تو پھر آفس کے دروازوں کی خیر نہیں۔
تو پھر آفس کے دروازوں کی خیر نہیں۔
بہت بہت شکریہ تفصیلی جواب دینے کا


منحصر ہے کہ وہ اختلافی "چیز" یا بات کیا ہے۔
مذکورہ تحریر اور اس پر میرے تبصرے Sarcasm پر مشتمل ہیں۔ اور میرے خیال سے موضوع اور سیاق و سباق کے لحاظ سے برمحل تبصرے تھے۔ ان تبصروں اور تحاریر کو کسی بھی حد تک سنجیدہ کر لیا جائے ، مخالف کے لئے وہ آراء پھر بھی ناقابل قبول رہیں گی۔ تحریر اور تبصرہ کا ایک اہم ترین مقصد اپنا اظہار رائے ہے نہ کہ دوسرے کو ہر صورت قائل کرنا۔
میرے نزدیک وہ تبصرے "تضحیک" پر مشتمل نہیں۔ طنز ومزاح کی آڑ میں مظبوط اور انتہائی سنجیدہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ پھر جس قسم کی عوام الناس بلاگستان میں موجود ہے اس کی اکثریت سنجیدہ نہیں ، بلکہ طنز و مزاح پر مبنی چوٹ ہی سمجھتی ہے۔
لوگ نزدیک بھی ہونگے ، دور بھی۔ آپ کو تو اپنا اظہار رائے کرنا ہے جس حد تک آپ مناسب سمجھیں۔ پھر آپ ہر وقت ہر شخص کو خوش بھی کیسے رکھ سکتے ہیں۔ کیا یہاں محفل میں سب لوگ میرے قریب ہیں ؟ پسند نا پسند کرنے والے ، سب ہی موجود ہیں اور رہیں گے جب تک آپ اپنی اظہار رائے کرتے رہیں گے۔
ابھی تک تو نہیں لگ رہا۔ اب تمہارے یاد دلانے پر کچھ کچھ لگ رہا ہے۔
اچھا بھیا کس بات پر لگ رہا ہے ڈر ؟
پتا نہیں ، بس ڈر لگ رہا ہے۔

بہت اچھا! بس جب انٹرویو ختم ہوگا تو سب کو آٹو گراف بھی دوں گا۔

ہی ہی ہی
تمہارا آرڈر پہلے سے بک ہے۔ سب سے پہلے تمہیں ہی تو ملے گا۔
؟)سیاست سے اتنی دلچسپی ہے کہ ووٹ دیتے وقت معلوم ہو کہ کس کو کیوں ووٹ دینا ہے۔
بلاگ خود کلامی جس ویب ہوسٹنگ پر ہے وہ عرصہ دراز سے مسائل کا شکار ہے۔ ویسے بھی میرا بلاگ ریٹائرڈ ہوچکا ہے۔ خود میں اب اپنے بلاگ پر لاگ ان ہونے سے قاصر ہوں۔ تکنیکی مسائل کے باعث نئے تبصرے اب وہاں شائع ہونا ممکن نہیں۔
درست فرمایا کہ منحصر ہے کہ وہ اختلافی "چیز" یا بات کیا ہے

پوچھیئے جناب ، جو چاہے پوچھیئے۔ یہ دھاگہ اسی مقصد کے لئے ہے۔
کیوں نہیں۔ عقائد پر طنز مزاح کیوں مناسب نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک حد میں رہنے کا اصرار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ حد بھی کون متعین کرے گا ؟
تضحیک میں تضحیک کرنے والے مقصد ماسوائے ٹھٹھہ اڑانے اور مزا لینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔
منحصر ہے کہ کس عمل کو عبادت کا نام دیا جا رہا ہے۔ کیا آپ کو قبر پرستی پر طنز کرنا ناقابل قبول ہوگا ؟ قبر پرست کا رویہ آپ کے طنز پر کیا ہوگا ؟
مذہب پر تنقید کرنے والے اور مذہبی دہشت گردی کی حمایت اور پشت پناہی کرنے والے ایک برابر نہیں ہیں۔ دونوں کے اعمال کے معاشرے پر اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
نظریہ کی توہین کا کوئی عالمی معیار موجود نہیں۔ نظریہ اور فکر پہ تنقید فرد اپنی صوابدید یا گردوپیش سے متاثر ہو کر ہی کرتا ہے۔
کچھ خاص نہیں۔
ہمم
جی نہیں ، نفلی عبادات کا مخصوص اہتمام نہ کرنے کا کوئی خاص نظریہ نہیں ہے۔