حدود اربعہ وی دسو تا کہ زانوئے تلمذ وغیرہ۔۔۔ (مینوں تے ایہہ انسیکٹیسائیڈ لگ رئی اے)
حدود اربعہ وی دسو تا کہ زانوئے تلمذ وغیرہ۔۔۔ (مینوں تے ایہہ انسیکٹیسائیڈ لگ رئی اے)
سچ کہوں تو سلیبرٹی یا سینیئر ٹائپ بننے کا شوق ہمیں کبھی نہیں رہا۔
شبھ گھڑی کا
عبداللہ محمد بھائی تسی تے مہورت کڈھائی بیٹھے سی!!!
2001 کی۔ مینیو میں ایک ایک روپے کی دو روٹیاں اور ہر روٹی کے اوپر دو دو روپے کا پالک نما سالن۔
واہ واہ واہ۔ اگرچہ آپ نے کبھی مشق سخن نہ دکھائی مگر جو سخن کے پیچھے خوب صورت سوچ ہوتی ہے وہ یہی ہے!
شندور ٹاپ یا شندور پاس 3700 میٹر بلندی پہ گلگت اور چترال کے درمیان واقع ہے۔ یہ بھی خنجراب کی طرح ایک وسیع نسبتاً ہموار ایریا ہے۔ ایک عدد جھیل بھی ہے، اور شندور پولو گراؤنڈ وغیرہ بھی۔ سیزن میں یہاں بھی ٹینٹ ولیج لگتا ہے، تاہم ابھی اس کی سڑک دونوں سائیڈ سے زیرِ تعمیر ہے تو اپنی گاڑی پہ جانا کچھ مشکل ہے۔
یہ ہو گیا تھا نا، اسی لڑی میں ہی۔
کورونا کے دنوں میں کچھ اور ایکٹیوٹی خاص نہ تھی تو کتب، موویز وغیرہ پہ کافی ہاتھ صاف کیا۔
پراگریس کیا ہونی ہے، پہلے حالوں وی رہ گئے، کہ ہن
جی یہی وجہ ہے۔
ہن سپیشل پیکج لاندے نیں؟
شور اور ڈسٹربینس کم ہوتا ہے، اسی وجہ سے ،😂
جا کے دیکھا کہ حساب لگایا؟
پیاڑوں سے زیادہ کچھ نہیں۔
اے وقت رک جا، تھم جا، ٹھہر جا
کچھ پانی تو ہے، بس بحث اس پہ ہے کہ یہ پانی ہے یا HOH, یا H2O یا ڈائی ہائیڈروجن آکسائیڈ
کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا