عاجز کا تعارف

سید عمران — مارچ 12، 2019 7:59 صبح
لوجی مبارک ہو فلسفی جی ،
بھیا نے خود شکست کا اعتراف کر لیا ۔
:party::party::party:
خوش فہمی میں نہ رہیں۔۔۔
یہ ہم نے آپ کو بم سے اڑا یا ہے!!!
:p:p:p
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 12، 2019 8:01 صبح
خوش فہمی میں نہ رہیں۔۔۔
یہ ہم نے آپ کو بم سے اڑا یا ہے!!!
:p:p:p
اب آپ کچھ بھی کہتے رہیں ،
ہم نہیں مانے والے ۔
:nottalking: :nottalking: :nottalking:
فاخر — مارچ 12، 2019 8:31 صبح
آر ایس ایس والی گھر واپسی یاد کرا دی صاحب:)
رات میں میں نے یہ پیراگراف تبصرہ کرنا چاہا تھا؛لیکن کچھ سوچتے ہوئے اس سے گریز کیا تھا لیکن آنجناب کے تبصرہ پر سوچا اسے یہاں پیسٹ کردوں۔
’’گھرواپسی کی اصطلاح کا استعمال نہ کریں ؛کیوں کہ اس’گھر واپسی‘ اصطلاح کے پس منظر میں’ہندوستان میں ایک نئی سیاست چل پڑی ہے ، بی جے پی کی اعلیٰ تنظیم آر ایس ایس نے ’گھر واپسی‘ کے نام سے چار سال قبل ایک بزورِ قوت ’تحریک‘ چلائی تھی جس کا مقصد مسلمانوں کو ’ہندو‘ بنانا تھا ۔ یہ تحریک جلد ہی دن توڑگئی ،البتہ کئی غریب مسلمان اس کے جھانسے میں آگئے ۔ سوشل میڈیا میں ’گھرواپسی ‘ کے نام ایسے ایسے لطیفہ بننے لگے کہ اچھا خاصا خاموش انسان بھی ہنسنے پر مجبور ہوجائے ، پھر نام نہاد ’’لوجہاد ‘‘ کا شوشہ چھوڑا گیا اس میں کئی طرح کی باتیں آئیں پھر عوام پر یہ واضح ہوا کہ بی جے پی یا آر ایس ایس جس لوجہاد کا شوشہ چھوڑ رہی ہے اسی پارٹی کے لیڈران کی بیٹیاں ،بھتیجیاں اور نواسیاں مسلم نام کے لیڈران کی زوجہ ہیں مثلا مختار عباس نقوی اور سید شاہنواز حسین ۔ ابھی کچھ دن قبل لکھنؤ میں بی جے پی کے ایک قدآور لیڈر کی غالباً بھتیجی فیضان نامی مسلم لڑکے سے بیاہی گئی اور ستم تو یہ کہ اس تقریب میں بڑے بڑے شدت پسند ’’ائمۃ الکفر‘‘ لیڈران شریک ہوئے تھے ۔ ‘‘
فاخر — مارچ 12، 2019 8:53 صبح
ویسے بھی تقسیم کے دوران جو حالات تھے ان میں بہت کم ایسے ہوں گے جو اپنی مرضی سے اور اپنی مرضی کی جگہ پر بحفاظت پاکستان پہنچے ہوں۔
جی جی !!!وہ وقت ہی کچھ ایسا تھا کہ انسان کو خود کا ہی پتہ نہیں تھا۔اصل میں ہم میں کچھ غدار پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے آج بھی ہم فریب کے شکار ہیں۔ کئی طرح کی خلش ہے جس کا اظہار نہیں کرسکتا ،میں جب حصار ،پانی پت ، کرنال ،جالندھر ، امرتسر ،چنڈی گڑھ ،موہالی ،فیروز پور وغیرہ کی داستان پڑھتا ہوں اور وہاں کی موجودہ صورتحال دیکھتاہوں تو جگر چھلنی ہوجاتا ہے ۔ اللہ اللہ یہ وہی علاقہ ہے ،جہاں آج سے 70 سے 80 سال قبل اہل ایمان کی تنویر کی ضیا پاشی ہورہی تھی ؛لیکن اب وہاں ’’ائمۃ الکفر‘‘ کی ضلالت و تیرگی ہے ۔ مساجد اور اہل ایمان کی حویلیاں جاٹوں اور سکھوں کے جانور کی قیام گاہ بنی ہوئی ہے ۔ فیاحسرتا !! خوشی کی بات ہے کہ اب کچھ معتدل سکھ اہل ایمان کو مساجد لوٹا رہے ہیں ؛لیکن کچھ کم بخت اب بھی اس پر مالِ غنیمت سمجھ کراپنا تسلط جما رکھا ہے ۔ لیکن یہ ان کے لیے بھی عبرت ہے کہ جنہوں نے اللہ کے گھر کی بے حرمتی کی، اللہ نے اسے اور اس کے خاندان کو مرتے دم تک سکون نصیب نہین ہونے دیا ۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ : ’ایک سکھ بوڑھی جس نے مسجدکو اپنا گھر بنا رکھا تھا ،اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک سفید ریش بزرگ خواب میں آکر حکم دیتے ہیں کہ اگر دنیا میں سکون چاہتی ہو تو پھر یہ گھر جس میں تم رہتی ہو، یہ مسجد ہے اس کو کسی مسلمان کے حوالے کردو تمہاری تمام پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔اور طرہ یہ کہ بوڑھی کی پریشانی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی پھر ایک دن ایسا ہوا کہ وہ بوڑھی تنگ آکر اپنا مکان (مسجد) مزدورمسلمان جو اس کے علاقہ میں کسی دوسری جگہ سے آکر محنت مزدوری کرتے تھے، کے حوالے کردیا پھر ایسا ہوا کہ اس بوڑھی کی تمام پریشانیاں دور ہوتی چلی گئیں حتیٰ کہ اس کا کھویا ہوا بیٹا بھی واپس آگیا ۔ ’’عبرۃ لاولی الابصار ‘‘
ایک قربانی میں نے 47 میں دی اپنے ہی عزیزوں سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ۔ پھر دوسری قربانی 71 میں ڈھاکہ میں دی کہ اپنے ہی بے وفائی اور غداری کی وجہ سے اپنے ہی بھائی کے خون کے پیاسے ہوگئے ’’اللہم احفظنا منہم ‘‘۔اللہ ہمیں اور ہمارے قوم کے لیڈران کو عقل سلیم دے کہ اب ہمیں تیسری قربانی پیش نہ کرنی پڑی ۔ میں تمام جذبات سے بالاتر ہوکر کہتا ہوں کہ:’ اب ہم دوسری ہجرت اور تیسری قربانی پیش نہیں کرسکتے‘۔
فلسفی — مارچ 12، 2019 9:01 صبح
سکھوں نے ہندوؤں کے کہنے میں آکر جو کچھ بویا اس صلہ خود بھی پایا۔
اب ہم دوسری ہجرت اور تیسری قربانی پیش نہیں کرسکتے‘۔

حقیقت میں ہم اس قابل ہی نہیں۔ ہمارے بڑوں میں پھر بھی ہمت، حوصلہ، دور اندیشی اور باہمی محبت اور ایثار کے جذبے قائم تھے۔ مادیت پرستی کی وہ شدت نہیں تھی جو اب ہمارے رویوں میں ہے۔ اللہ پاک ہمیں کسی بھی آزمائش سے محفوظ رکھے ۔۔۔ ہم اس قابل ہی نہیں۔ اللہ تعالی اپنا فضل قائم رکھے اور ہرشخص کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے۔ آمین
فاخر — مارچ 12، 2019 10:22 صبح
کھوں نے ہندوؤں کے کہنے میں آکر جو کچھ بویا اس صلہ خود بھی پایا۔
’من عمل صالحا فلنفسہ و من اساء فعلیہا‘ یہ تو مسلمہ حقیقت ہے ۔ :):)
ہادیہ — مارچ 12، 2019 10:25 صبح
ارے بھیا! آپ کو اپنا جان کر آپ سے ہنسی مذاق کر لیتے ہیں۔ خدا آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ آمین! بس گھبرانا نہیں ہے ۔۔۔! :)
آمین ثم آمین۔۔۔
ہادیہ — مارچ 12، 2019 10:27 صبح
ہمیں تو اس دعا کے پیچھے آپ کی کارستانی نظر آوے ہے ۔
شاباش۔۔۔۔ یہی امید تھی۔۔۔:p
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 12، 2019 10:31 صبح
حوصلہ افزائی کا شکریہ گڑیا ۔:D
۔۔۔۔ یہی امید تھی۔۔۔:p
ہم نا پہلے کسی کی امید پر پورا اترے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔:LOL:
ہادیہ — مارچ 12، 2019 10:34 صبح
پنو عاقل کے برابر والے شہر کا نام ہے بہنا،:p
ہاہاہا۔۔۔ اور عدنان بھائی وہاں رہائش پذیر ہیں۔۔:p
ہمیں نہیں رہنا اس لڑی میں فلسفی جی ،
اس لیے ہم اب یہاں نا کسی سے بولیں گے اور نہ ہی ہمیں کوئی بلائے ۔:nerd:
ہیں۔۔۔۔ آپ غصہ کرگئے۔۔۔؟:eek:
سید عمران — مارچ 12، 2019 10:39 صبح
ہم نا پہلے کسی کی امید پر پورا اترے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔:LOL:
نہ آپ امید پر پورا اترتے ہیں نہ عہد و پیماں پر۔۔۔
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!!!
