ہوئےیوںکچھ اس واردطرح

زینب — مارچ 18، 2008 8:40 صبح
جناب سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ اپنے بچوں‌کی تعریف" امیوں" کا جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ اپنے بچوں سے امیوں‌کی اندھی محبت ہوتی ہے جس کے پیچھے بچوں‌کی ساری برایئاں چھپ جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد — مارچ 18، 2008 10:13 صبح
ارے وی تو، میں بھی تو وہی جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ خود ہی بتاؤ گی کہ تمہاری امی کی خدمت میں درخواست بھیجنی پڑے گی۔
یونس رضا — مارچ 18، 2008 2:00 شام
ویسے پا جی ! بڑی جرات والا کام دے دیا ہے زینب بی بی کو
زینب — مارچ 18، 2008 3:15 شام
جی نہیں ڈاکٹر صاحب میں بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہوں‌ماشاللہ۔۔پوچھیں جو پوچھنا ہے جھٹ سے بتا دوں گی آپ کی چرح جواب گول نہیں کروں گی
شمشاد — مارچ 18، 2008 4:13 شام
تمہارے تعارف کا دھاگہ کہاں ہے؟ میرا خیال ہے ادھر جا کر سوال جواب کرتے ہیں۔
ویسے تمہارے تعارف کا دھاگہ ہے بھی یا نیا کھولوں؟
زونی — مارچ 19، 2008 2:50 شام
راز کی باتئں نہ پوچھا کریں خواتین سے ! ۔۔۔۔۔۔۔
عمر کبھی صحیح بتائی ہے کسی نے ؟ تو باقی بات کا تو اللہ ہی حا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فظ ہے


تو آپ نے کیا اپنی عمر کے پوسٹر لگوائے ہوئے ہیں محفل پہ;)
زونی — مارچ 19، 2008 2:54 شام
اور وہ سچ ہوتا کیا ہے، ہمیں بھی تو بتائیں۔

شمشا د بھائی ایسی باتوں پہ پردہ ہی رہے تو اچھا ہوتا ھے :grin: ویسے سب سے بڑا اور مسلم سچ سبح دیر سے اٹھنے کے متعلق ہوتا ھے:grin:
شمشاد — مارچ 19، 2008 4:06 شام
تو آپ بھی انہیں میں شامل ہیں؟
یہاں بھی 99 فیصد خواتین کے پاس سونے کا (بستر والا، پہننے والا نہیں) اور ساس/نند فری زون کا ویزہ ہے۔
یونس رضا — مارچ 19، 2008 10:48 شام
بہو دفعتا "ساس" لگنے نگی ہے
جوانی میں "بکواس"لگنے لگی ہے
جو خاتون کل تک بڑی ماڈرن تھی
نری "نارمل پاس" لگنے لگی ہے
املتاس پر گھاس لگنے لگی ہے
کہ "مہناز" "منہاس" لگنے لگی ہے
:):):):)
شمشاد — مارچ 20، 2008 2:22 صبح
یہ کیا " آمد " ہوئی ہے؟
یونس رضا — مارچ 20، 2008 11:45 صبح
یہ کیا " آمد " ہوئی ہے؟

یہ آمد ہم پر تو نہیں ہوئی ہم نے کسی کی امد کو برامد کیا ہے ۔۔۔ مگر غور طلب ہے۔۔۔۔۔ تعلق اس کا اسی صفحے کے ایک پیغام سے ہے ۔۔۔۔ ;)
زونی — مارچ 20، 2008 2:21 شام
یہ آمد ہم پر تو نہیں ہوئی ہم نے کسی کی امد کو برامد کیا ہے ۔۔۔ مگر غور طلب ہے۔۔۔۔۔ تعلق اس کا اسی صفحے کے ایک پیغام سے ہے ۔۔۔۔ ;)

کبھی سیدھی بات بھی کر دیا کریں ڈاکٹر صاحب ، بخیے ادھیڑنے کی عادت نہیں گئی آپکی;):grin:
زونی — مارچ 20، 2008 2:23 شام
تو آپ بھی انہیں میں شامل ہیں؟
یہاں بھی 99 فیصد خواتین کے پاس سونے کا (بستر والا، پہننے والا نہیں) اور ساس/نند فری زون کا ویزہ ہے۔

یہ ساس نند فری زون کی سمجھ نہیں آئی:confused:
زونی — مارچ 20، 2008 2:27 شام
بہو دفعتا "ساس" لگنے نگی ہے
جوانی میں "بکواس"لگنے لگی ہے
جو خاتون کل تک بڑی ماڈرن تھی
نری "نارمل پاس" لگنے لگی ہے
املتاس پر گھاس لگنے لگی ہے
کہ "مہناز" "منہاس" لگنے لگی ہے
:):):):)

سبحان اللہ یہ اپکی اپنی کاوش تو نہیں;)
شمشاد — مارچ 20، 2008 10:11 شام
یہ ساس نند فری زون کی سمجھ نہیں آئی:confused:

