ماشاء اللہ، اللہ تعالٰی ایسی اولاد ہر کسی کو دیں۔ اور ایسی امیاں بھی۔ میں اور باجی تو منتیں کر کرکے تھک گئے ہیں، مگر امی نہ تو لندن باجی کے پاس جانے کی حامی بھرتی ہیں، نہ میرے پاس فن لینڈ آنے کی۔ خیر، اپنی اپنی “امی“ کی بات ہے۔
قیصرانی
F@rzana — اپریل 25، 2006 3:28 شام
سب کی باجیاں امیاں ساسیں آتی رہیں۔۔۔آمین
رونق لگی رہے
اطلاعیں ملتی رہیں
بڑامزا آتا ہے،تصور میں ہم بھی سب سے مل رہے ہوتے ہیں
اطلاعاََ عرض ہے کہ میری چھوٹی بہن بھی پاکستان سے آئی ہوئی ہیں کل واپسی ہے اس لیئے کچھ اداس سی ہورہی ہوں ۔
قیصرانی — اپریل 25، 2006 4:18 شام
فرزانہ صاحبہ، یہ کیا؟خوامخواہ میںمجھے میری باجی یاد دلا دی اپنی بہن کا تذکرہ کرکے۔ مجھے اپنی باجی سے ملے 3 سال ہو رہے ہیں۔ابھی شاید جولائی میںوہ فن لینڈ آئیں یا پھر میںہی لندن کا چکر لگا آؤں۔دیکھیں، کیا ہوتا ہے۔
قیصرانی
F@rzana — اپریل 25، 2006 4:36 شام
میں نے نہیں اداس کیا بلکہ آپ لوگوں نے مجھے اداس کیا ہے “امیوں“ کا تذکرہ کر کے، میری امی اللہ میاں کے پاس اس وقت سے ہیں جب میں اکدم ننھی منھی چھوٹی سی گڈی تھی۔
قیصرانی — اپریل 25، 2006 4:59 شام
F@rzana نے کہا:
میں نے نہیں اداس کیا بلکہ آپ لوگوں نے مجھے اداس کیا ہے “امیوں“ کا تذکرہ کر کے، میری امی اللہ میاں کے پاس اس وقت سے ہیں جب میں اکدم ننھی منھی چھوٹی سی گڈی تھی۔
ارے، تو اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ رونے کو تو آپ کی امی بھی پسند نہیں کریں گی۔ اور وہ بہت اچھی جگہ ہیں۔ان کے سارے بزرگ وہاں ان کے ساتھ مزے میں ہونگے انشاء اللہ۔ہم سب ان کے لئے مزید درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں، اور ہاں سچ، آپ کے جاننے والے جن بچوں(جن کے بچوں کی نہیں، انسانی بچوں کی بات کر رہا ہوں) کی امیاں اللہ میاںکے پاس ہیں، ان کو اس نعمت عظیم کی کمی نہ محسوس ہونے دیں۔ جب آپ ایسا کریں گی تو مجھے یقین ہے کہ رات کو آپ کی امی جان اللہ میاںکی خصوصی اجازت سے آپ کو “پالی“ کرنے آئیں گی۔اپنے والد کے حوالے سے میں یہ تجربہ کر چکا ہوں۔
قیصرانی
F@rzana — اپریل 25، 2006 5:12 شام
Ah.....so sweet
اب پ نے اتنے پالے پالے انداز میں تسلی دی ہے کہ کیا لکھوں،
اداسی بھی بھاگ گئی اور ہنسی بھی آگئی،
مجھے پتہ ہے کہ اجازت نہیں لیکن پھر بھی “ شکریہ“
اللہ اپ کو خوش رکھے۔۔۔۔آمین
F@rzana — اپریل 25، 2006 5:14 شام
جن بچوں(جن کے بچوں کی نہیں، انسانی بچوں کی بات کر رہا ہوں)
جن کے بچے
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
کہیں آپ تو نہیں؟
قیصرانی — اپریل 25، 2006 5:24 شام