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 12، 2019 10:45 صبح
ہاہاہا۔۔۔ اور عدنان بھائی وہاں رہائش پذیر ہیں۔۔:p
ہیں۔۔۔۔ آپ غصہ کرگئے۔۔۔؟:eek:
ارے نہیں بہنا وہ تو ہم ذرا بچوں کو ڈرا رہے تھے ۔:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 12، 2019 10:46 صبح
نہ آپ امید پر پورا اترتے ہیں نہ عہد و پیماں پر۔۔۔
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!!!
زیادہ ذہن پر زور مت دیں بھیا ایسا نہ ہو کے ساری یاداشت ڈیلیٹ ہو جائے ۔
محمداحمد — مارچ 12، 2019 10:47 صبح
واہ جی واہ!
ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ہم عظیم الدین صاحب سے کبھی بے تکلف نہیں ہوئے۔ شاید ڈی پی میں لگی بارعب تصویر کی وجہ سے۔ :)
لیکن فلسفی صاحب سے بے جا فلسفے کے خوف کے باوجود کافی بے تکلف گفتگو رہی۔
شروع شروع میں جب بھی آپ کی ڈی پی یا نام دیکھتا تو بے اختیار ذہن میں یہ شعر آ جاتا:
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
لیکن جناب کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ یہ وہ والے فلسفی نہیں ہیں۔ :p:D
بہرکیف خوش آمدید! :flower:
اور شکریہ کہ آپ نے ہمارے "اُکسانے" پر یہ مشکل کام کر دکھایا۔ :)
محمداحمد — مارچ 12، 2019 10:48 صبح
ویسے یہ آٹھ صفحات میں باتیں کیا ہوئی ہیں؟
ہم تو بس دو تین ہی پڑھ پائے۔ :)
محمد وارث — مارچ 12، 2019 10:52 صبح
ویسے یہ آٹھ صفحات میں باتیں کیا ہوئی ہیں؟
ہم تو بس دو تین ہی پڑھ پائے۔ :)
ہمت کر کے باقی کے چھ سات صفحات پڑھ بھی لیتے تو پھر بھی شاید یہی سوال پوچھتے! :)
محمداحمد — مارچ 12، 2019 10:56 صبح
ہمت کر کے باقی کے چھ سات صفحات پڑھ بھی لیتے تو پھر بھی شاید یہی سوال پوچھتے! :)

ہاہاہاہا!
بالکل دو تین صفحات میں جب کچھ پتہ نہیں چلا تو سوچا کسی سے پوچھ ہی لیں۔ :)
سید عمران — مارچ 12، 2019 11:04 صبح
ایسا نہ ہو کے ساری یاداشت ڈیلیٹ ہو جائے۔
ایسا صرف آپ کے ساتھ ہوتا ہے!!!
فلسفی — مارچ 12، 2019 11:05 صبح
:eek: سچی؟
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
واہ
لیکن جناب کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ یہ وہ والے فلسفی نہیں ہیں۔ :p:D
آداب
بہرکیف خوش آمدید! :flower:
اور شکریہ کہ آپ نے ہمارے "اُکسانے" پر یہ مشکل کام کر دکھایا۔ :)
آپ سب حضرات کی محبت ہے۔ اللہ پاک آپ سب کو دنیا و آخرت میں شاد رکھے۔ آمین
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 12، 2019 11:08 صبح
ویسے یہ آٹھ صفحات میں باتیں کیا ہوئی ہیں؟
ہم تو بس دو تین ہی پڑھ پائے۔ :)
بڑی تکلیف دہ داستان ہے احمد بھائی بنا کسی سب ٹائٹل کے
مت پڑھیں تو اچھا ہے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%A7%D8%AC%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81.105914/page-8