پاکستان میں جب کوئی لڑکی بیاہ کر سسرال جاتی ہے تو کچھ دن تو بڑی آؤ بھگت میں گزرتے ہیں۔ اس کے بعد وہی روائتی سلوک شروع ہو جاتا ہے۔ جن میں ایک طرف ساس، ایک طرف نندیں، ایک طرف بہو ہوتی ہیں۔ سسر اور خاوند تو بس تماشایوں میں شامل ہوتے ہیں۔
اب بہو صبح میں دیر سے اٹھنے کی عادی ہے کہ اتنے میں ہمسائی اپنے گھر کا جھاڑو پوچا کر کے آ جاتی ہے اور ساس کے پاس بیٹھ کر دوسری بات یہ کرتی ہے " اے بہو ابھی تک اٹھی نہیں، ابھی تک پڑی سو رہی ہے۔" کچھ ایسے ہی حملے نندوں کی طرف سے بھی ہوتے ہیں " پہلے تو بھیاء ایسے نہ تھے۔" تو زونی جی یہ ساری باتیں یہاں نہیں ہوتیں۔ یہاں تو میاں صاحب صبح میں دفتر کو نکلے، بچے اسکول گئے اور خاتون خانہ پھر لمبی تان کر سو گئیں۔ نہ تو یہاں جھاڑو دینا پڑتی ہے اور نہ ہی پوچا لگانا پڑتا ہے۔ یہاں نہ ساس ہے نہ نندیں۔ تو ہوا نا یہ " ساس نند فری زون" زونی جی۔
زینب — مارچ 22، 2008 3:09 شام
تمہارے تعارف کا دھاگہ کہاں ہے؟ میرا خیال ہے ادھر جا کر سوال جواب کرتے ہیں۔
ویسے تمہارے تعارف کا دھاگہ ہے بھی یا نیا کھولوں؟

ہمارے تعارف کے لی اتنا کافی ہے شکیب
ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں جو عام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔:grin:
پہا جی میں جلیبی کی طرح سیدھی ہوں اپ کو اسانی سے سمجھ آجاؤں گی
شمشاد — مارچ 22، 2008 5:41 شام
یہ جلیبی دیسی گھی میں تلی ہوئی ہے یا بناسپتی گھی میں؟
زونی — مارچ 22، 2008 7:37 شام
پاکستان میں جب کوئی لڑکی بیاہ کر سسرال جاتی ہے تو کچھ دن تو بڑی آؤ بھگت میں گزرتے ہیں۔ اس کے بعد وہی روائتی سلوک شروع ہو جاتا ہے۔ جن میں ایک طرف ساس، ایک طرف نندیں، ایک طرف بہو ہوتی ہیں۔ سسر اور خاوند تو بس تماشایوں میں شامل ہوتے ہیں۔
اب بہو صبح میں دیر سے اٹھنے کی عادی ہے کہ اتنے میں ہمسائی اپنے گھر کا جھاڑو پوچا کر کے آ جاتی ہے اور ساس کے پاس بیٹھ کر دوسری بات یہ کرتی ہے " اے بہو ابھی تک اٹھی نہیں، ابھی تک پڑی سو رہی ہے۔" کچھ ایسے ہی حملے نندوں کی طرف سے بھی ہوتے ہیں " پہلے تو بھیاء ایسے نہ تھے۔" تو زونی جی یہ ساری باتیں یہاں نہیں ہوتیں۔ یہاں تو میاں صاحب صبح میں دفتر کو نکلے، بچے اسکول گئے اور خاتون خانہ پھر لمبی تان کر سو گئیں۔ نہ تو یہاں جھاڑو دینا پڑتی ہے اور نہ ہی پوچا لگانا پڑتا ہے۔ یہاں نہ ساس ہے نہ نندیں۔ تو ہوا نا یہ " ساس نند فری زون" زونی جی۔

ہاہاہا کیا نقشہ کھنچا ھے شمشاد بھائی ، لیکن دیر سے اٹھنا باعث تضاد نہیں ہونا چاھہیئے ، اس عادت کو تو ضرورت پڑنے پر ختم بھی کیا جا سکتا ھے :)
شمشاد — مارچ 22، 2008 7:43 شام
عادتیں جب پک جائیں تو پھر انہیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور خاص کر ان حالات میں - نتیجہ ساس / بہو کی صدیوں پرانی نہ ختم ہونے والی سرد و گرم جنگ کی صورت میں نکلتا ہے۔
زینب — مارچ 23، 2008 3:39 صبح
یہ جلیبی دیسی گھی میں تلی ہوئی ہے یا بناسپتی گھی میں؟

بناسپتی میں پہا جی۔۔۔۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92%DB%8C%D9%88%DA%BA%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A7%D8%B3-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%B7%D8%B1%D8%AD.10399/page-5