میرا تعارف

عبداللہ محمد — اپریل 18، 2016 10:42 شام
حضرت عمر سے متعلق ایک روایت ہے کہ جب فارس فتح ہوا تو مسلم فوج کے سربراہ نے خط لکھ کر دریافت فرمایا کہ یہاں موجود کتب و کتب خانوں کا کیا جائے۔ اسپر حضرت عمر نے جواب بھیجا کہ اگر انکی کتب قرآن کے متصادم ہیں تو انہیں ضائع کر دیا جائے اور اگر متصادم نہیں تو ہمیں انکی ضرورت نہیں۔
آج ۱۴۰۰ سال بعد الباکستانی اس روایت پر پختگی سے عمل کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے علاوہ اور کوئی کتاب نہ زیادہ تعداد میں چھپتی ہے نہ بکتی ہے۔ اسٹینڈرڈ تدریس کی کتب بھی مجبوراً چھاپتے ہیں کہ انکو پڑھے بغیر پاس کیسے ہوں گے۔
اس روایت کا حوالہ است؟؟
زیک — اپریل 18، 2016 10:45 شام
لائبریریوں کے حال کچھ یوں ہے کہ ا پنے قصبے کی لائبریر ی گیا،پہلے تو مجھے معلوم ہی کچھ ماہ پہلے ہوا کہ قصبے میں لائبریری ہے اب جو وہاں گیا تو وہاں کتابوں سے زیادہ تعداد عملے کی تھی۔ جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں زیادہ تر پنجاب ٹیکسٹ بک تھیں۔ اب جو ان سے پوچھا لائبریری کا یہ حال تو کہنے لگے "پاء فنڈ نہیں ملدے" میں نے پوچھا "تنخواہ ملدی اے" کہتے "آہو" میں نے دل میں ہی کہا "چلو کھائی جاؤ" اسکے علاوہ ضلع (شیخوپورہ ) میں بھی کوئی خاص لائبریری نہیں۔
http://www.urduweb.org/mehfil/threa...یا-بھر-میں-کتب-خانے.76239/page-2#post-1588034
زیک — اپریل 18، 2016 10:46 شام
یہ "گیلے کمبلوں" کا راز بھی افشاء ہو ہی جائے
http://www.merriam-webster.com/dictionary/wet blanket
عبداللہ محمد — اپریل 18، 2016 10:54 شام
بقول شخصے
دل کے جلانے کو مراسلہ اچھا ہے۔
:rolleyes:
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:55 شام
اس روایت کا حوالہ است؟؟
https://en.m.wikipedia.org/wiki/List_of_book-burning_incidents
عبداللہ محمد — اپریل 18، 2016 11:01 شام

یہ توکوئی معتبر حوالہ نہ ہوا۔دوسرا اسی حوالے میں اسکی نفی بھی موجود ہے۔
arifkarim — اپریل 18، 2016 11:13 شام
یہ توکوئی معتبر حوالہ نہ ہوا۔دوسرا اسی حوالے میں اسکی نفی بھی موجود ہے۔
میں نے بھی صرف ایک روایت کا ہی ذکر کیا تھا۔ حوالہ معتبر ہے یعنی تاریخی ہے۔ اصل واقعہ میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
محمد وارث — اپریل 19، 2016 3:57 صبح
لائبریری میں ڈیٹنگ کا بھی اپنا ہی مزہ ہو گا۔
خاک مزہ ہوتا ہے :(۔
میں چونکہ کالج کے زمانے میں اپنا زیادہ تر وقت سیالکوٹ کی دو پبلک لائبرریوں میں گزارتا تھا سو کئی دفعہ "جوڑے" دیکھے۔ استغفراللہ، استغفراللہ، خاک مزہ ہوتا ہے دیکھنے میں :)
محمد وارث — اپریل 19، 2016 3:59 صبح
خوش آمدید حامد صاحب۔
زیک — اپریل 19، 2016 4:03 صبح
خاک مزہ ہوتا ہے :(۔
میں چونکہ کالج کے زمانے میں اپنا زیادہ تر وقت سیالکوٹ کی دو پبلک لائبرریوں میں گزارتا تھا سو کئی دفعہ "جوڑے" دیکھے۔ استغفراللہ، استغفراللہ، خاک مزہ ہوتا ہے دیکھنے میں :)
دیکھنے میں تو واقعی کوئی مزہ نہیں!
محمد تابش صدیقی — اپریل 19، 2016 5:21 صبح
اردو محفل فورم پر خوش آمدید.
حامد محمود — اپریل 19، 2016 2:09 شام
اگر آپ سنجیدہ ہیں تو اپنے مضامین محفل پر پوسٹ کریں۔ محفلین اس پر رائے دیں گے جس سے بہتری کی تراکیب ملیں گی۔
مضمون تو تب لکھوں نا جب طریقہ معلوم ہو ۔ اِس لیے تو پوچھ رہا ہوں کہ مضمون لکھنے کی کیا ترکیب ہے؟
حامد محمود — اپریل 19، 2016 2:11 شام
حامد کے صبح پانچ بجنے والے ہوں گے تو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کا یہی بہترین وقت ہوتا ہے۔
آپ کو کیسے معلوم ؟ آپ بھی کاٹتے رہے ہیں کیا؟
زیک — اپریل 19، 2016 8:25 شام
آپ کو کیسے معلوم ؟ آپ بھی کاٹتے رہے ہیں کیا؟
نہیں۔ میں ٹری ہگر ہوں
گلزار خان — اپریل 19، 2016 8:34 شام
خوش آمدید
یاز — اپریل 19، 2016 8:38 شام
نہیں۔ میں ٹری ہگر ہوں

