میرا تعارف میری زبانی

گلزار خان — فروری 19، 2016 8:14 صبح
السلام علیکم
نام گلزار خیبر پختو نخوا پاکستان کا رہنے والا ہوں اور اردو سے بہت لگاو ہیے اور اردو لکھنے کی اور سیکھنے کی کوشیش کر رہا ہوں
حمیرا عدنان — فروری 19، 2016 8:18 صبح
خوش آمدید جناب گلزار خان
محفل میں خوش آمدید
تھوڑا تفصیل سے اپنے بارے میں بیان کریں تعلیمی قابلیت کے بارے میں اور شوق کیا کیا ہیں؟
محمد تابش صدیقی — فروری 19، 2016 8:18 صبح
محفل میں خوش آمدید
گلزار خان — فروری 19، 2016 8:34 صبح
تعلیم تو اتنی نہیں ھے لیکن جیسا کہ اپنے پوچھا تعلیمی قابلیت کے بارے میں شوق کیا کیا ہیں؟
میں یہ کہوں گا کہ علم اور عمل ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ھے جس نے علم حاصل نہین کیا اسکی زندگی کا کوئی مقسد نہیں ھے اور جس نے علم حاصل کیا ھے اس کہ لیے عمل بہت ضرورہ ھے علم کا مطلب صیح سے کچھ سیکھنا ھے اور جب تم کسی سے کچھ سیکھ چکے ہو تو تم پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ھے کے لوگوں تک پہنچاو یہ ایک روشن چراغ ھے اسکا نور اگے بھی منتقل کرو اور جب تک تم اس میں عمل کا انصار شامل نہیں کرو گے تو تم دوسروں تک نہیں پہنچاسکتے اس نور سے جہاں کو روشن کرنا اپ کا فرض ھے اور فرض کو قرض مت بنو نہیں تو یہ مرض بن جائے گا
حمیرا عدنان — فروری 19، 2016 8:39 صبح
سر جی شوق سے میری مراد آپ کے مشاغل کیا کیا ہیں
باباجی — فروری 19، 2016 8:41 صبح
خوش آمدید گلزار صاحب
محمدظہیر — فروری 19، 2016 8:47 صبح
خوش آمدید گلزار خان صاحب
تعلیم تو اتنی نہیں ھے لیکن جیسا کہ اپنے پوچھا تعلیمی قابلیت کے بارے میں شوق کیا کیا ہیں؟
میں یہ کہوں گا کہ علم اور عمل ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ھے جس نے علم حاصل نہین کیا اسکی زندگی کا کوئی مقسد نہیں ھے اور جس نے علم حاصل کیا ھے اس کہ لیے عمل بہت ضرورہ ھے علم کا مطلب صیح سے کچھ سیکھنا ھے اور جب تم کسی سے کچھ سیکھ چکے ہو تو تم پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ھے کے لوگوں تک پہنچاو یہ ایک روشن چراغ ھے اسکا نور اگے بھی منتقل کرو اور جب تک تم اس میں عمل کا انصار شامل نہیں کرو گے تو تم دوسروں تک نہیں پہنچاسکتے اس نور سے جہاں کو روشن کرنا اپ کا فرض ھے اور فرض کو قرض مت بنو نہیں تو یہ مرض بن جائے گا
علم، عمل اور تعلیم کے متعلق آپ کے زرین خیالات جان کر اچھا لگا
کامران عاشر — فروری 19، 2016 8:48 صبح
پخیر راغلے
خوش آمدید
گلزار خان — فروری 19، 2016 9:57 صبح
سر جی شوق سے میری مراد آپ کے مشاغل کیا کیا ہیں

خوش آمدید جناب گلزار خان
محفل میں خوش آمدید
تھوڑا تفصیل سے اپنے بارے میں بیان کریں تعلیمی قابلیت کے بارے میں اور شوق کیا کیا ہیں؟

