میں نے کب کہا کہ میں اوبسیسڈ ہوں؟
کدرے a ای نہ بنا دیوے۔
ایسا لگا ہمیں!!!
بقول ہاشمی بھائی میں میں اسکا ذمہ دار ہوں جسکا میں نے کہا نہ اسکا جو آپ نے سمجھا۔ وغیرہ وغیرہ
آپ نے تو نہیں کہا مگر آپ کے باقی کے 11 ہزار 6 سو 70 مراسلہ جات وغیرہ۔۔۔
ہاں جی پائی ذمہ داری ساڈی ای اے!
میں تو تابش ہاشمی سوچ رہی تھی۔۔۔
اور ہم تبسم ہاشمی
مجھے آج ان کا پورا نام معلوم ہوا ۔ ذوق اچھا ہے!
🤓🤓🤓🤓
😅😅😅😅😅😅
ایک وقت تھا کہ میں ہمیشہ اس نکتے پہ سوچتی تھی اور جہاں موقع ملے پوچھتئ تھی۔ پھر اپنی سپروائزر سے تقریبا دو سال قبل پوچھا تو انہوں نے ذرا حوصلہ شکنی کی اور دوبارہ یہ سوال زبان پر نہ لائی۔ اب محفل بند ہو رہی ہے اور میرے اندر کا نارمل انسان لمبی تان کر جا سویا ہے تو کیوں نہ سوال دہرا لیا جائے: وہ پوچھنا یہ تھا کہ جس طرح کائنات کی اینٹراپی بڑھتی رہتی ہے، کیا ایسے ہی انسانی زندگی میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید ڈس-آرڈر بڑھتا رہتا ہے؟ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ شاید پہلے مسئلے حل نہیں ہوئے ہوتے اور مزید مسئلے آتے رہتے ہیں اور زندگی عمر کے ساتھ ساتھ پیچیدہ تر ہی ہوتی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں کہ ہیومن لائف میں اینٹراپی بائی ڈائریکشنل ہو سکتی ہے یا ہوتی ہے؟
اینٹراپی نیچرل ڈس آرڈر کی بات کرتی ہے۔ انسانی کاوشیں تو ہیں ہی اس پہ بند باندھنے یا اس کو ریورس کرنے کی۔ سولائزیشن کا ارتقاء کیا ہے؟ غیرمنظم کو منظم کرنے کی سعیٔ مسلسل۔
بولے تو!!
اگر انسان وقت کے ساتھ اللہ کریم ،جو کہ مرتب الاحوال اور محول الاحوال ہیں یعنی انسان کے احوال کو مرتب اور تبدیل کرنے والے ہیں، کی عطا کردہ توفیق سے اپنے احوال کو منظم و مرتب کر سکے تو مسائل کم ہو جاتے ہیں۔