٢۔ کیا ایک بہن اور ہوتی کی خواہش ہے؟
نہیں۔۔۔ ایسی کوئی خواہش نہیں جاگی کبھی دل میں۔ کیونکہ اگر ایسی خواہش کبھی دل میں پیدا ہوئی ہوتی تو کم سے کم ایک تو بہن نما سہیلی ہوتی زندگی میں۔
۴۔ سب سے قابل فخر کام جو اب تک کیا ہو؟
اپنی نظر میں قابلِ فخر کام ۔۔۔۔ ہم کام کو انجام تک پہنچا کر بھول جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ اس نے کوئی قابلِ فخر کام کر لیا ہے تو آگے کی جستجو ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارا سفر لمبا ہے ابھی ، بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔۔۔ ہاں جب ہمت ختم ہو گئی اور تھک ہار کر بیٹھے تو ماہ و سال کے گوشوارے کھولیں گے ۔۔۔ خسارے بھی گنیں گے اور قابلِ فخر کام بھی۔
فیملی کی نظر میں ہمارا قابلِ فخر کام جس کے لئے بہت تعریفی کلمات سننے کو ملتے ہیں ، وہ ہمارا اپنی تمام فیملی کو یکجا رکھنا ہے۔ اس کے لئے ایک دن مخصوص کرتے ہیں اور اس دن سب کو آپس کی رنجسشیں بھلا کر آنا ہوتا ہے۔ خاصا لمبی تفصیل ہے اس کی۔ کسی کو خواہش ہوئی سننے کی تو بتائیں گے ان شاء اللہ
۵۔ ہم کسی سے کم نہیں ہیں میں کسی پر اپنی برتری ثابت کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ بات سکون و اطمینان کے قریب ہے یا انا کی تسکین کے قریب؟
نہ سکون نہ برتری۔۔۔ انا کی تسکین کرنے کو خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
"ہم کسی سے کم نہیں" محض ایک سادہ سا جملہ ہے جس میں ہمیں تو کوئی برتری نظر نہیں آ رہی۔
یوں سادہ سی مثال ہے۔۔۔ بہت سارے قابل لوگ ہیں، ہر کوئی کسی نہ کسی چیز میں ماہر ہے۔ ایسے میں ہم اپنا ہنر پیش کرتے ہیں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتے ہوئے۔۔۔ کہ ہم کسی سے کم نہیں۔
اب یہ پڑھنے سننے والے پر منحصر ہے کہ وہ کس سینس میں بات کو لے۔ ہم جو کہتے ہیں ، مطلب وہی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی برتری ظاہر کرنا یا انا کی تسکین نہیں ہوتی