تعلیم تو اتنی نہیں ھے ۔۔۔۔
آج کے دور میں ہماری تسلی صرف سرٹیفکیٹ سے ہوتی ہے ۔ میں نے کئی اداروں میں کام کیا۔ سینکڑوں لوگوں کے انٹرویو کیے اور معاشرے کی یہ حقیقت سامنے آئی کہ تعلیم اور قابلیت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں ڈگری کی محتاج نہیں۔ علم کا جہاں بی اے ایم اے کی گنتی کی چند کتابوں سے بہت آگے ہے۔ میں نے گھر میں کام کرنے والے ملازمین، ریل ، بس میں سفر کرنے والے عام سے لوگ، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، پہاڑوں پر رہنے والے سادہ لوح افراد کو علم اور قابلیت میں ہزاروں ڈگری یافتہ لوگوں سے بڑھ کر پایا اور ان سے زندگی کے وہ سبق حاصل کیے جو ہزاروں کتابیں پڑھنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتے ۔ہمارا تعلیمی نظام چند گتابوں کا رٹا لگوا کر جو ڈگری دیتا ہے وہ زندگی کے تجربہ کی گرد کو بھی نہیں چھوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے بڑے بڑے کروڑ پتی گھرانے بھی اسکول کالج اور یونیورسٹی کے مروجہ نظام کے خلاف ہورہے ہیں اور اسے زندگی کے قیمتی سال برباد کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے امیر ترین آدمی کارلسن سلم اپنی زندگی کا ایک تجربہ یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کے سو ارب پتی وہ لوگ ہی بنے جو انسان کی صلاحیتوں کو منجمدکردینے والے اس نظام سے دور رہے۔
اس بحث کا حاصل یہ نہیں کہ اسکول کالج وغیرہ میں نہ پڑھا جائے بلکہ درس کی چند کتابوں کو کافی نہ سمجھا جائے اور جن کے پاس یہ ڈگریاں نہیں انہیں کسی طور بھی کم تر نہ سمجھا جائے۔