شکریہ

اور ناخوش تو ہم پہلے بھی نہیں تھے
ہمیشہ خوش رہیئے یونہی آمینہم آپ کو برگِ حنا ہی پکار لیں گے تاکہ نام کے ساتھ ساتھ اصل بھی برقرار رہے

اور ابھی ہم اتنے ماہر تیراک کہاں کہ اتنی گہرائی میں اتر سکیں
ہاں اگر آپ کا ساتھ رہا تو آپ کی شاگردی میں کبھی ایسے بھی ہوجائیں گے کہ گہرائی میں جاکر
گوہر نایاب نکال لاسکیں
ہاہاہاہاہا ارے ارے ۔ ۔ ۔
ہم کہاں کے دانا تھے،کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا دشمن ظالم آسماں اپناپر صدمے میں کوئی اور برگ تو ہوسکتا ہے لیکن برگِ حنا اور صدمہ

اور برگ تو سوکھنے پر لوگوں کے پاؤں تلے آکر مسلے جاتے ہیں
لیکن برگِ حنا تو وہ ہے جو سوکھ کر اور نایاب ہوجاتا ہے
اور پھر اپنے آپ کو ملیامیٹ کردینے کے بعد بھی کسی کے ہاتھوں پر
خوب شان سے رچتا بستا ہے
یہی تو ساری بات ہے ناں جناب جو سمجھنے کی ہے
میں اسی لیے تو برگ کا لفظ ضروری خیال کرتی ہوں
برگِ حنا سے حنا بنتے بنتے اس پر کیا گزرتی ہے وہ شمشاد صاحب نے لکھ ڈالا ہے
ملا حظہ فرمائیے گا مراسلہ نمبر 38