اسی سے مزید حماقتیں از شفیق الرحمٰن کا ایک جملہ یاد آیا۔ لکھتے ہیں
"ہمارے ہاں درخت کا صحیح مصرف اس کو کاٹ ڈالنا ہے۔ ہم نے گاؤں میں بچوں کو چھوٹی چھوٹی کلہاڑیاں لئے تفریحاً درخت کاٹتے بھی دیکھا ہے۔"
راحیل فاروق — اپریل 19، 2016 11:29 شام
خوش آمدید، حامد بھائی۔
کیوں کہ ہم یہاں جنگل میں غیر قانونی طریقے سے اپنے مامو کے ساتھ رہتے ہیں۔ صرف جنگل میں ہی گھومتے پھرتے ہیں۔ کسی شہر یا گائوں کی طرف بہت مدت ہو گئی ہے کبھی نہیں گئے۔
پیارے بھائی، ایسی باتیں انٹرنیٹ پر کھلے عام نہیں کرتے۔ آپ کو شاید اندازہ نہیں کہ اگر یہ عبارت آپ کا کوئی بدخواہ پڑھ لے تو حکومت کو آپ کی گردن دبوچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ منتظمین سے رابطہ کر کے اپنی پرائیویسی کے لیے ضروری اقدامات جلد از جلد کر لیں۔ جو ہو چکا اس کی تلافی شاید ابھی ممکن ہے اور جو نہیں ہوا اس سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ میری خواہش ہو گی کہ برادران نبیل ، ابن سعید اور محمد وارث مناسب سمجھیں تو توجہ فرمائیں۔
عبداللہ امانت محمدی — اپریل 20، 2016 1:30 صبح
وعلیکم السلام حامد محمود صاحب
خوش آمدید!
حامد محمود — اپریل 20، 2016 7:22 صبح
خوش آمدید، حامد بھائی۔
پیارے بھائی، ایسی باتیں انٹرنیٹ پر کھلے عام نہیں کرتے۔ آپ کو شاید اندازہ نہیں کہ اگر یہ عبارت آپ کا کوئی بدخواہ پڑھ لے تو حکومت کو آپ کی گردن دبوچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ منتظمین سے رابطہ کر کے اپنی پرائیویسی کے لیے ضروری اقدامات جلد از جلد کر لیں۔ جو ہو چکا اس کی تلافی شاید ابھی ممکن ہے اور جو نہیں ہوا اس سے گریز کیا جا سکتا ہے۔ میری خواہش ہو گی کہ برادران نبیل ، ابن سعید اور محمد وارث مناسب سمجھیں تو توجہ فرمائیں۔
شکریہ
فلپینی حکومت کو ہم سے زیادہ کسی اور کا مسلہ ہے اِس لیے فلحال ابھی ایسی کو حظرے والی بات نہیں ہے۔
حامد محمود — اپریل 20، 2016 7:23 صبح
تمام حضرات کا بہت بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81.89427/page-4