میرا تعارف

زیک — اپریل 18، 2016 9:07 شام
یہاں پر کوئی ایسے حضرت موجود ہے جو اچھے مضامین لکھنے کے لیے ترکیبیں بتاتے ہوں؟
اگر آپ سنجیدہ ہیں تو اپنے مضامین محفل پر پوسٹ کریں۔ محفلین اس پر رائے دیں گے جس سے بہتری کی تراکیب ملیں گی۔
دل دل پاکستان — اپریل 18، 2016 9:08 شام
میری دو خواہشیں ہیں۔
کونسیں؟
زیک — اپریل 18، 2016 9:11 شام
لیکن دیکھیں تو یہ ریفرنس بھی کسی حد تک معدوم ہو چکا ہے۔ آجکل سپر ہیرو، مارول کامکس کے کرداروں کے نام تو سب کو آتے ہوں گے۔ ہر سال ان کی ایک دو فلمیں بھی ریلیز ہو جاتی ہیں۔ لیکن ٹارزن کی مشہور فلم آئے عرصہ ہی ہو گیا ہو گا۔ اور اگرچہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا، تاہم اندازہ ہے کہ بچوں کے کارٹون وغیرہ میں بھی اس کے پروگرام شاذونادر ہی آتے ہوں گے۔
http://www.imdb.com/title/tt0918940/?ref_=nv_sr_1
یاز — اپریل 18، 2016 9:15 شام
یہ تو ابھی آنی ہے۔ امید ہے کہ اس کے بعد اس بابت صورتحال کچھ بہتر ہو گی۔
اور ساتھ ہی امید ہے کہ میں جو موقف پیش کرنا چاہ رہا تھا، وہ کچھ نہ کچھ سمجھا پایا ہوں۔
یوسف سلطان — اپریل 18، 2016 9:28 شام
وعلیکم سلام
خوش آمدید
زیک — اپریل 18، 2016 9:36 شام
یہ تو ابھی آنی ہے۔ امید ہے کہ اس کے بعد اس بابت صورتحال کچھ بہتر ہو گی۔
اور ساتھ ہی امید ہے کہ میں جو موقف پیش کرنا چاہ رہا تھا، وہ کچھ نہ کچھ سمجھا پایا ہوں۔
آپ کا موقف سمجھ گیا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آیا کہ یہاں اپنے ارد گرد ایسا مسئلہ نظر نہیں آیا اس لئے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہاں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
یاز — اپریل 18، 2016 9:42 شام
آپ کا موقف سمجھ گیا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آیا کہ یہاں اپنے ارد گرد ایسا مسئلہ نظر نہیں آیا اس لئے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہاں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

زیک بھائی! میں بھی صرف ہمارے یہاں کا معاملہ بیان کر رہا ہوں۔ باقی دنیا میں تو جتنا میں نے دیکھا، تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں کتاب نظر آتی ہے (یا اب کِنڈل وغیرہ)۔ یہاں تو اخبار خرید کے پڑھنے والے بھی کم کم ہیں۔ کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 کی تعداد میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
یاز — اپریل 18، 2016 9:50 شام
ویسے ابھی خیال آیا کہ ایسی خشک، بنجر اور ثقیل گفت و شنید دیکھ کے صاحبِ لڑی نے بھاگ لینے میں عافیت جانی ہے شاید۔
:D:D
زیک — اپریل 18، 2016 9:56 شام
ویسے ابھی خیال آیا کہ ایسی خشک، بنجر اور ثقیل گفت و شنید دیکھ کے صاحبِ لڑی نے بھاگ لینے میں عافیت جانی ہے شاید۔
:D:D
حامد کے صبح پانچ بجنے والے ہوں گے تو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کا یہی بہترین وقت ہوتا ہے۔
زیک — اپریل 18، 2016 9:58 شام
کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم وغیرہ بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
لائبریری میں ڈیٹنگ کا بھی اپنا ہی مزہ ہو گا۔
یاز — اپریل 18، 2016 10:06 شام
حامد کے صبح پانچ بجنے والے ہوں گے تو جنگل میں لکڑیاں کاٹنے کا یہی بہترین وقت ہوتا ہے۔

یا شاید لکڑیاں کاٹنے کے قواعد و فوائد وغیرہ پہ مضمون لکھنے بیٹھ گئے ہوں۔
یاز — اپریل 18، 2016 10:10 شام
لائبریری میں ڈیٹنگ کا بھی اپنا ہی مزہ ہو گا۔

