اس لڑی کو شروع کرنے میں جن مشکلات کا سامنا ہماری نئی ممبر نے کیا ہے وہ یا تو وہی جانتی ہیں یا خُدا جانتا ہے ۔ اسے نہ بند کروا دینا بھائیو ۔
نہیں تو انسانیت سے رہتا سہتا اعتبار بھی اُٹھ جائے گا
ڈاکٹر صاحب کسی کے مافی الضمیر کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو یہ لڑائی جھگڑے کیوں ہوتے؟ میں نے صرف ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اور یہ سوال مبنی برحقیقت تھا۔ بجائے اس کے کہ سوال کو مسؤلہ ہی تک چھوڑا جاتا اور یا کم از کم کسی کو کوئی تکلیف پہنچی بھی تھی تو وہ معقول جواب دے کر بات ختم کرسکتاتھا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے میں نے اپنے کیفیت نامے میں کہا تھا ”بیڈ کنڈکٹر آف آزادیِ اظہارِ رائے“۔ تعلیم کے ساتھ صحبت نہ ہو تو ایسے روئیے باعث تعجب نہیں۔
ڈاکٹر صاحب کسی کے مافی الضمیر کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو یہ لڑائی جھگڑے کیوں ہوتے؟ میں نے صرف ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اور یہ سوال مبنی برحقیقت تھا۔ بجائے اس کے کہ سوال کو مسؤلہ ہی تک چھوڑا جاتا اور یا کم از کم کسی کو کوئی تکلیف پہنچی بھی تھی تو وہ معقول جواب دے کر بات ختم کرسکتاتھا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے میں اپنے کیفیت نامے میں کہا تھا ”بیڈ کنڈکٹر آف آزادیِ اظہارِ رائے“۔ تعلیم کے ساتھ صحبت نہ ہو تو ایسے روئیے باعث تعجب نہیں۔
ڈاکٹر صاحب کسی کے مافی الضمیر کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو یہ لڑائی جھگڑے کیوں ہوتے؟ میں نے صرف ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اور یہ سوال مبنی برحقیقت تھا۔ بجائے اس کے کہ سوال کو مسؤلہ ہی تک چھوڑا جاتا اور یا کم از کم کسی کو کوئی تکلیف پہنچی بھی تھی تو وہ معقول جواب دے کر بات ختم کرسکتاتھا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے میں اپنے کیفیت نامے میں کہا تھا ”بیڈ کنڈکٹر آف آزادیِ اظہارِ رائے“۔ تعلیم کے ساتھ صحبت نہ ہو تو ایسے روئیے باعث تعجب نہیں۔
اس لڑی کو شروع کرنے میں جن مشکلات کا سامنا ہماری نئی ممبر نے کیا ہے وہ یا تو وہی جانتی ہیں یا خُدا جانتا ہے ۔ اسے نہ بند کروا دینا بھائیو ۔
نہیں تو انسانیت سے رہتا سہتا اعتبار بھی اُٹھ جائے گا
ڈاکٹر صاحب کسی کے مافی الضمیر کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو یہ لڑائی جھگڑے کیوں ہوتے؟ میں نے صرف ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اور یہ سوال مبنی برحقیقت تھا۔ بجائے اس کے کہ سوال کو مسؤلہ ہی تک چھوڑا جاتا اور یا کم از کم کسی کو کوئی تکلیف پہنچی بھی تھی تو وہ معقول جواب دے کر بات ختم کرسکتاتھا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے میں نے اپنے کیفیت نامے میں کہا تھا ”بیڈ کنڈکٹر آف آزادیِ اظہارِ رائے“۔ تعلیم کے ساتھ صحبت نہ ہو تو ایسے روئیے باعث تعجب نہیں۔
ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مخصوص بیان پھر سے دہراتے ہیں کہ "اختلاف اس جہان کا حسن ہے"
اور ہم سب حسینائیں ہیں۔ نیز یہاں ہر وقت مقابلہء حسن جاری رہتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
اپنا اپنا موقف رکھنا ہر ایک کا حق ہے۔ نیز اپنا اپنا موقف (مناسب پیرائے میں) بیان کرنا بھی ہر ایک کا حق ہے۔
میرے خیال میں پریشانی اس وقت نہیں ہونی چاہئے جب کوئی ہم سے اختلاف کرے۔ پریشانی اس وقت ہونی چاہئے جب کوئی اختلاف نہ کر رہا ہو۔
بہت دعائیں وغیرہ
ہم خود تو آزادیء اظہار کے ہی قائل ہیں۔ بلکہ اس حد تک قائل ہیں کہ کوئی آزادیء اظہار کے خلاف رائے دے تو اس کے وہ رائے دینے کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔
تاہم
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر........ وغیرہ وغیرہ
یوسف سلطان — مارچ 16، 2017 5:05 شام
وعلیکم السلام
خوش آمدید
قرۃالعین اعوان — مارچ 16، 2017 7:42 شام
خوش آمدید ظل عرش
بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے محفل میں شمولیت اختیار کی۔۔۔!