نہیں تو بھلا اس انٹرویو سے کیا ہوگا-پہلے تو منٹو کے افسانے سعادت حسن منٹو: بادشاہت کا خاتمہ کا یہ اقتباس پیش کریں کہ اس سے بہتر انداز میں اس کیفیت کو بیان کرنے کا شائد ہی کوئی طریقہ ہو-
اصل میں جب جب عنفوانِ شباب کے زیریں دور میں ان سے تعارف ہوا تو بقول امین صدیق بھائی انکی ہمہ جہتی گوناگوں سے معمور شخصیت سے مرعوب وغیرہ ہو کر ہم تو انکے پنکھے اے سی ائیر کولر وغیرہ سبھی کچھ ہو گئے- اور اسپر انکی جاسوسانہ پر اسراریت (جو کہ اب کافی کم ہو چُکی) کے سبب ان ملنے کی خواہش بدرجہ اتم موجود تھی- پھر آہستہ آہستہ یہ بات واضح ہوتی گئی کہ سکرین سے آپ جو خاکہ کھینچ رہے ہیں سکرین سے پیچھے والا شخص وہی ہوگا یہ تقریباً نا ممکنات میں سے ہے- لہذا ادارہ اپنے اسی یازغل والے بُت کو سینے سے لگائے اور ان سے ملنے کی خواہش کو دل میں دبا کر جئیے جانا چاہتے ہے-
یہ الگ بات ہے کہ اس مراسلے لکھتے ہوئے بھی شدید خواہش ہو رہی کہ انکو میسج کروں کہ ایک دو دن میں سلاما باد آ رہا مونال پر افطاری ہی کروا دیں- لیکن وغیرہ وغیرہ !!
اصل میں جب جب عنفوانِ شباب کے زیریں دور میں ان سے تعارف ہوا تو بقول امین صدیق بھائی انکی ہمہ جہتی گوناگوں سے معمور شخصیت سے مرعوب وغیرہ ہو کر ہم تو انکے پنکھے اے سی ائیر کولر وغیرہ سبھی کچھ ہو گئے- اور اسپر انکی جاسوسانہ پر اسراریت (جو کہ اب کافی کم ہو چُکی) کے سبب ان ملنے کی خواہش بدرجہ اتم موجود تھی- پھر آہستہ آہستہ یہ بات واضح ہوتی گئی کہ سکرین سے آپ جو خاکہ کھینچ رہے ہیں سکرین سے پیچھے والا شخص وہی ہوگا یہ تقریباً نا ممکنات میں سے ہے- لہذا ادارہ اپنے اسی یازغل والے بُت کو سینے سے لگائے اور ان سے ملنے کی خواہش کو دل میں دبا کر جئیے جانا چاہتے ہے-
یہ الگ بات ہے کہ اس مراسلے لکھتے ہوئے بھی شدید خواہش ہو رہی کہ انکو میسج کروں کہ ایک دو دن میں سلاما باد آ رہا مونال پر افطاری ہی کروا دیں- لیکن وغیرہ وغیرہ !!