F@rzana نے کہا:
جن بچوں(جن کے بچوں کی نہیں، انسانی بچوں کی بات کر رہا ہوں)
جن کے بچے
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
کہیں آپ تو نہیں؟
ارے میں جن کا بچہ ہوں، ان سے پوچھیں جا کر، مجھے کیا پتا۔ اتنا چھوٹا سا تو تھا جب پیدا ہوا۔ اب کسی نے بدل بدول دیا ہو تو میرا کیا قصور۔ :x
قیصرانی
تیلے شاہ — اپریل 26، 2006 12:57 شام
قیصرانی نے کہا:
فرزانہ صاحبہ، یہ کیا؟خوامخواہ میںمجھے میری باجی یاد دلا دی اپنی بہن کا تذکرہ کرکے۔ مجھے اپنی باجی سے ملے 3 سال ہو رہے ہیں۔ابھی شاید جولائی میںوہ فن لینڈ آئیں یا پھر میںہی لندن کا چکر لگا آؤں۔دیکھیں، کیا ہوتا ہے۔
قیصرانی
اسی وجہ سے تو میں یہاں سے نہیں جا رہا ہوں
یہ امریکہ،کینیڈا،لنڈن سب جگہ کا یہن مسئلہ ہے
سعودیہ میں یہ مزا ہے جب دل کرے ٹکٹ لے اور یہ جا وہ جا
صرف 4 گھنٹے کی فلائیٹ ہے
قیصرانی — اپریل 26، 2006 1:56 شام
تیلے شاہ جی، عرض کیا ہے کہ ٹکٹ لینے اور گھر پہنچنے میں کافی فرق ہے۔ سعودیہ سے کراچی کا سفر چار گھنٹے، کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سڑک کا سفر15 گھنٹے ہے۔ اب مزید وضاحت آپ فرما دیں۔ اتنا مجھے علم ہے کہ کراچی سے دیرہ(جان کر دیرہ لکھا ہے) اسماعیل خان تک روزانہ ہوائی جہاز نہیں جاتا۔
قیصرانی
شمشاد — اپریل 26، 2006 2:13 شام
تو آپ سے کس نے کہا ہے کہ کراچی جائیں، سیدھے پشاور جائیں، وہاں سے تو 15 گھنٹے نہیں لگیں گے۔
قیصرانی — اپریل 26، 2006 2:53 شام
اچھا؟ جدہ پشاور روز جہاز چلتا ہے؟ وہاں سے بھی 4 گھنٹے کا سفر ہے آگے جناب جی۔
قیصرانی
تیلے شاہ — اپریل 26، 2006 2:58 شام
قیصرانی نے کہا:
تیلے شاہ جی، عرض کیا ہے کہ ٹکٹ لینے اور گھر پہنچنے میں کافی فرق ہے۔ سعودیہ سے کراچی کا سفر چار گھنٹے، کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سڑک کا سفر15 گھنٹے ہے۔ اب مزید وضاحت آپ فرما دیں۔ اتنا مجھے علم ہے کہ کراچی سے دیرہ(جان کر دیرہ لکھا ہے) اسماعیل خان تک روزانہ ہوائی جہاز نہیں جاتا۔
قیصرانی
واہ جناب، یہ وقار صاحب کون ہیں اور کیسے کھو گئے؟کیا بہت کم عمر ہیں؟یا گھر کا پتہ بھول گئے ہیں؟
شمشاد بھائی یہ پیغام میرے لئے ہی ہے۔
قیصرانی
شمشاد — اپریل 26، 2006 11:07 شام
پھر ٹھیک ہے، وہ کیا ہے کہ میں بھی بہت دنوں سے روزانہ ہی آتا ہوں تو میں سمجھا شاہ جی نے کہیں مجھے ہی نہ چپکا دی ہو۔
F@rzana — اپریل 28، 2006 12:53 صبح
لگتا ہے وقار صاحب ویسے ہیں ہیں جیسے “ ارشاد صاحب“ ہیں
ارے وہی جن کو شعر سنانے سے قبل شعراء پکارنا شروع کر دیتے ہیں، “قدر کھودے نہ کہیں روز کا آنا جانا“