انٹرویویاز بھائی کا انٹرویو

یاز — مئی 22، 2025 7:48 شام
میں سمجھا میرے اعزاز میں مجھے جاپان کی یاد دلوائی جا رہی ہے!
واہ رے قسمت!
وہی تو کیا ہے بھائی۔
ورنہ ہم تو ہمیشہ ڈائیوو کی بیٹری استعمال کرتے ہیں۔
عرفان سعید — مئی 22، 2025 7:50 شام
عموماً پنجابی بولتا ہوں
ارے واہ!
کچھ دوست احباب ایسے ہیں کہ ان سے باجود کوشش کے اردو میں بات کرنا رواں محسوس نہیں ہوتا اور ان چنیدہ لوگوں سے صرف پنجابی میں ہی بات کرتا ہوں۔
مریم افتخار — مئی 22، 2025 7:51 شام
Law of mathematical induction کے تحت اب ایک رینڈم لبرے کو دیکھنا پڑے گا۔
چلیں ٹھیک ہے اگر ایک رینڈم لبرے سے تسلی بخش ڈیٹا نکل آئے۔ ورنہ میں تو تمام محفلین اور مہمان لبروں کا ایک Randomized Complete Block Design بنا کر نئی لڑی اس ریسرچ کے اعزاز میں کھولنے لگی تھی!
عرفان سعید — مئی 22، 2025 7:56 شام
6) آپ نے والد محترم کے کہنے پر الیکٹریکل انجنئیرنگ پڑھی۔ کیا اب آپ اپنی فیلڈ میں خوش اور مطمئن ہیں اور موجودہ مقام تک پہنچنے سے پہلے کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟ مزید یہ کہ کیا ہم آپ کی بھی جاب پروفائل دیکھ سکتے ہیں؟

خوش اور مطمئن ہونے کا سوال کافی مشکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ چوائسز میسر نہیں ہیں۔ یعنی یوں سمجھیں کہ بہت سے لوگوں کے ارمان یا aptitude کسی اور شعبے کا ہوتا ہے، تاہم معاشرتی دباؤ یا اثرات کے نتیجے میں ان کو انجینئرنگ یا میڈیکل کا فیلڈ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر کیس میں والدین کا بھی حد درجہ دباؤ ہوتا ہے۔ تو خیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ سکون و اطمینان ہی ہے۔ اور مشکلات تقریباً وہی رہیں کہ جو ہمارے ہاں ایک عام طالب علم کو رہتی ہیں۔ ایف ایس سی میں نمبروں کی ٹینشن، پھر داخلوں کی کوششیں، تعلیم کے بعد کچھ عرصے کی بیروزگاری اور اِدھر اُدھر کے دھکے۔
اس سوال و جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبعیت کے فطری رجحان کو دبا کر شعبۂ تعلیم اور روزگار کو اختیار کیا۔
فطری میلان کس جانب تھا اورمیدانِ روزگار میں کون سا کھیل کھیلنا چاہتے تھے؟
یاز — مئی 22، 2025 8:07 شام
اس سوال و جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبعیت کے فطری رجحان کو دبا کر شعبۂ تعلیم اور روزگار کو اختیار کیا۔
فطری میلان کس جانب تھا اورمیدانِ روزگار میں کون سا کھیل کھیلنا چاہتے تھے؟
یہی میں عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خود بھی یہ جاننا غیر ضروری (یا ناممکن سا) ہوتا ہے کہ اپنا میلانِ طبع معلوم کیا جا سکے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے دو چار افراد بھی مشکل سے ملیں گے، جو شاعری، مصوری یا دیگر فنون کو ایز سے پروفیشن اپنانا چاہیں گے۔ اور فنون کو چھوڑیں، اپنی پسند سے عربی، فارسی یا فرنچ سیکھ کے اس کو بھی کون پیشہ بنانا چاہتا ہو گا۔
ایک امید یا اندازہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کے اثرات کی بدولت شاید اب اس ضمن میں کچھ تبدیلی آ رہی ہو گی۔
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:11 شام
یہی میں عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خود بھی یہ جاننا غیر ضروری (یا ناممکن سا) ہوتا ہے کہ اپنا میلانِ طبع معلوم کیا جا سکے۔
کیا میں درست سمجھا ہوں کہ تب آپ پر اپنا میلانِ طبع واضح نہیں تھا۔؟
اگر ایسا ہی ہے تو بالفرض وقت پلٹ دیا جائے اور آج آپ اپنے میلان طبع کے متعلق جو جانتے ہیں، اس کی روشنی میں آپ کس میدان کا انتخاب کرتے؟
یاز — مئی 22، 2025 8:13 شام
کیا میں درست سمجھا ہوں کہ تب آپ پر اپنا میلانِ طبع واضح نہیں تھا۔؟
اگر ایسا ہی ہے تو بالفرض وقت پلٹ دیا جائے اور آج آپ اپنے میلان طبع کے متعلق جو جانتے ہیں، اس کی روشنی میں آپ کس میدان کا انتخاب کرتے؟
فارسی زبان و ادب کا۔
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:18 شام
فارسی زبان و ادب کا۔
واہ جناب!
