السلام علیکم ملائکہ
پتا ہے کہ کل میں نے تمہارا یہ آنسر پڑھا۔۔ اور میں اس کا جواب بھی لکھنا چاہ رہی تھی لیکن وقت اتنا نہیں تھا کہ موبائل سے اتنا لمبا ٹائپ کر پاتی۔۔ اس لیے آج پر چھوڑ دیا تھا۔۔
ایک بات بتاؤں۔۔۔ مجھے یاد ہے جب میرا انٹرویو شمشاد بھیا نے کیا تھا اور یہی سوال مجھ سے پوچھا تھا۔۔ کہ شادی کب کرنے کا ارادہ ہے۔۔ تب میں نے بنا سوچے سمجھے کہہ دیا۔ ابھی نہیں۔۔۔ دو تین سال بعد۔۔۔ میں نے بات دو تین سال بعد کرنے کو کہی تھی یہ کون جانتا تھا کہ کچھ مہینوں تک ہی میری شادی ہو جائے گی۔۔۔ ۔
میری سوچ بھی کچھ ایسی تھی کہ ابھی میں لائف کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں۔۔ شادی کرنے کے بعد نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ مجھ پر ریسٹرکشنز ہو ں گی۔۔میں اپنی پسند کی جاب بھی شاید نہ کر پاؤں۔۔ اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی۔۔ شاید وہ بھی نہ کر پاؤں۔۔۔ لیکن یہ ہماری سوچ ہوتی ہے۔۔ کون جانتا ہے کہ رب نے ہمارے لیےکیا کیا پلان کر رکھا ہوتا ہے۔۔۔
میں کچھ ہی مہینے بعد اپنے بابا کی خواہش پر شادی کے لیے ہاں کر بیٹھی۔۔۔ اور یقین جانو۔۔ میری زندگی کا سب سے وائز ڈیسیژن شاید یہی تھا۔۔۔ ایک اچھا لائف پارٹنر ملنا واقعی خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ شادی کے بعد زیادہ کمپرومائز ایک عورت کو کرنا پڑتا ہے۔۔ اس کو بھی اگر ہم پوزیٹیو ویو سے دیکھیں تو شاید یہ بات عورت کے حق میں ہی جاتی ہے کہ اللہ میاں نے عورت کو اتنا اسٹرانگ بنایا ہے کہ وہ مختلف سچوئیشنز کو ڈیل کر سکتی ہے۔۔
ہاں یہ بھی صحیح ہے کہ شادی کے بعد شوہر، ساس سب کی توقعات ہوتی ہیں لڑکیوں سے۔۔۔ وہ بھی اس لیے کہ لڑکی جب ایک نئی فیملی میں جاتی ہے تو اس کو ہی ان کے مطابق خود کو بدلنا پڑتا ہے۔۔ کیونکہ ایک پورا خاندان اپنے آپ کو اس کے مطابق بدلنےسے تو رہا ناں۔۔۔ لیکن اس سے ہم اپنی شناخت ہر گز نہیں کھوتے بلکہ اس کو اور اسٹرانگ بناتے ہیں۔۔۔
ایک اور بات ۔۔ جو میری ساس نے مجھے شادی کے شروع کے دن میں کہی تھی۔۔ وہ یہ کہ شوہر سے ہر کام کی اجازت لینا۔۔ یا اس کے ساتھ مل کر کوئی فیصلہ لینا۔۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ تم اس کی متحاج ہوں۔۔۔ یا تمہیں ہر کام کے لیے اس کی طرف دیکھنا ہو گا۔۔۔ ۔ اس سے یہ ہوگا کہ شوہر میں احساس ذمہ داری رہتا ہے۔۔۔ کہ میری بیوی میری ذمہ داری ہے اور مجھے ہر کام میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔۔۔ یہ بہت کام کی بات بتائی تھی انہوں نے مجھے اور میرے بہت کام آئی۔۔۔
اپنے والدین سے زیادہ واقعی میں کوئی آپ کی ڈھال نہیں بنتا۔۔۔ لیکن آپ کا شوہر ۔۔ بلیومی سارے زمانے سے آپ کےلیے لڑ پڑے گا۔۔۔ ۔ اگر آپ اس کا ساتھ دو تو۔۔ کیونکہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور اللہ میاں کبھی کسی کا نیک عمل ضائع نہیں کرتے بلکہ اس کا اجر ہماری سوچ سے بڑھ کر دیتے ہیں۔۔
میری دعا ہے کہ تم زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیو۔۔۔ اپنی فیملی کے ساتھ۔۔