I have a lot of hobbies of which three are my most favoured .They are reading, writing and when there's nothing else to do look up the ceiling ,wishing there were stars all over.
محمد تابش صدیقی — فروری 19، 2016 10:04 صبح
I have a lot of hobbies of which three are my most favoured .They are reading, writing and when there's nothing else to do look up the ceiling ,wishing there were stars all over.
کوشش کریں کہ اردو میں ہی تبادلۂ خیال کریں۔ اسی طرح اردو سیکھنے کی تمنا پوری ہو سکے گی۔ :)
کامران میمن — فروری 19، 2016 10:23 صبح
السلام علیکم
نام گلزار خیبر پختو نخوا پاکستان کا رہنے والا ہوں اور اردو سے بہت لگاو ہیے اور اردو لکھنے کی اور سیکھنے کی کوشیش کر رہا ہوں
خوش آمدید جناب
سید عمران — فروری 19، 2016 11:18 صبح
تعلیم تو اتنی نہیں ھے ۔۔۔۔
آج کے دور میں ہماری تسلی صرف سرٹیفکیٹ سے ہوتی ہے ۔ میں نے کئی اداروں میں کام کیا۔ سینکڑوں لوگوں کے انٹرویو کیے اور معاشرے کی یہ حقیقت سامنے آئی کہ تعلیم اور قابلیت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں ڈگری کی محتاج نہیں۔ علم کا جہاں بی اے ایم اے کی گنتی کی چند کتابوں سے بہت آگے ہے۔ میں نے گھر میں کام کرنے والے ملازمین، ریل ، بس میں سفر کرنے والے عام سے لوگ، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، پہاڑوں پر رہنے والے سادہ لوح افراد کو علم اور قابلیت میں ہزاروں ڈگری یافتہ لوگوں سے بڑھ کر پایا اور ان سے زندگی کے وہ سبق حاصل کیے جو ہزاروں کتابیں پڑھنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتے ۔ہمارا تعلیمی نظام چند گتابوں کا رٹا لگوا کر جو ڈگری دیتا ہے وہ زندگی کے تجربہ کی گرد کو بھی نہیں چھوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے بڑے بڑے کروڑ پتی گھرانے بھی اسکول کالج اور یونیورسٹی کے مروجہ نظام کے خلاف ہورہے ہیں اور اسے زندگی کے قیمتی سال برباد کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے امیر ترین آدمی کارلسن سلم اپنی زندگی کا ایک تجربہ یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کے سو ارب پتی وہ لوگ ہی بنے جو انسان کی صلاحیتوں کو منجمدکردینے والے اس نظام سے دور رہے۔
اس بحث کا حاصل یہ نہیں کہ اسکول کالج وغیرہ میں نہ پڑھا جائے بلکہ درس کی چند کتابوں کو کافی نہ سمجھا جائے اور جن کے پاس یہ ڈگریاں نہیں انہیں کسی طور بھی کم تر نہ سمجھا جائے۔
کامران میمن — فروری 19، 2016 11:22 صبح
آج کے دور میں ہماری تسلی صرف سرٹیفکیٹ سے ہوتی ہے ۔ میں نے کئی اداروں میں کام کیا۔ سینکڑوں لوگوں کے انٹرویو کیے اور معاشرے کی یہ حقیقت سامنے آئی کہ تعلیم اور قابلیت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں ڈگری کی محتاج نہیں۔ علم کا جہاں بی اے ایم اے کی گنتی کی چند کتابوں سے بہت آگے ہے۔ میں نے گھر میں کام کرنے والے ملازمین، ریل ، بس میں سفر کرنے والے عام سے لوگ، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، پہاڑوں پر رہنے والے سادہ لوح افراد کو علم اور قابلیت میں ہزاروں ڈگری یافتہ لوگوں سے بڑھ کر پایا اور ان سے زندگی کے وہ سبق حاصل کیے جو ہزاروں کتابیں پڑھنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتے ۔ہمارا تعلیمی نظام چند گتابوں کا رٹا لگوا کر جو ڈگری دیتا ہے وہ زندگی کے تجربہ کی گرد کو بھی نہیں چھوسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے بڑے بڑے کروڑ پتی گھرانے بھی اسکول کالج اور یونیورسٹی کے مروجہ نظام کے خلاف ہورہے ہیں اور اسے زندگی کے قیمتی سال برباد کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے امیر ترین آدمی کارلسن سلم بھی اپنی زندگی کا ایک تجربہ پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کے کئی ارب پتی لوگ وہ ہی بنے جو انسان کی صلاحیتوں کو منجمدکردینے والے اس نظام سے دور رہے۔
اس بحث کا حاصل یہ نہیں کہ اسکول کالج وغیرہ میں نہ پڑھا جائے بلکہ درس کی چند کتابوں کو کافی نہ سمجھا جائے اور جن کے پاس یہ ڈگریاں نہیں انہیں کسی طور بھی کم تر نہ سمجھا جائے۔
متفق
Sadia — فروری 19، 2016 11:40 صبح
خوش آمدید​
عبدالقیوم چوہدری — فروری 19، 2016 11:50 صبح
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ
جی آیاں نوں
ہر کلہ راشہ
محمد وارث — فروری 19، 2016 12:06 شام
خوش آمدید گلزار صاحب
عبداللہ امانت محمدی — فروری 19، 2016 12:23 شام
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته خوش آمدید
نایاب — فروری 19، 2016 12:48 شام
محترم گلزار خان صاحب اردو محفل پر دلی خوش آمدید
بہت دعائیں
زیک — فروری 19، 2016 12:59 شام
خوش آمدید گلزار
لاریب مرزا — فروری 19، 2016 2:23 شام
اردو محفل میں خوش آمدید :)
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C.88110/