ہاں نا بھائی۔۔۔
جو خواہش یا ضرورت وقت پر پوری نہ ہو ، حسرت بن جاتی ہے۔
اور حسرتیں تو خوب نکالی جاتی ہیں نا کہ اگلی پچھلی کسر ختم ہو جائے۔
ہاں نا بھائی۔۔۔
شلوار قمیض یا ٹراؤزر قمیض ۔۔۔ دوپٹہ کے ساتھ۔
یوں تو تانگہ کی سواری پسند ہے شوقیہ کبھی کبھار۔ لیکن سفر کے لئے ذاتی گاڑی۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں نہ یہاں اور نہ پاکستان میں سفر کر سکتے ہیں۔
صرف اور صرف اپنے۔
اللہ پاک کا شکر ادا کر کے۔۔ اور صدقہ نکال کر۔
دوغلے پن پر۔۔۔
خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ پہلا ردِ عمل ہے۔






ارمان؟
ڈنمارک کی ایس ٹرین ناپسند ہے؟
یہ تو ابھی کچھ آسان سوال پوچھے ہیں۔
حالانکہ دیکھا جائے تو آپ کو سمجھ جانا چاہئیے تھا کہ لکھنے میں غلطی ہوئی ہے۔تدوین کر دیجئیے زیک بھائی۔اچھا نہیں لگ رہا ہمیں۔
تو مشکل بھی پوچھ لیں۔ لیکن کم سے کم پہلے ہمیں تو بتا دیا جائے کہ اس کے عوض کون سی "ٹرافی" ہماری منتظر ہے؟؟؟
نا پسند تو نہیں۔۔۔ لکھتے ہوئے ہم نے "بس" کو ذہن میں رکھا تھا۔ یوں سمجھئیے کہ کبھی ضرورت بھی نہیں پڑی شاید۔ کئی وجوہات ہیں۔
ارمان ہی سمجھئیے کیونکہ توڑ پھوڑ تو بچوں کا من پسند مشغلہ ہوتا ہے نا۔۔۔ کچھ پرے پھینک دینا اور منہ بسورنا " میں نہیں کھانا" یا ایسا ہی کوئی ملتا جلتا جملہ۔
بہت شکریہ قدیر بھائی
آپ کا انتظار ختم ہوا ۔ ہم نے جواب دے دئیے ہیں۔
اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور ہمت و حوصلہ عطا فرمائیں آمین
پہلے نہیں پتہ تھا۔۔۔ لیکن اب پتہ چل گیا نا آپ کو ۔




وہی تو سیما آپا۔۔۔۔ انھیں تو جیسے سب پتہ ہے کہ کوئی کیسے خوش رہ سکتا ہے۔
آمین ثم آمین
آپ کے جوابات سے معلوم ہوا کہ آپ کے لیے مشکل نہ ہوں گے۔