوں گا برادر ۔۔۔ کچھ بھی (کچھ بھی سے مراد ابتدا سے انتہا تک) ہوا ہو بس ماں کے پاس جاؤ ، پیار اور دعائیں لو
الشفاء — مئی 5، 2013 2:15 شام
انسان کو ہر حال میں ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اس چھتری سے نکل کر بہت دھوپ لگتی ہے۔ سچ میں دوستو جو بھی ہے جیسا بھی جہاں بھی ہے ہے یا نا ہے پر ایک مذہبی سہارا جو جبلت میں بٹھایا گیا ہو اس سے دور ہو کر زندگی کی ہر مشکل کا خؤد سامنا کرنا آسان نہیں

بالکل بجا فرمایا آپ نے عسکری بھیا۔ کہ انسان کو بہرحال ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ کسی دھاگے میں جب آپ کو کھسکی ہوئی باتیں کرنے والا کہا جا رہا تھا تو اسی دھاگے میں گنبد خضریٰ کے سائے میں آپ کی ایک تصویر بھی دیکھی تھی جس کے بعد یقین سا ہو گیا تھا کہ یہ بندہ بھاگ کر کہیں نہیں جا سکے گا۔۔۔:) اب جب کہ آپ نے قافلہء سخت جاں میں نام لکھوا ہی لیا ہے تو میرے بھیا ، آنے والی منزلیں پہلے والی منزلوں سے زیادہ مشکل ہو سکتی ہیں۔ کہ جب گریڈ بڑھتے ہیں تو امتحان بھی مشکل تر ہوتے جاتے ہیں۔ کہ بقول شاعر
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔۔۔
لیکن پردیسی بھیا نے جو آپ کو اپنی کھوئی ہوئی گود واپس پا لینے کا مشورہ دیا ہے ، بہت ہی عمدہ ہے۔ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اللہ عزوجل سے لاڈ بھی نبوت سے زیادہ ان کی ماں کی دعاؤں کا مرہون منت تھا۔ اور وہ سہارا جو ایک انسان کی ضرورت ہوتا ہے آپ کو اس گود سے مل سکتا ہے۔۔۔
اللہ سے دعا ہے کہ اب آپ کو وہ کمال استقامت عطا فرمائے کہ بقول ساجد بھائی ہمارے بچے آپ سے دم کرواتے پھریں۔۔۔:)
سید ذیشان — مئی 5، 2013 3:02 شام
کافی دلچسپ دھاگہ ہے۔ ویسے اس کا نام " عسکری ان دا لائن آف فائر" ہونا چاہیے۔:p
عسکری — مئی 5، 2013 3:12 شام
کافی دلچسپ دھاگہ ہے۔ ویسے اس کا نام " عسکری ان دا لائن آف فائر ہونا چاہیے۔" :p
پچھلے والا ان دا لائن آف فائر ابھی تک پیشیاں بھگت رہا ہے ;)
عسکری — مئی 5، 2013 3:13 شام
فکر نہ کریں اس کی شادی ہونے دیں عسکری جوان ایسا سدھرے گا کہ ہم جیسے بھی اپنے بچوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لئے اس کے پاس دَم کروانے بھیجا کریں گے :)
ہاں اور ساتھ میں تعویز گنڈے دھاگے دم درود کا بزنس بھی چلا رہا ہو گا :p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88-%D9%88%D9%90%D8%AF-atheist.34116/page-17