فارسی کب سیکھی؟
یاز — مئی 22، 2025 8:22 شام
واہ جناب!
فارسی کب سیکھی؟
اے کاش!!!
سیکھی ہی تو نہیں۔
🫣
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:24 شام
بہت اچھا کیا فارسی زبان کے لیے!
یاز — مئی 22، 2025 8:27 شام
بہت اچھا کیا فارسی زبان کے لیے!
یقیناً یہ فارسی کے حق میں بہت بہتر ہوا ہے۔
مریم افتخار — مئی 22، 2025 8:28 شام
یقیناً یہ فارسی کے حق میں بہت بہتر ہوا ہے۔
خدا آباد رکھے فارسی کو
کیسے انمول ہیرے کھو گئی ہے
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:32 شام
تفنن برطرف لیکن آپ کے مراسلہ جات میں اکثر فارسی کی تراکیب ، مصرعے اور شعر وغیرہ دکھائی دیتے رہے ہیں، اس سے آپ کا رجحان تو معلوم ہوتا ہی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مجھے عربی اور فارسی سیکھنے کی شدید خواہش تھی۔ لیکن خواہش ہی رہ گئی۔کیمسٹری سے جو محبت ہوئی تھی، بس وہی زندگی بھر کے لیے ساتھ رہ گئی۔
مریم افتخار — مئی 22، 2025 8:34 شام
۔کیمسٹری سے جو محبت ہوئی تھی، بس وہی زندگی بھر کے لیے ساتھ رہ گئی۔
محبت مل جائے تو زیادہ نقصان تو نہیں ہوتا؟
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:37 شام
محبت مل جائے تو زیادہ نقصان تو نہیں ہوتا؟
اب اتنا بھی کیا ڈرنا!
مریم افتخار — مئی 22، 2025 8:38 شام
اب اتنا بھی کیا ڈرنا!
ڈر کے آگے جیت ہے یا نہیں یہ تو بتاتے جائیں!!!!!!!!
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:40 شام
اِن سومنیا کہنے کو تو دل نہیں مانتا۔ بس کالج کے دور سے عادت سی ہو گئی ہے۔
اور زیادہ سونے کی خواہش تو بہت ہوتی ہے جناب۔ ہقین کیجئے کہ روزانہ صبح اٹھ کر تہیہ کرتا ہوں کہ آج رات جلد سوؤں گا۔ تاہم رات کو پھر وہی۔
گلزار کے الفاظ میں
شوق خواب کا ہے تو نیند آئے نہ
گلزار ہی کا ایک گیت مایا میم صاب نامی فلم میں تھا، وہ بھی کچھ حسبِ حال سا لگتا ہے۔
میرے سرہانے جلاؤ سپنے
مجھے ذرا سی تو نیند آئے
اوسطا کتنا سوتے ہیں؟
عرفان سعید — مئی 22، 2025 8:44 شام
ڈر کے آگے جیت ہے یا نہیں یہ تو بتاتے جائیں!!!!!!!!
ڈر کے آگے جیت ہے،
لیکن اگر بیوی ناراض ہو تو پھر ڈر ہی ڈر ہے!
یاز — مئی 22، 2025 8:47 شام
محبت مل جائے تو زیادہ نقصان تو نہیں ہوتا؟
اتنا نہیں ہوتا جتنا تیزاب و اساس کے مل جانے سے ہوتا ہے کہ بس اشک ہی بچتے ہیں یعنی پانی و نمک وغیرہ۔
یاز — مئی 22، 2025 8:48 شام
اوسطا کتنا سوتے ہیں؟
تین سے چار گھنٹے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D8%A7%D8%B2-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88.101653/page-12