چشمِ تصور سے دیکھیں تو خاصا رومانوی منظر ذہن میں آتا ہے۔
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:15 شام
کیوں کہ ہم یہاں جنگل میں غیر قانونی طریقے سے اپنے مامو کے ساتھ رہتے ہیں۔ صرف جنگل میں ہی گھومتے پھرتے ہیں۔ کسی شہر یا گائوں کی طرف بہت مدت ہو گئی ہے کبھی نہیں گئے۔
لیگل طریقے سے کیوں نہیں رہتے؟
زیک — اپریل 18، 2016 10:15 شام
چشمِ تصور سے دیکھیں تو خاصا رومانوی منظر ذہن میں آتا ہے۔
تصور کرنے کی کیا ضرورت ہے!
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:18 شام
میرا ایک اور انتہائی عام cultural reference اوپر سے گزر گیا۔ ایسا محفل پر کیوں ہوتا ہے؟؟
کیونکہ محفل کی اکثریت کا کلچرل ریفرینس آپکے گیلے کمبلوں سے بہت مختلف ہے :)
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:21 شام
دو خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
عبدالقیوم چوہدری — اپریل 18، 2016 10:21 شام
بالکل نہیں۔ حضرت کے ساتھ نام پر اضافی سمبل بھی لازم ہوتا ہے بقول شخصے۔

اک تے ایہہ شخصا لے کے بہہ گیا سانوں۔
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:32 شام
زیک
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 کی تعداد میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
حضرت عمر سے متعلق ایک روایت ہے کہ جب فارس فتح ہوا تو مسلم فوج کے سربراہ نے خط لکھ کر دریافت فرمایا کہ یہاں موجود کتب و کتب خانوں کا کیا جائے۔ اسپر حضرت عمر نے جواب بھیجا کہ اگر انکی کتب قرآن کے متصادم ہیں تو انہیں ضائع کر دیا جائے اور اگر متصادم نہیں تو ہمیں انکی ضرورت نہیں۔
آج ۱۴۰۰ سال بعد الباکستانی اس روایت پر پختگی سے عمل کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے علاوہ اور کوئی کتاب نہ زیادہ تعداد میں چھپتی ہے نہ بکتی ہے۔ اسٹینڈرڈ تدریس کی کتب بھی مجبوراً چھاپتے ہیں کہ انکو پڑھے بغیر پاس کیسے ہوں گے۔
عبداللہ محمد — اپریل 18، 2016 10:36 شام
اب لڑی اپنے ٹریک سے اتر ہی چکی چلو ہم بھی اپنی ٹانگیں اڑا ہی دیتے ہیں۔
زیک بھائی! میں بھی صرف ہمارے یہاں کا معاملہ بیان کر رہا ہوں۔ باقی دنیا میں تو جتنا میں نے دیکھا، تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں کتاب نظر آتی ہے (یا اب کِنڈل وغیرہ)۔ یہاں تو اخبار خرید کے پڑھنے والے بھی کم کم ہیں۔ کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم وغیرہ بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
لائبریریوں کے حال کچھ یوں ہے کہ ا پنے قصبے کی لائبریر ی گیا،پہلے تو مجھے معلوم ہی کچھ ماہ پہلے ہوا کہ قصبے میں لائبریری ہے اب جو وہاں گیا تو وہاں کتابوں سے زیادہ تعداد عملے کی تھی۔ جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں زیادہ تر پنجاب ٹیکسٹ بک تھیں۔ اب جو ان سے پوچھا لائبریری کا یہ حال تو کہنے لگے "پاء فنڈ نہیں ملدے" میں نے پوچھا "تنخواہ ملدی اے" کہتے "آہو" میں نے دل میں ہی کہا "چلو کھائی جاؤ" اسکے علاوہ ضلع (شیخوپورہ ) میں بھی کوئی خاص لائبریری نہیں۔
تصور کرنے کی کیا ضرورت ہے!
بقول شخصے" یہ نہ تھی ہماری قسمت وغیرہ"
کیونکہ محفل کی اکثریت کا کلچرل ریفرینس آپکے گیلے کمبلوں سے بہت مختلف ہے :)
یہ "گیلے کمبلوں" کا راز بھی افشاء ہو ہی جائے
اک تے ایہہ شخصا لے کے بہہ گیا سانوں۔
ناں بھائی شخصے کو کچھ نہیں کہنا بقول شخصے
اوندے نام لا کر
کھڈ لو دل دی بھڑاس جنی کھڈنی اے
arifkarim — اپریل 18، 2016 10:38 شام
لائبریریوں کے حال کچھ یوں ہے کہ ا پنے قصبے کی لائبریر ی گیا،پہلے تو مجھے معلوم ہی کچھ ماہ پہلے ہوا کہ قصبے میں لائبریری ہے اب جو وہاں گیا تو وہاں کتابوں سے زیادہ تعداد عملے کی تھی۔ جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں زیادہ تر پنجاب ٹیکسٹ بک تھیں۔ اب جو ان سے پوچھا لائبریری کا یہ حال تو کہنے لگے "پاء فنڈ نہیں ملدے" میں نے پوچھا "تنخواہ ملدی اے" کہتے "آہو" میں نے دل میں ہی کہا "چلو کھائی جاؤ" اسکے علاوہ ضلع (شیخوپورہ ) میں بھی کوئی خاص لائبریری نہیں۔
فنڈنز کتب کی بجائے ملازمین کھا جاتے ہیں تو لائبریری کیا خاک چلے گی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81.89427/page-3