ہاہاہا
استعمال
ہاہاہا
بر سریر دل شاہم شوکت گدا ایں است
اندازہ تھا لیکن پھر سوچا کیا معلوم اپنا کوئی جھگڑا یاد آ گیا ہو عامر بھیا کو۔۔ اور اسی روانی میں وہ زبان استعمال کر گئے۔
ہم اہل دل جھگڑوں کو یاد نہیں کرتے بلکہ دفنا دیا کرتے ہیں۔ نئے شروع کرنے کے لیے
ساری محفل چھان مارئیے۔۔۔ کوئی نہ کوئی کونہ مل جائے گا۔
اور وہ جو پچھلے کسی مراسلے میں دل جل جانے کا جو ذکر تھا۔۔۔
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا ۔۔۔
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟
شکر کچھ تو سیکھا!!!
ایسے کیسےرخصت ہو بھئی...
اور چھوٹے چھوٹے؟؟؟
اس لفظ سے تو ہم بھی ناواقف ہیں...
انڈونیشین بھاشا بھی انہیں جانتی ہے...
انہیں کھانے پینے میں صرف چائے پسند ہے...
ان کا خدا وارث!!!
اسی ڈر کے مارے ہم صرف گوبھی کے پھول کی مدح کرتے ہیں!!!
بس اب ہو ہی جائے کسی طرح!!!
اب آپ پر فرض واجب ہے کہ انہیں سو بار آپا چنبیلی کہہ کر بلائیں...