شمشاد — جنوری 19، 2013 5:35 شام
دو انگلیوں کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی، کوئی ایسی پہچان رکھ لیتے جو ایک ہی انگلی سے ٹائپ ہو جاتی۔
اوشو — جنوری 19، 2013 5:36 شام
ایک سے بھلے دو

شمشاد — جنوری 19، 2013 5:37 شام
دو سے بھلے چار
کیا خیال ہے؟
اوشو — جنوری 19، 2013 5:51 شام
میں نے تو اپنی انگلیوں کی بات کی تھی اب باقی جس کی مرضی چاہے ایک سے لکھے یا چار سے

الف عین — جنوری 20، 2013 6:27 صبح
خوش آمدید اوشو۔ تعجب ہوا کہ ملک بلال نام کا کوئی شخص بھی اوشو کا دیوانہ ہو سکتا ہے!!!
لالہ رخ — جنوری 20، 2013 6:45 صبح
خوش آمدید
محمداحمد — جنوری 20، 2013 7:17 صبح
خوش آمدید
اوشو — جنوری 20، 2013 5:49 شام
خوش آمدید اوشو۔ تعجب ہوا کہ ملک بلال نام کا کوئی شخص بھی اوشو کا دیوانہ ہو سکتا ہے!!!
یا حیرت۔۔!!!!
خیر، شکریہ صد واجب الاحترام الف عین جی

شکریہ حوا کی بیٹی

شکریہ محمد احمد جی

تانیہ — جنوری 20، 2013 7:37 شام
شمشاد بھائی مقصد یہ تھا کہ جب ملبوسات تیار ہوتے ہیں تو ان کے فوٹو شوٹس وغیرہ بھی ہوتے ہیں اور اکثر ایسی تصاویر دیکھ کر "کچھ" لوگ اعتراض کرتے ہیں۔آپ سمجھ گئے ہوں گے۔
خوش آمدید اوشو جی
آپکا مختصر تعارف ٹھیک ہی لگا ۔۔۔ہاہا
ملبوسات کے نمونے
لگائیے تو سہیمیں بھی دیکھتی ہوں
اوشو — جنوری 20، 2013 7:51 شام
آپ کی کمی باقی تھی،
آپ کا بھی شکریہ
خوش آمدید اوشو جی
آپکا مختصر تعارف ٹھیک ہی لگا ۔۔۔ ہاہا
ملبوسات کے نمونے لگائیے تو سہی
میں بھی دیکھتی ہوں
آپ کی کمی باقی تھی۔

سرخ رنگ کی دونوں باتیں کچھ تذبذب میں ڈال رہی ہیں۔
خیر
آپ کا بھی
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
شکریہ

حماد — جنوری 20، 2013 8:19 شام
اوشو کی اردو ترجمہ شدہ کتابیں پاکستان میں ہر اچھے بک اسٹور سے مناسب دام میں دستیاب ہیں۔ فیس بک پر کافی پاکستانیوں کو اوشو کی تعلیم سے متاثر پایا ہے۔
امجد میانداد — جنوری 20، 2013 8:25 شام
فوٹو شوٹس پر کیوں اعتراض کرتے ہیں بھائی۔
واہ، اِتا بھولا پن۔ کبھی ریمپ پہ واک دیکھیں۔ اور کسی فیشن میگزین کو ہی اٹھا کر دیکھ لیں۔ جن لوگوں کی اوشو بھائی بات کر رہے ہیں وہ تو ابھی تک "اخبارِجہاں" اور "میگ" کے ساتھ ہی الجھ رہے ہیں۔
حماد — جنوری 20، 2013 8:26 شام
کچھ دوسرے مذاہب کی تعلیمات کے برعکس اوشو کی تعلیمات سے متاثر لوگ صرف محبت کی بات کرتے ہیں۔

فرخ منظور — جنوری 20، 2013 8:44 شام
خوش آمدید ملک بلال صاحب!
اوشو — جنوری 20، 2013 8:49 شام
واہ، اِتا بھولا پن۔ کبھی ریمپ پہ واک دیکھیں۔ اور کسی فیشن میگزین کو ہی اٹھا کر دیکھ لیں۔ جن لوگوں کی اوشو بھائی بات کر رہے ہیں وہ تو ابھی تک "اخبارِجہاں" اور "میگ" کے ساتھ ہی الجھ رہے ہیں۔
درست فرمایا امجد میانداد جی!
اوشو — جنوری 20، 2013 8:51 شام
شکریہ
فرخ منظور جی !

میرا کام مکمل ہو گیا

چیک کر لیجیے گا۔
فرخ منظور — جنوری 20، 2013 8:54 شام
شکریہ
فرخ منظور جی !

میرا کام مکمل ہو گیا

چیک کر لیجیے گا۔
جی، اس کے لیے بہت شکریہ! میں وہی دیکھ رہا تھا۔

پردیسی — جنوری 20، 2013 9:07 شام
خوش آمدید عزت مآب محترم ملک بلال صاحب
یہ اتنے بڑے بڑے القاب سے آپ کو اس لئے نواز ہے کہ آپ فیشن ڈیزائنر ہیں۔۔۔ وہ بھی لڑکیوں کے۔۔۔۔

مقدس — جنوری 20، 2013 9:10 شام
واہ، اِتا بھولا پن۔ کبھی ریمپ پہ واک دیکھیں۔ اور کسی فیشن میگزین کو ہی اٹھا کر دیکھ لیں۔ جن لوگوں کی اوشو بھائی بات کر رہے ہیں وہ تو ابھی تک "اخبارِجہاں" اور "میگ" کے ساتھ ہی الجھ رہے ہیں۔
اس کو پرمزاح اس لیے کیا کہ کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔کہ اخبار جہاں اور میگ کا آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ویسے پرسنلی مجھے تو کوئی اعتراض نہیں کہ اگر یہ اپنے ڈیزائنز ماڈلز کے ساتھ یہاں دکھائیں ایز لانگ ایز ان محفل کے اصول کے مطابق ان میں کوئی نیوڈٹی نہ ہو۔۔
اوشو — جنوری 21، 2013 12:06 صبح
خوش آمدید عزت مآب محترم ملک بلال صاحب
یہ اتنے بڑے بڑے القاب سے آپ کو اس لئے نواز ہے کہ آپ فیشن ڈیزائنر ہیں۔۔۔ وہ بھی لڑکیوں کے۔۔۔ ۔
بھئی آپ پٹوائیں گئے۔ "فیشن ڈیزائنر ہوں ۔۔۔ وہ بھی لڑکیوں "کے
ملبوسات"کا ۔۔۔۔

ملبوسات کا لفظ شامل کریں اپنی تبصرہ میں۔